8 7٦
.
ہے سے
٠ ۸
ور : موی کا ایک انددوی حصن جنر اض ال کے برابر داع ہے یہاں
آفضرت لن الن لوگ ںکواسلا می تھلیمات اود درل د اکر تے تے جودخوی اط
ےنجب ےگ ایما نکی دوات سے سرشارتے۔ بیلوگ اصحاب صڈکہلاتے تے_
سی مناسبت سے ہی معقاماسحاب صف کھلاتا ے۔ ۱
۱ ہشم اللہ الرّحُمٰن الرّحیٔم
انْحمْة لِلَه رّبَ العَالَمیْنَ وَالصّلوة وَالمَلامٌ عَلی رَسُولِہ اللکریٔمٴ ٹل
نی رپ حفرتہئو یل ال علیہ مکی یرت پا ک ایک ایام ضوع ےجس
پہ بے شارلڑکوں نکیا ےاوریا امم تکک ال سعاد تکا سلملہ جار رےگا-
یر وضو جی پگواییا ہےکہچاہ ےا پ ہت گی اورجتا یں بی
مرن 7مم اکا اید ڈگ یپاک ماحیات
طببہ کے اگوھ ہیں اور ہ رگوئے کے ات قا ےکر یک ہے گی
نی سکرس اراس نے اس موضو مکاح اداکردیا۔ یہا تذدتی حال ےکہ
کرشہ رام دل بئ یکشخ رکہ چا ایچاست
أُردوز پان یں اس م وضو پر بہت یکا ڑیں موجود ہیں ۔آسا نبھیمضکل
بھی ہق ھی اور طول یبھی مان کیک سے سے ول می لٹ یک یکوئ کاب
اس زان می الی بھی ہہوئی جس میں دای الا سمل علیہ یل مکی حیا تیب
کیل پھاس انداز سے سان ال یک پڑ ھن دالے کے ساتئے ا سک یمر
اوداسف ری کا بھی ایک قش ہن چلا جاتاخنس کے پورارنے پآ رخحضرےە ی
انعلی یک مامور تھے ظا ہر ےک بیکامکوئی مان کامٹیس ٤اس کے لے بی
21 ععد فی صلاحت ضرور یک بکی اط رخواوفرا بی اورکائی نا رصتکی
ضرورت ہے۔ القد بی مر جات ہےکدہ ای خدم تک سعادت اپ
بن ےلوعطافرماۓ۔
اتا یکا راکست مھ سے اامراگکست 8ن 2کک ڈسٹرکٹ قیل راے
بی می اوراسباب نیش الہ فرصت کال میس کی اس وقت بی خیال سان
آ ناکرا ل نظ بد کی مد تکوکسےزیادہ سے (یادہمفید بنایا جاے۔ چنا غچرالند
ےنیل وکرم نے رہنمائی فرمائی اورلدیشت اس دراو یریک سو ہوک کہا فرصت
کو اس خواپش لک کی لکاذر بت ہایاجاۓ یی سکاذکراو کیاجاچکاے-
یل می سکتابو ںکی ایک محدووتحدادتی میا ہ ھی ۔ چناخ سرت انی
تف پیم القرآن اور چنددوس ری چھوٹی جچھوٹ یکابوں کےعلادود ہا اور یجوف راہم
ثہ ہہو۔کا اور ال کا نام ےکر ان بی کتابو ںکی بفیاد پآسان زبان شس اپ
استعدادکی حدرتک اس خواپن شک یی لکر لی جوم سے سے ول میں أ جاک رتی
تی۔
موضو رع کیا کہا ںکک اداہہو کا۔ ال کا انداز ہو مطال کر ے والو کو
تاب کے مطالعہ سے ہوہی جات ۓگا۔ لہس ہلیین وا لن ےکوپورا ودرا ساس ے
کہا م وضو ککا عق ادا رن ےکی شاس یں اہلیت تھی اور تہ اس کے لئے
اسجاب بی فراہم تھے اس کے باوجود چم میدب تھی ج نکی فیاد پا ںکام
کےک رن ےکی مت ہوئی اور ےکرلیاگیا-_
(۱) تا سےکہ ماد کش دوسرے پاصلاحیت لوگوں کے لے ایک
ترک من جاۓ اوروہ ال کا مکوھا حقکردییی۔
(۴)آسان اُردد یش بیرت پاک پر ایگ من انداز ھی ہوئی ایک
تا بکااضاف+وجاۓ۔
(۳) یرم دکہالل تھا لی ال ںکیشش لکوقبول فرمانے اوراس کے ذریے بج
لوگو ںک یت یک اسلائی کے ھا اور اس کے ظر بب ہکا رکی طرف رجنمائی
ہوجاۓ اوراس رح ہجو ردون می اسلائی فصب شی نکی طرف بڑ سۓکا
واول أ جرے۔رَبَنا تقيّل بن نک اَنتَ السُمِیْع الْعلیْم
ایم عبداگی
ڈمٹرک ٹیل دراۓ رٹ
روشزٍ_۰٣ ہزیصر: ۳ھ
لال ۱۹۵۵ء
٭٭ ج یک اسلا یک ایت
چ٭٭ تج یک اسلاٹ یکا ایک اتیاز
٭٭ اسلا می دشوت کے
وقتد ناک عالات
رو مکی قومت
جررتان
رود
عربکاحاات
تم رک ا سلای کے لئے
عر بک ینتصوصیات
٭٭ عربو کی اصلاب
یں مشکلات
یداش اورکیین
٭ غادان
َ کٹل
چ سور او رین
+ × ب+× ++<
٭ ؤں
ى7 غی رو واقعات
نو ٹاک اتاء
٢٭ خَار7ا
٭ کید
ضکو تک ابتراء
٭ وکوت کے وودور
و گی نٹمی
ج ینمی کے چاردور
وت پہلادور۔ امش دکوت
30
30
30
31
32
35
34
37
37
37
41
42
42
43
44
45
45
٭ بچپہنازی
ک اس دور کےم وین
ع٭ دوسرادور-اعلا ن دگاوت
وکو کی خخالقت
٭٭ مخالشت کےاسباب
٭ مخالفو ںکی تجوریاں
٭ عالا تکامقابلہ
٭ زوتکیطرف
لوگو ںی تج
٭٭ فخالفو ںکی یش
٢٭ تصراوور۔۔۔
اقلاوآز مل
٭ ملمان نیاٹی
کےوربارٹش
٭ مان یکااسلام
ج حفر تم زہکاایمان
حضر تک رکااسلام
٭ شب ال طااب میں تر
1 نو تک رتار
چ7 چوتھادورمظا لم اور
مصام بک انا
٭٭ کے سے با ہل
26
٭ یلعاشن
ک7 دینش الام
پل خخالفت مںشرت
٭ بجت عق اولیٰ
بل مبص ت عقہغامیہ
ہزات ادرحراق
٭٭ ش3ر
٭ معراح
٭ مرا خکی ایت اورآسنزہ
کے لئ اشھارارت
٭ ییبودکیمحزدی
٭ کفارککوسعیہ
٭٭ اسلائی محاشرے
گی خیادیی
٭ بجثرت کے لئ اشمارے
٭ نما زتچدکی امیت
ىِ اس دوریل دگوت
وی
79
81
83
83
"96
88
89
93
94
95
96
98
وہ
100
100
102
104
106
رت 107
٭ حا مسلمانو ںی مین کواثرت 108
رخضر ےکآ یکاشور, . 108
٭٭ کے سےرواگی 110
٭ ررش یناہ 11
٭ مر ینتک مر 112
چ ری تر فآورل 118
و دیندٹل تام 115
٭٭ مسیدنو یکافیر 11
٭ مراخمات(عدائی٥) 116
١
دحوت ا سلائی
ایک خۓ دورمیل 18
٭ یبور ےمعاہرے 121
چا منالقتین 122
٭٭ قی دی 13
تج یک اسلائ یک دافعت 125
٭ قرلیش کے لے خطرہ 16
٭ قریی شی سانش 127
٭ فرلیش بردپاۃ 18
٭ حر یکنل 129
رووبار
٭ ری کی بڑھائی
مسلمافو ںکی ماری
ج می سے
مسلانو ںکاکوچ
٭ لڑا یکامیران
ج٭ جک ا ڑا
٭ قر یش یگلت
وت جل در ےتا
اوراڑات
ج جنگ بد پتجر:
او یمن نکی ت یت
خزودأمد
اسباب
ےا0
پ٭ مزا فقو ںکاوعوکہ
پل وجوانو ںکاجنل
٭ فو حکی 7تیب
چ٭ جرلن کا سازوسامان
چو لڑات یی اتراء
٭٭ قرلی شک خقب ےملہ
چ ای مداورخ
٭٭ انال یلست کےاسباب
اورسلما نو ںکیت یٹ
10
10
11
14
15
16
17
18
139
16
16
18
18
149
10
10
10
151
12
13
چ٭ے نول 4 جج جرنش سے بات جت - 175
7 ا لیخت 5ز بل متا رقوان 076
٭٭ کامیال یک ات 5 ٭ کامعاہرہ 106
پچ اسلائیق رک اص نرک 6 ب٭ حفرتابوجند لکاسالہ 178
ور یک جڑ 7 جچ٭ مامدیے کاڈات - 179
٭٭ أح یقت ے بعد 1588
٭ ا لکبر ہرک 159 سا 182
بیہودیی علاء اور ٭ قصررم ےنام 183
پیرو کی خالفت 1 سر ابینیاے۔الہ -- 1893
٭ غزرمّلتیتا ا _ 2 سے خاءایان ے:م 16
٭٭ کحب بن اشرفکائل 3: ھ٭ھ خاش اویعزیص کہم 187
مز اطزاب 4 حعلومت اسلا یکا ا جقام .188
لئ ت کاٹ 8 ٭ھ خودبد ہک روا رک نک پالٹی 189
و 86 بے یرعد 10
: 7 : ۵8 بے سمش رک تیت 191
٭ الک ےیل پربھروسہ 0 و راع 6
٭ وو ایا نک جا 9 )ً غ8 16
کزدرکی جڈ _.. ۱۹۶۱۰ ٭يصیلظاکونی 196
٭ رسول انڈکاقائآظلیفود 2 ہب ہے جلای جاری 197
٭ توشر ظ کا غاضہ 112 1 و
٭ ابیغیا نک گرتاری - :198
027 4 بج کےنرواظہ 19
٭ خاضکع یی ذیار تکیلوسر 4174 بج کے ما نکاعلان 200۰
٭ مان کعب ہل داغلہ 200
7 کے بعدرخطبہ 201
٭ ام معائی 203
وٹین 204
کے ا کاڑ 20
٭ معرین 205
7 یکاتھاتي
اورڈھا ۓ خر 207
مز دوک 208
سلطنت روم ے مکش .- 208
٭ تص کی طرف سے لک جاری 209
٭ مقام کر کافصلہ 210
٭٭ منافقتکابرددفاش ہوا 212
٭٭ میک کے رودگی -243
٭ جوک ہام 214
٭ منافقو ںی پال _ 214
٭٭ جک سے وائی کے بعد _ 215
٭٭ منافتوں کے اتومعالہ 216
٭ ابوعامرکیسازٹیں 216
مچنفرار 218
٭ ال ایما نک تی یکل 219
٭ ضر تل بکاوات 220
چ مل معاشرے
٭ دوگ ایما نکی تقیققت
و عوا مگ دک 7ز میت
٭ دارالاسلا مکی دا 2
اھ یکااعطان
1 کے اوروفذات
چ زں کے لے روگ
٭ ر کاخلیہ
٭ پارل
ج٭٭ آخری خطباورہرایات
٭٭ ربا یی طرفکگروج
224
227
230
231
234
234
235
237
237
238
ہج نفکڈش رش
لحم لله رب العلمٔی. وَالصّلوة الام علی مُعمَبوالہ َشعاہہ امن
پہلاباب
امسلائیائ یک اورااس سے لے
اسلام یا یی الل علیہ ومک ام دنا کی ای کیم الشان اصلاتیت رک
ہے۔ دنن ریک جے ہرز مانے اود ہرملک یل الد کے کییے ہوئے نی لاتے
رہے ٹیں۔ ات یک نے تصرف دوعائی بلرانسانی زندگی کے ہرشع کی اڑی
اصلا کی ہے ج سک مشالی یی نل کت ایک انی ہم کی یک ہے جو رہ
یک وقت روعای ۰ اخلاقی محاشرلی نمفائئی اورسیا کی سب ہج ہے اوریٹس کے
دائرڑے سےانسالی زندگیککوئ یکوشہ با ہیں -
تحریل اُسلای کی آسپث:۔
دنیا یش اصطاتی اوران ہین یں بہتکی اشھتی ری ہیں مان اسلائیئ ریک .
اپپی وسعمت اور دوس ری تحصوصیات کے اخقبار سے الن سب سے متاز ہے۔ ۱
الک ری ککا أٹھا نس ط رع ہوا؟ ا کون کر نے وانے نےم سط رب یی
کیااورا ںکاکیارول ہوا۔ یسوالات ہراس ذ من ٹس پیداہوتے ہیں جن سکو
ابق ا لت ری ککا نہ جو تارف پوت سے الکن ان سوالات کے جوابات
معلوممک رین جن جار دانی کے ذو قک یکل ہیننیس سے ان جوابا تک
افص ایت ىہ ن ےک دا نکومعلو کر نے کے ٹج می ایک الس یعمل اصلائی
سے سصس و2پ سس ےچ سے
تج رک ہمارمےسا سن آلی ہے جوآ بھی ان تام مال تع کی نے کے
لئ ضروری اورکائی ہے جن بیس انسمان البھا ہوا ہے ۔ بی بک ایک طرف نے
انسا نیکواس سے وانت یع اورنتصا نکا ا مطلب انی ے ٤ای کے سام اس
ابی ز نگ یکی یں وا کرک ہے ج ہرانسا نک یآ خر منزل ہے او ردنا
کیازندگی کے لے ایک ایال ئک جو نکرتی ہے جوا اید ذندگیکوکامیاب
بنانے کے ساتحسماقحداس زنر یکوگھی اس طرخح سفوارد بت ےک بچھرانسا نکو
ان تام الجھنوں ےنا تال مال ہے :جن کے لکمرنے یس دہ بھیشہ پریٹان
راےادرآ نگ ٛے۔
اسلائ یئ ری کی بھی ایک تموصیت ہے جو ہرطال بل مکوتو ری ہےکہ
وداتۓ تر یب سے دچیچے اوز نین لکش لک ےک ہا ہ بک کے بارے یس
ج برا تقامڑازگوئیٰگیاجانا ےد :کہا ںتک درست ے-
اسلائ یت ری کک نے کے لئ ہیں تو بہت یکنا اگھ جاچگی ہیں اوگھی
اتی ری گی اورا نکی مدد سے اسلا یت ری کا خمایت دانع تار گی ہوچاتا
ےلین جس طرع روشنی کےنضسورکو ج راغ سے اورخوشبو کے احما سکو پچھول
سے جدانی نکیا جاسکنا۔ اسی طرحکسی ایی لیم الشا نت ری فکوبھی اس کے
محرک کےتضمور سے ال کنیی سکیا جاسلنا۔ ای لے جب لوگوں کے سا نے
اسلائی ترک کا ذک رآ بذہم اج یک کے دائی ضر تیگ صلی این حیلم
گان گی کے عالات اور ری اوت کے اصسکن ماہ بیکی رن جا کی
تا وی رکا مطال کر تے ہیں اور یمطالب الیل فطرتی ہے۔
چسہٛ چ ف اح شش ش7
تحریك اسلامی کا ايك امتیاز:-
سب چان ہی ںکہانماخی تکا سب سے مقدم رٹ اور اا سکی سب سے
تر خدمت بچی ےکہلوگو ںکی اغلاقی تھ بی تکی جا ۔ ا نکی برائیو ںکودور
کیاجاے ۔ اوران کے سسا نے زندگ کا ایک ای اعم لنقنش بی کیا جائۓ جس پہ
لکر انا نچ معوں می ںکامیاب ہو گے اس مفقصد کے لے بہت سے
لوکیں نے اپے اپے طریقوں پرکام سے ہیں لن ا ضم کے اصلائیکام
کرنے والوں نے انسالی اصلاع کے پھگوشو ںکوابنے فصو سکرلیااو پھر
ان جیگوٹوں میں جو ھکر کت تھے دہکیا کی نے اخلاق اور روعا نی تگواینا
مرک ہناپا نی نے تیب وفقز نک نوا رن ےک وشن ل کی سی نن لوزن اور
سیاستکاپنامیدران یلان اییے لین ہننھوں نے انسا نکا پگ ذمدگ یکو _
سفوار ن ےکا فیص کیا ہیا ت انا ۓکرا مہم السلام بی ہیں
ا لکا ات کے پیک نے وا ےکاانساخمیت پرسب سے بڑااحسالنع می ٹچ
انال ۓگرا عم ہم السلام یس جو نی سب سےآخ می تش ریف لائے ا نک
گت اورا نکی زی کے عالما تآ خ کک اس رع محفوظط ہی سک ا سکیکوئی
دسر مال انسالی جار می یسل حر ت صلی ال علی بل مکی ذندگی سے
عالات ال طر فم بند ہو ےک ایک رف نسح تک ایی انظام مواج رآ
ک کک تارجھیرپکارڈکوٹس بی نہ ہوسکا۔ اوردوس ری طرف وسحعت اوصی لکا
یڑ عال لک ہآ پک بات کامء زندگ یگ ارن ےکا ڈھنک بشکل وصورت ءاٹجنا
بیھناء بول چپال رک نسبکن: معاعلات ء انا ہک ہکھانے ہین سونے جاگنے اور
نے ہو ل ےب ککی ایک ایک ادافوظ روکئی خر ےکآ جع جوقعیلا ت ہم اپنے
زمانے سے چندسو بی پیل ہگنذرے ہوۓ بڑےلوگوں کے بارے میں یں
جا دولق یپڈیڑھ ہنزار بی ںگزرنے کے بعدیھی ہت ی٥ی الل علیہ لم
کے بارے یس جان ھت ہیں۔
تحفرتئی٥لی علیہ وی مکی زندکی کے عالا ت ہکا مطال ہکر نے سے پل
ایک اورتحموصیت پرظررکھنا چا بے ۔ ہرکا مکی اہمی تکاانداز ان عالات سے
ہوتا سے جن میں دہکام ایام د امیا ہوسا زگ راورموافَ عالات یس جون یں
دیھت دی یں ےکی لغ اتی ہیں دہی نا سا زگارعالات یس پالنل م رجا
کررہ جاٹی ہیں۔ عام طور پت یکو ں کا عالل ىہ س ےکہ پل لوگوں میں ا کی
قولیت کے لے مواد چان رتا ہے اور بجر جب کی بارگ کسی طرف ےکوی
تح یک اٹ رکھڑی ہوئی ےق لوک ںکی ہدردیاں اس کے ساتح ہوجائی ہیں اور
ترک چ تی ہے لان یآ زادی ز نک ین ری ککو لے یی ۔ لوک عام طود یہ
لی بیرولی ران طاقت کجلم اورزیادتوں سے :الال ہوتے میں اورولوں
ا کےخلاف ایک جب پیدا ہجار جا ہے مرج بکوتی با ہم یٹ اکر
نکیآزادک یکا نرہ بلندکردتا ہے چا ہے خطروں اورلقتصانات کے اند بیتوں
کی وج ےکھوڑے جی لوگ ا سکاضا تد می جن اکشری کا دم حدردیاں اکا
کےساتھ ہوئی ہیں بجی حال متا ش یت یکو کا ہے لوک انی مجبور یوں اورمتاشی
لو گحسو ٹکرنے والو ںکی زیادتو ںی وج سے خودعاجز ہوجاتے یں اور
اریےموتع یراگ رکو یف یک محاشی اصلاع وانقلا بک اُٹھتی سذ بچھر برسب
لگ ای ططرفمتوجہہوجات ہیں ئیان ذ رانقصورییچے ایک الس یت رب ککاجو بالکل
خالف عالات میں أ یھ ملاکسی آزادیلک م سکوئ یفص مینھرہ بلندکر ےک
مل ککوفطاں طاق کی خلائی اخقیا رک ہیی چابے ج بک ملک کے سارے دی
پاشندرےآزادیکوعزی: رک نہوں تو ور یج ان مصاب اورمٹگاا تکا 7ز
ایی عالات شی امیا بات ی لکر نے وا لن ےکوی ل1 سک ہیں
ت یک اسلائی کے دائی ( صلی ال علیہ نیلم )کی ای ایت اورآپ کے
کا کی واتی حظم تکاکوئی تو ریں ہوسا جب ککآپ کے مات یی بات نہ
ہک ہآپ نے جو وی کیادہ مکی الف عالات میں شی کیا اس لے آپ
کے واقعات زندگی کے مطالع۴رے پیل بیلگی د کیہ مج ےکہ جب اسلام کے دای
نے الام شی کیا اس وقت میک رب اورسسارگیاد نیا کے عالا تکیا تے؟
اسلام کی دعوت کے وقت دنیا کے حالات:-
اسلام نے جو بھی کیا کی ال جیا و حید سے لیکن بجی دوروننی ہے
شس سے اس وقت ننصر فرب بللہ پودگی دنا حرد یت حید کے یتور
سے انس ذجن خی تھب ہ ےک ہآخف رن ملی ال علیہ یلم سے پیل
اسلام کے دای بے ارچ تے اور یش نک رآبادعلاق حیدخال کے بیام
سےمرفراز ہو کا تھالنان انسا نی تکی بشٹ یکا نے الس قنکوبھلادیا تا اور
اپ خواہشات کے مطابقی چاندہ سورعء ستاروںء جنوں, ذشتوں٠ دیویء
دلیتائولہ پہاڑوںء ددیائوں٠ جانوروںء انسانوں اور تا جا ےگ نک نکو
الوبیت شش ری ککرلیا تھا اور اب انسان ای ککی بنلدگی میں کون پانے کے
ہجاۓ ےش رسبودوں کے پیک ریس پینسا ہواتھا۔
اس وت سای اخپاررے دوا ہم طا تی موجو پیل فارک اورروم- فار لکا
رہب تحوبیت تھا جوعراقی سے ےکر ہندوستان کی مزعدد لکک پھیاا ہہوا تھا
رد مکا نم ہب عبات تھا جو ورپ الیٹیاادراف ری ہکگھییرے بے تھا لان ان
کےےعلادو بی سے ہدک اور ہندویی اہی رکھت تھے اوران می ے
پ رای ککواپنی انی میص مد اق تکازن وی ھا-
امیان متارو ںی پوجاعاشتی۔ ال کےعلادہ بادشاہ اور اخراءتگی ویج
بج زعایا کے دااددر ابا ےش نکبہد ے سی جاتے تھے ۔ ال نکی خدائی کے
گی تگاۓ جاتے تھے ۔غرفس ریہ ادا کک تو حید کلصورے خالی تھا
روم کی حکومت:<
نان کے زروالی کے درو مکی علوم 0 7سب
جا تھی نیا ن بھی دی حیسوی کے خاتضہ بر بجی علومت اپنی سی کےآخری
ناک7 چگیتی عو کی 0 خوف ملک کے اندر بر انئیء
اخلا کی انچائیگراوٹ پیش پت کی انا خرس کوک برائی ای جشی جوان
یس پیدانہ+وگئی ہو- رڈ اختبار سے پانولو کو ارول اورد تا ول کے بتول
کی بن میس مصروف ےتکن جن لوکوں نے عیسائی ہب قب لب یکرلیا تھا
دوکھی و حید کے سور ہے خالی ہو سے تے۔ دہ باپہ بیاء روں القدرس اورم مم
کی غخدائی سے مقر تھے کگکڑوں نزبی فرتے ین گے تے اور بیس بآلیلں
یں لڑتے رتج تھے۔قبر تی عاعگی۔ باددیو ںکوسجرے سیے جات چھےہ
7
7
سمیمٔمس سوج اوھ شس ےچ
و یں نے اوران کے بعد درجہ بدرجہ ھی عہدے داروں نے ایی اک علہ
شش بانہ لہ خدالی کے اخقیارات اپنے ہتس نے ر ے تےترام وعلال
کے انخقیارات ا نکوحاصل تےاورا نکاقول خدا کا قو لھا جات تھا۔دینراری
کااونچانصوررہباغیت اوردناکیچھوڑدیتا تھا۔ ہرم کےآ رام وآ راکش ےس م
روم رکھنا سب سے بڑکی عیاد ت مھا جا تا ھا
ھندوستان :-
ہنروستانع یل ا وشت وہ دو رتا جس سکو ری اوار ٹل پوراہک دو کہا
جا تاج بدور ہندوستا نکی رای تارنىشٹل سب ےزیادہتار یک دورماناچاتا
ہا اس وقت برنیت پھر سے غال بآ رد یی اور بودمو ںکاتقر بقع تع
ہو چا تھا۔ ال دورکی تصوصیات یہ می نکش رک عد سے بڑھ چک تھا دلتاٴں
کی تحداد بڑح بڑ ھت ۳ کرو کک یگ یی ۔کہا جانا ےک ویدوں کے
زمانے می بت پہقی کا راع نہ تا لکن اس وقت مندروں ٹ بت کی چا
ای ۔مندروں کے پباری بدا خلاقی کاضمونہ تھے اور موا کول وا نکا ام
تھا۔ اہی زمانے می ذات با کی تغل بھی انا نی عالائکہابتائی زمانے
یش امم 7 لق موجودنی ات نے سان کےسارے نظا کو برباد
کردیا تھا ایی ےو این بنا لئ گئے تھے جن میس انصا فکا خون ہو تھا اول
اور خما ران کے اختبار سے لوگو ںکو اط رھائتیِں دگی خائی عھیں۔ شراب نے کا
عام رواج تھا۔ خداکی علاش ٹس بنوں اور پہاڑوں ش سح ر ںیگ ارنا ضروری
مھا جات تھا۔اوہام اور فاسدخیالات ای انا بر تھے بھوت پربیت اوجاڑوں
م کےنکونوں نے انسا لی زنک یکوجکڑ رکھاتھا۔ ہریحیب جز خدآشی ہج راک کے
سا نے س رکا د ینا بی لویا نہب می نکیا تھا - یہ د اتا ئؤں اور یتو ںک اکن
اندازہ اود قال ے باہنگی۔ پپیارکیورنوں آوردوداسیو ںکی غلاتی حیقیت
انائی شرمناک ہو نی اور تم یتھاکہ برسب جج نہب کے نام کیا جاتا
تھا جورٹیں جو مس پارکی جا یتیل ای ککورت ک ےک یکئی شوہ رہوتے تھے۔
تیوہئور تم گر کے لئ قافونیٰ طود یہ ہلت یرد مکردی جان ی شیا حا
کے ایے دیاش رم ناک برتا کی وجہ ے ای کعورت شو ہر کے بعد زند ئل چانا
گوار مک لی تھی ۔لڑائی می پاد جانے کے ڈر سےگورت ںکوخودان کے پاپ
بھی اورشو جراچ پاتھوں ےک لکردینے تھ اوراس پرفھرکرتے تھے مہ
مردوں اورگورتو کیپ جاہول ای :نی تھواروں میں شراب لی پیک بیصت
ہوجاتے تاور رسب دحندرے مک یکاکام بھے جاتے تھے نر ےکا خلاقی ٠
رہب اورمحاشرت کے اتقبار سے ال دکی مز لن برکی رح حیطاان کے جال
یں مجکڑ ی ہولتی۔
یھود:-
مداکے دن تین کے اعقیار سے اصلاعک یکوئی فو قح اگ ری
اق یھی نذدہ یبود س ےکی جاستیھیکین ا نکی حال تبھی انچائی بت ہوگل
8 ۔أفھوں نے اپن یی جار یش اہی اپلے جر ام سے ےج نکی وجہ سے
اب ا نکا یرمق می نہد اھکد وی ا صلاتیکاممک ریس ۔انچا ہلغ
ان کےا تررایشدکا اکوئی: 81 نووا ںکی پان ں کو برداشتکک شر سج تاور
ندجانے اُفھوں نے کت نیو ںو لکیا_ بی ال مان میں بتلا ہو گئ ت ےکا نکا
خداےکوگی نا عرہحلق ہےاورا لکی بفیادپردوانشیس عذ اب بی ند ےگا ان
کا خیال تھاککہ جن تک تی اصسل میس ا نکیل ہی بنا یگٹئی ہیں ۔ وت اور
رسالمتکودہ انی و می مرا ث کت تھے ۔ان کے عالم انی دنیاداراورزمانساز
تے۔ دہ دوات منروں اور حاھو ںکی خو شود یکل نے دن نی امام ش
کاٹ بپچھان فکرتے ر ہے تھے۔ الد کے ادکام میں جم مآ سان اوراپنی خوابنل
کے مطابق ہوتا اس پر لکر لت اور جھ اجکام سخت اور ناپپند ہوتے ا نکو
ھوڑ دی یں میںلڑ نا مزنا ا نکا عام مشفلہہوگیا تھا۔ مال ودوا تک تیمس اتی
بڑ کی کال لکیاوجہ سے و کوئی ایا کا مک رن کا ارادوتک جک ر سک ےجس
چان وما لکاکوکی اندبیشہہد۔ ای وج سے ووا نکی اخلاقی حالت :نال یگھزور
بی ۔ان می مشرکانہ بت تی کے ارات بھی پیداہ گے تھے ٹونےٹو ےہ
ادہام خرافات ءکنڑ ےتوہ چادومکیات وغیرہو خی اگ مکی بلڑوں چو نے
ان کےان رف سکرو حید کے اص لتسورکو ہلل برباوکردیاتھا۔ یہا لگ کک جب
ابد کےآخ ری ئی() صلی ال علیہ یلم )نے تح دکاوا تح ورپ کیا انی
زدد یو انے ییہا لت ککہرد کان مسلمافوں سےا عرب کے شر ک مت ہیں۔
عرب کی حالت:۔
دنیاکے ن ری اورسا کی عالات پِنظھ ڈا لے کے درا یئ خودعحر بکی حالت
بھی ایک نظ ڈال لی جا ےکیوک مچی دہ مقام ہے جہاں اللم کے می نے ای
٠ری ککاآ خا کیا اور جہاں کے عالات سے نی سب سے بط دوارہونابڑا۔
عرب کے ایک بڑے صے یجن وادی ق رکا اور تیروفرک میں زیادھ
ود یآ باد تھے خود ید پیے می بھی یہودیو ںکیعلومتتٹھی باقی میک میمش رکانہ
رم جار ہیں لوک بل روہ پڑڑوں :ستماروں فرشتوں اورجؤ ںکی
جاکرتے تھے الہن ایک ال کا تو رضرورموجودتھا۔ أ سے برلوگ غداو ںکا
خدااسب سے بڑاخداما نے امن براختقادات درب گیا ت اک یلا دہ اپ
ان بی بچھوے چھو لے خدائوں اورمعبودوں یں الیھے رت تے من نکوآتھوں
نے الد کے علادہاپنا دا نلیا تھا۔ ا نک خیال تھا دو زم رہکی زندگی می اصل
کا قة ان ئچھو لے خدائوں سے پڑ ا ہے لپذرا ران ب یکا حباد تکر تے تھے ان
بھی کے :اموں پرنذ رم اورقر بانیا ںکرتے تھے اوران سے ئی اپٹی مرادیں
ما یگنے تے۔ اید کے بارے میس ا نکا مہ اخنقادتھا لک چچھونے خدائو ںکوخوش
کر لیے سے ارڈ یھی خوش ہہوجاتا ے۔
ہیلک فرشتو ںکوخداکی بیڈیال کے تے:جنو کو خدا کا عز یز قریب اور
خدائی میں شیک پت تھے اورامیضببت سے ا نک پت لکرتے جے اوران
ہے بدد ما گت مجن +ستیو ںکو ىہ خحداگی یش ریک ماثنے تے ان کے بہت
ناکرا نکی پا جاکرتے تھے بت پپستی کا وق اننا عام ہوگیا تہ جہا ںکرئی
خوب صورت سا پھر پا لگمیا ال لکو ہو جن گے اور دنہ ملا نم یکا ای کگونا
ایا اس پ رمک رک کا دودح پنٹرکا اور اس یکا طوا فکرنا رو کردیا۔ غون میکہ
عمربوں کے بے شار بت جے ۔الن وں کے علاد+عخرب ستارو ںکوگگی پے
تھے جحخلف تیعتلف ستارو ںکو ہو جن تےان مس سور ح اورچانرکوزیادواءعیہت
مہہ مجسمےو900)ہے مج سے
تھی جنوں اوربھوت پرئی تک بھی پو جا ہدی تی ان کے بارے می ان ں
جیب جیب پا خی مشپونگیں۔ اس کے علادہ ال لشحم کے لمات جومش رکا نہ
تو موں بیس عام ہو تے ہیں دای سب ان ٹل ہائے جاتے تھے
اس رئی اگاڑ کے ساتھساتھآ یو سکیل ای ان کے یہاں عام با تنا-
معموٹیستمول باقوں پر تن چان اوھ را سکاسلسلہ چو کک چلتارہتاء
جواکھیانااورشراب پیا تقاعا مق اک شید یکوگ قو ماس متالے مم ا نکا مقابلہ
کرست :شا بک یتحریف اوراس کےشلقی سے ہونے والی بدکار یں کے وکر
سے ا نکیا شا ع گی رکیپ کیشیا۔ اس کے علا٤سودخورگی لوٹ ماواہ چودگء
بے رکی اورکشت دخون زنااوردوسر ےگنر ےکامموں نے ا نکوگویا انال شُل
درندہہنادہاتھاء وہ اپنیلڑکیو ںکوزندہ ڈ کرد ہار تے تھے بے ری اور
بے حیائ یکا ھا لت اک رمرداورورس گے ہوکر خان ہکع ہک طوا فکرتے تاور
ا سے ایک من یکام یھت تھےنرن کہ فرہب:اخلاق: *مجاشرت اورسیاصت
ہراخقبارےعرب اننائی تی می کر گے تے۔
تحريك اسلامی کے لئے عرب کی خصوصیات: :۰
صرفعرب بلکہ سارک دنیاجس اندعصرے مم پک دب ی شی ای کے
لئ ایک الیک کی ضرورت شی جوسماری اندع ریو ںکودورکردے اورالل کے
بنلکہ ہوۓ بندرو ںکوای دی راہ دکھادے اور ا سکع کےطورع ہو نے کے لے
تھا لی نے سارکیاد ناش عرب کے مل کو یکیوں پسندفر مایا اس بارے مل
بھی چند با ننس قاہ ل مور ہیں۔
سس( 99). کح سے
ضر م٥لی اللد علیہ ول مکوا تی نے سارک دنا کے لے ہدایت اور
رمائی کا آخری پیام د ےک کے کے لے طتتب فرماا تھا او رآ پکی دکو کو
سار دنائٹش پھیلنا تھا اہر ےک کی میک فردکی نکی ا ںی مکام کے لے
کاٹ نین مک ٹین ان کے نل٤ ضروری نا انالد کے یا 2 یں
“می نکا ایک ایی اگزدہ تا رکر جانفیں جوآپ کے بعد یآپ کےکامکوجاری
رکے۔ اس اہ مکام کے لے جس سح مکی صوصیا تک ضرور تی دوعرب کے
اشندوں یش زیادہاوۓئچ پیاضہ پراودرمومیت کے ساتھ پائی ای شیں۔ نیز
ک۶ ربکا جخرافیائی مقا بھی پھ ایا ےک وو آباددیا کےلقر بآم رکز شش
وا بے اود انس رح اس پیا مکو چپاروں طرف بچھیلانے میں بہت چھ
آسانیالتیں۔ ۱
اس کےعلاد دع ٹیز با نکی وسععت او رتحموصیات اڑسی ہی سک سو نکو
یی یکر تھا ا ںکوننس قد رسای کے ساتع لی ز پان یس اداکیا جاسکنا تھا دمیا
گی دوسرکی زہافوں کے داصن اس کے لئ بہت نک تے۔
عربو ںکی بڑی خصوصییت ریش یکو وو کی تتھ خلائ یک وج سے ذہتوں
یش جو تی اتی ہے اورایٰانسانی صفات می جوگراوٹ پیداہو ای ہے ال
سے بر لو کتفوظط تھے۔ ان کے پاروں طرف اسان اور رد مکی پڑکی بڑگی
تی ھی س کمن ان میس ےکوگی عربو ںکواپنا لام نہ پناک تی دو حر سے
نادہبہادراورشماع تھے ۔خطرد ںکویھی دھیان میس نر لا تے جھ ملا یکوکھیل
کھت تےہ برجول تھے ء ارادے کے پفند تے دل کے صاف تے جو جات ول
ہووت وھ ےت سے ہچ ہہ
ٹس ہوٹی وجی زبان پر ہوئی کچ لکیٹ اور لاگ لگا کی چیا یاں جو عا مور یر
غلام اور بزول توموں پیدا ہوعائی یں ان ے وہ پاکگ جھے عام جاور
عل کےاعبار سےاونچادرجہ رھت تے۔ذ ہنی طور یر بلند تھے باریک پان کو
کیک کی اہلیت رک تے۔حافظ بہت تزتھا۔ اتا تج کہا بارے میں بیلوگ
دیاش اپٹی بھمحصرقوموں میس جا جے ۔فیائصل تے۔خودداراورغیرت مند تے
زلیل ہونا برداشت کر کت تے۔ ریلتا نکی سخت زندگی یک باعثگ تم
کےلوک تھی ہا تکوقبو لک لیے کے بععدان کے لم بہت دشوارتھاکروہ
بے یھ ا سک دادد اکر بلراس کے برخلاف وہ اس با تکو ن ےک رھ
کھڑے ہوتے تھے اورد یھت د بے اتی ری زندگ یکواپنے پیند ید ەکام ٹش
اد تے گے۔
عربوں کی اصلاغ میں مشکلات:-
ایک طرف عم بکامرز لن عر بک ز بان اوعرب کے باشندو لکیا ىہ
خصوص ا تھی نج نکی اد پر اتال نے اپنےآخرکی پیا مکواس کک اوران
لووں پرگھنا لف ماا لیکن دوس ری طرف دو مشکاا بھی جاک ینھیں جواس
قو مکی اصلاح کے لج حضرتگ لی اود علیہ وم مکو بر داش تکرنا یڑ میں ۔ابترا
ھی یم سککھا جاچکا ےکہ ہکا مک یمظم تکوجا ے کے لے مد بنا ضروری سے
4ر عالات شٹ لکیاگیا۔ چنا چا لا یت کیک جس زمانے یس شی اور
کامیاب ہوئی اس اختبار سے دہ دنیا کی جار کا ای ک شی مکارنامۂ ہے اورال
اخقبار ےآ تحضر ت صلی ال علیہ ےملم نے جس تو مکودنیا کی امامت کے لے خیاز
.نیا اوراں لم می کوناگوں مشکلا تکوش ط رس رکیاد بی ایک جھزے
ہے یں
ج بک کع رب تو مک یتصوصیات سا :ہو ںکو نٹ انیم اصلاق
کامکاانداز وی لکرسکتا جوا کےآخریی نی ہ٥لی الیل علیہ وم کے پاتھوں اضجام
پیا۔ ال تو مکی اصلاب یس چنددر چندمفکلات حا لی ۔ ان ٹل سے بی
بی اورقائل دک یہیں-
عربقوم لص لان پٹ ڑتی۔ خدا کی ذات وصفا ت کا اقصو رس ال تکی
نوعیت اورابکیت :وگ یکا موم ءاش یکتا بک 16 خر تکا تو ںمپاو کا 3
مطل ب نٹ میکہان ٹل ےکوئی زی تی ضس سےوہ پیل ے واتٹ
بول پچ ربیلگ اپ باپ داداکے رکم در داع کے اپے اند ھے پیرو ت ےک ان
سےا رٹنا ا نکوخت ناگوارتھا ج بک اسلاح جہن کرت ھا وہ ان کے
اس بائی رہب کے الیل خلاف تھا۔شرک سے پیدا ہونے ذالی تام چچٹی
یاریاں ان میس موج پشی .ہم پیتی نے ا نکی تق لکو یکارکررکھا تھا ۔ یں
کیالڑائیا ںگو اک رق ئی تصوصیت ب نکی اورا نکی وج سے ان کے ل ےی
سے پر جیدگی ے۶ نا سان نتھا۔ دہج سو پت لڑائی اورخما رجگ ی کے
انداز بس پت تے۔ عامطور پرلوٹ مار ذر کیہ ماش تھا ۔ ابس طرں اندازہکیا
جاک ےکہج بآ حضرتیلی اوطدعلی لم ا نکواسلا مکی دگوت دیے ےت
ان کے سام ایک الیک با تن یشھی جش سکواس سے پلے نہ أنخھوں نے سا تھا
زنہچھا تھا اورجھ پاپ داداکےچان اوران خیالا ت کے اگل خلاف تیج یکو _
سس سو (6ق)سے .سے لس
وہ ا بکک نے ے لگا ہو ئے تھے اس دیو تکا مطالہ اک یڑ ائیاں بند
مرو ای کے ساتھھ رت ےکا فص لگ رو لوٹ مارکرنا غلط ے۔ فاہدرخیالاتء
بی عادات اورسب سے زیادہی ہکیترام ذد یہ محاش فو رآ سچھوڑدو اہر ےلہ
ایک اما پکار پر اتد دی کے لئ ان لوگو ںکوارکرناانائی شک کا تھا۔
خرن کہ دی د ناک عالات رب کے عاللات اوج٣ توم ے واس تھا
ان کی عادات خحسوصیا تکوئی چ بھی ایی نکی سلآکی جھ ظا ہراس دکو کے
سازگارکچی چاعحتی ینان جب ارک سا نے تے ہیں تذ معلوم ہوتا ہےگ.:
وو گی کا ڑکا تھا یا صوت پادی عحر بک ز ٹس مجن نے سارک لاد
خی اکن دل می سب ہے لیادی اک آواز میس سوقی تی جگادی
۶ ہر طرف ش٦ ی8 <یغام تی ے
ک کو شی رشت بقل ام 7ت سے
اور چی دہ جزہ ہے یس کے ساس ےآ تے ای ہزانسا نکادل اتا ےکر دہ
ان گنی کے باتک پیل سے ججائے اواب کاپ کی وو
شد تکوقریب سے تھے ۔آ تندہاہواب یں می جنپ کے سان ےآ گیا
++ہ
صراباب
7
پیراس او رین
خاندان:۔
تحت ئو لی ار علیہ وملم کے والد ہز رگوا رکا نام دا تھا وع بدا مطلب
کے بییے تھے ہآ پکا ساسلرن بنقر یبا ساٹ بینوں کے واسطے سے حضرت
کیل من حضرت ابرا وی چلہاالسلام سے ایل جاتاہے۔آپ کے ناندا نکا
نا قر تھاجوعرب کے قمام خاندانوں می نع ی بی پچکتوں سےھ رز او رتا ز بنا
جا نا تھا۔عمربو ںکی تا رن ٹل اس خماندان کے سکقے بی لوک بہت عززت وا لے
اور بڑے مانے گۓ ہیں لان ہف نی ب نکلاب تھی اپنے ز مانے می امم
کعہ کے متولی بناۓ گے او اس ط رع ا نک یعظمت اوریھی بڑ ہکئی نی نے
بہت بڑے بڑےکام سیے۔ خلا عاتیو ںکو بای پلانے اور نکی میزبالٰ کا
انتظام دغیبرہ۔ کا مان کے بحدران کے نماندان دا تےکر تے ر ہے۔ان خڑتی
امو ک ےکرنے اورھ مکعبہ کے متولی ہہون ےکی وجہ سے ترفن لک وخما معرب
یس بڑبی عزت اور ابعیت عاصل ہو نی ۔ عام طوربرعرب میں لوٹ با رکا
رواج تھا اوررا سے تفوظا نہ تےما ن مر مکعب ےل ہت اوزحا جو ںکی خدمت
کی بناء بررلیش کے تاغکو ںکوکوئ ینھیس لوغا ھا اور دہ الکن کے ساھ اپنا لی
تارت ایک علمرے دوسرکی مہ نے جاتے تے۔
سس رولس سی سے سے
عبدالمطلب کے دیس یا بارو یٹ جھے لیا نکیا اسلا مکی تصوصی تک وج
سے ُن یل سے پا بہت شبور ہیں۔ ایک جنا بعبدالل جو ححض تی ارڈ
علیہ یلم کے الد بذ رگوارتھے۔ دوسرے ابوطا اب ۔ جواکہ چا لایس لا ئے
ین أخھوں نے ایک ع رص ک کآ پک صربق یکا ۔تسرےحضرتجزہ اور
چو تحضر تعاس دن اکا ۔آ پ کے بدوفوں امرف الام ہوئۓے
اوراسلائی:تار یش بڈااومچا مقام عاصس لکیا اود پا ٠ بج سس الواہب ۔ الواہ کی
شخصیت ا رن اسلام می اسلام وشن ی کے لے بہتہنمایاں ے۔
بدا کی شادگ یز پروی وہب جن کبدمنا فک لی ےوثّنکانام
آ مز تھا ق ری کے ناندان می سآپ بڑکی متاز بی لی ۔شادکی کے وقتکبرالٹ
کی عركقیباسترہسا لھی۔شادکی کے بعد خاندائی دستور کے موا یآ پ تن بن
تک اپفاکسرال بر ہے۔اس کے بعدتارت کے سک لے یں شام لے گے دای
بد یٹس بیار ہو گے اورنڑیں انققال ف رما گئے ۔اس وت تحضر تآ من عا میں _
پیدائش:- ۱
۹ رت الاول دوش کا دن مطا بی برا یگل ای شیک دہ مبار کت گی۔
جب رجمت ال کے ٹیل کے مطاب اس باسعادت صست کی پیدالئ ہوئی جس
ہے وچوو سے سسارے عا مکی اندعیار یو ںکو دور ہونا خ اور انٰما ئیکو وہ
و یرایت ملنانتھا۔ جو فیا مم ت تک ا ز مین پر مین دانلے سارے انسانوں کے“
تن بس ما کا تا تک سب سے بڑئینحقت ہے والمدکا انال بی ہو چکا
تھا۔ داداعبدالمطلب نآ پ کان مم( صلی اڈ علیہ یلم )رکھا۔
پرورش اور بچپن:-۔
سب سے پک لآ پک والمدہماجد وہر تآ منہنے دودھ پلایاال کے بعد
ااواہ کی لونڈھ کین بین گی دودھ پلایا ۔ از مائے میں بیددانع اک شہرکے
بڑے لوک اپے کو ںکورورے وانۓے اون نم 23 و دیہات اور
قصبات م شکھی دپنے تھے تک ںکیکلی ہوائیش روک نکاصحت ای
ہوچاۓ اور وہ بہت کا ای می ۔عرب میں شرو ںکا ہہ
سی نے ار نان زا وی ای ای تی ۔اسں
دسقور کےمو اف دیبا کی عورش رم سآ یا ری یں اوریچو ںکو پور کے
لے اپنے ساتھ نے جات ی تی چنا ما ہر و
چچھوروز بعد بی قیلہ ہواز نکی پجوئورٹیس پچ ںکی علاش میس کے ممیں
میں علیمسعدبیگتجیں سیت دی ا
ےلات أکھوں نے ور من کے ںیم ہی ےکوئی لے لیا منظو رکریا۔
ذذ یں کے بح تد کو وین ئن مکی ا نے مین جے
سکوئی ار پچیی ہوکیی چنا نچک پک والدون ےآ پکوجمرد یبا تک دیا
جا ںآ پآئر ا چوسا لکا رک رے۔
ج بآ حضرت یل الشعلی یل مکی عم چوسا لک ہوک آ پک دالدہآپ
کر مئگوڈ ا پاپناشو ایرکز یارت کے ل ےک ہوں یا
وا ںکوئی رشتدار یکات٥تی ایی ہویش( سک وج ےآپ نے بہسفرافقیارفر میا ہو
آپ نے وبا تقر یلیک مینےنک تا مکیا۔ دای می ایک مقامالداء بآ پکا
اتال ہوکیااو ری ںآ پکوژ نگ یاگیا-
واللدہ کے انال کے بح دآ پک پر وش اورسارکی دکھ بای عبدالمطلب
کے ڈ ےآگئی۔ یآ پک بمیشہاپنے مات رکتے تھے ج بآحضر کی عر
آ دسا لکی ہوئی نو داداعبدالمطلب ن بھی اشقا( لف ایا۔مرے وقتأُنھوں
ن ےآ پک پر وش شک ذمددارگی اپنلڑ کے ابوطالب کے سیپ ردکی جنھوں نے
اس فن لکوانچائی خو لی کے ساتھ انام دیا۔ الوطالب او رآ تحضر ت کے والد
عبدائہ ایک ہی ماں سے تھے۔ اس اخقبار سےبھی ابوطال بکوآپ سے انچائی
محہتٹھیا۔ دہ آپ کے مقاٹے جس اپے چو ںکیکھی پروادنی ںکرتے تھے
سوتے و1 کو ا تا * با ہرجاتے نے ساتھد نے جاتے۔
پک خرؤں ۔بارەسال یا ہوگی ایس وق تپ نے اپنے بھ معمروں کے
اتھکر یا ںبھی تچ امیں ۔عرب مس پیکام برانئی سمچھا جات تھا _ اجک امتے
شی فگھرانوں کے ہچ بر یاں پا یاکرتے تے۔
اوطااب توارتکز نے مج زنر یی کے وستور کے موافی سال ٹیش یک
پازشام جا اکر تے تھے ۔آححضرت صلی علیہ لک یعمرکوئی باروسال ہگ کہ
اوطالب نے شام کے سف رکا ارادہکیا۔اگر ہف رکی لیف کے خپال سے وہ
آ پکوسا یں لے جانا جا ہج ےگ رآنھی ںآ پ سے اما محب تج کہ جب '
سفر بر جات وق تآ پان ےلیٹ اوت یپا رانکیالہۂآ پک
کر داش ضر ماوسماقفملائ
++
اپاپ
نبوت سے سے
فجارکی لڑائی :-۔ ۱
اسلام سے پیل عربوں میں لڑائیو ںکا ایک شرخم ہونے والا سلسلہ چاری
تھا۔ ان یل ائیوں میس سے ایک ہابت خطرناک اور پور لڑائی فیا رکی لڑائی
ہے۔ بیلڑائی قرلیش اورٹیس کےقیوں کے درمیان ہو گی چونک یت ریش ا سلڑائی
یش برسرتی تاس ل ۓےآححضرت لی اوذعلیہ سلم نے بھی ق نی شکی طرف سے
ا اڑائی یں شرک تکیئیا نپ ن ےکا ہایس اٹھایا۔ اس لڑائی می پیل
ٹیس پا رقریش خاا بآ ے اورآ خرکا راپ ائ یک اض ہوگیا۔
حلف الفضول:-
تے د نکیل ائیوں سن ےکیکنو نگھرانے پر بادہوگیئے _لوکوں کے .لئ نہ
د نکوچن تھا اورشررا تکوآ رام ء فیا رکیل ای کے بعر اس صصورت عال سےٹتتگ
آک رھ تی ربپندوں نے اصلا کا ایکہ یک شرو کی آحضرت صلی علیہ
لم کے ایک از این عبدالمطلب نے ب نوز شی یک یک اب عالا تکو
سدھارنے کے لے ھکر نا جا ہے چنانچ انان ق رین کے بڈڑے بڑےاک
شع ہو لئے اور بر معاہد و ہواکبم-
موٗتی سسسنشٹ
۱- کلک سے ب ےائمی دورک رس گے۔
٢ہ سافرو ںکی ام تکی اکر گے_
٣ نم ریو کی ا داوکرتے رہیں گے۔
۴ مفلو مکی ما تک یی گے۔
۵- می ظا لمدمے میں ضر دی گے۔
آتحضرتہمصلی اللعلیۃ و بھی اس معاہرہ یں ش رک تھے اورک پکو ہے
شرت ڑا عز نگیا۔ چنا خجرزماتہنوت مںپ نے فرمایا۔' ال معاہرے
کے بد لے می اکر سر اون بھی دیے جات و ٹس نہ لیتا۔ او رآ ج بھی
ا ہے معاہرے کے لۓےکوگی بے بلا نے یں حاضرہوں ۔“
کعبے کی تعمیر:-
کس ےکی ئمار تصرف پچاردیوار شی اویرجچبت تھی دیواز می بھی اس اتی
او ایس تا نا آ دی کائد مار تیب می لچھواھی باہش کے ز مانے میں ش کا
پا ب ہہ پ ہکرام تھا ص رو کن کے لے بنلد ہناد گیا تھا۔لمان ووٹو رٹ ٹوٹ
جاتااودال ئن پا رجات تھا ال طرع مار تکوفنتصان بنتا تھا۔ چنا نچ یر ے
کیاگ اک ہار تکوڈھ اک پھر ےآ ایک مخبو ارت تائی جائے۔ترامقر ین
لکی 6ا کا شرد کیا لیو نے نمارت کلف ج ےآ یں میں باف
لے جاک کوئی اںشرف سے گرم وا جب ہج راسود ا کے نصب
کر کا مو آیا ڑا ججگڑااٹ ےکی اہوا- پر تی دانے جات بک بیخدصت
١-ایک سیا وتبرک پچھرجوکع کی دنواریش لگا ہواے_
سس پوووواسیسیجتے
جم ہی انجام دمیں :فذبت یہا ںک کک یکیکوار می نگ لآ میں چاردنکک ڑا
بوتارہ ایی دن قریشی کےایک بے بڑھے نے بیدائے د یکر چھاکل
بے جوشل سب سے پل آے ا یکو مقر رکراجاے۔ اورد دش طرح
کے ایر عکیاجاتے۔ سب نے یہ بات مال نل دوشمزے دن الل کی قدر تکہ
سب سے پیل ن نٹ پرلوکو ںک نظ بی ددرت عالحضر رت سلی العلیہ
یلم بی تھے چناغ جآ پ نے بیفیصلف را لکرس غاندان کے لوک راسو دوس
کے متقام فص بک نے کے مد گی ہیں ا نکا ایک ایک ہہ دار جن لیا جائے۔ پھر
اضر ت نے ایک چادر ھا اک رھ رکوا ال پررگھا اوبردارول س ےکا اہچارے
کونے تام ٹیش اور پچھرکواٹھانہیں۔ جب چادر موق کے براب رگ نآ نے
جراسوو وا کے مقام پرکودیاس ار یک یڑ ائی فی جج کے نیج مس
معلو می ںکتنا خون خراہہوتا۔
'اب ج کی کی عمارت بنا گن اس پ رج تکبھی ڈا یگ لان چوک نی رکا
ساما نکاٹی نتھااسی لئ ایک ططرف زم نکا بح ۂحصہ باہریچھوڈکرنی بذیاذ یں قائم
مھ میں
تجارت:۔
عربو ںکا او رتصوص] تی ش کا پرانا مشفل ارت تھا تحضر ت صلی علیہ
لم کے پچابوطاا ب بھی جر تھےای لے ج بآپ جوان ہون ےن آپ نے
تجارت ب یکولطور ذر بب رمحائش اخقیا رف مایا۔ اپنے پا کے سا تین میں جوسفر
تحار تآپ نے فر مایا ھااس سےکائی جرب عاصل ہواتھا۔ بچھرج بآ پ نے
ےم جم
کارد بارش ات ڈالا نے آپ کے انچ معاحلا تک شبرت اروں طرف پئیے
یز وو تا پکومعال کا کھرا اور ائچائی ذیاشت داد پایااوداس لئ
لوک اپناس نامیا شر کی دی گن دوععد ےکا اس ء ما ےکی
صغائی ءانچھائی راست بازکی اور یاخت ان تمام چزوں نے لکرآ پکولوگو ںکی
نظروں میں انچائی مز بنادیا۔اورعا طور یراو کآ پکوصا دق (چیا)اوراشن
(اماضت دار) کےکققب سے یا کر نے گے ۔تحجار کی غونس سےآپ نے شام
بص ری اورمن کےگئی سف رسیے۔
نکاجع:۔
رت ا یکذ افدمال او این ات کاو ذزشکے رش
کی کی ہو بھی ہولی تی ۔ کی شادی کے بعد ہیدہ ہوکنی سو دوسرا اح
کیالیان پورعر سے کے بعد دص رے شوہ رکابھی اتال وکیا اور اب پر یہ وہ
تھھیں۔ فا یت شریف اود ایز اخلا قکی ای ۔لوگ ا نک شراف تک
وج سےا نکوطاہرہ( پک )کے نام سے پکارتے تھے ۔ نبا یت دوات مندگی
یں پداپنا ما مان ارت لوکو نکودنےکرتمیاتکا کا زوپارکر یج
اس وق تآ تحضر ت صلی ال علیہ ےل مکی عمر 5 سال ہوچگاتی۔آ پ کے
ہی تارگی سرکر گے تھے اوران شی لآ پک کی امانت اود ایز ہاخلاق لوگوں
کے اتآ گے تے۔ چنا مآ پک شہر تک نکرحضرت خد پیر نے میہ پیا ممکھجا
کک ہآ پ موراساما نڈتجارٹ نےکرشام جاکمیں ء میس جومحاوضہ دوسرو ںکود بی
: ہوں وآ پکودو ںی ۔آ تحضر ت لی ال علیہ وملم نے قول خر مالیا اور مال لے
کر بھ رک یتشریف نے می دای ںآ نے کےلقر مب تین مین بح رحضرت خد بن
نےآپ سے شاد یکا پا مکنیجا آپ نے منطورفر مالیاادرتا رن مقررموگئی ما رن
مقررہ پرالوطا اب خر تتُزہ اورغانران کے دوسرے پذگویں کے سا تح آپ
رت خد پچ کے مکان پنتشریف لے گے ۔ ابوطا لب نے نطب فکا بح پڑھااور
پا طلاکی ددجم پرنکاں ہھگیا-
شمادکی کے وقت حضرت خمد پیک ی عم ر جا ین ہما تھی اور پے دوش ہراں
سے دوصاتزادے اور ایک صا جز ادگ موجوہگیں_
غیرمعمولی واقعات:-
دنیائٹس جتممتازلیگ ہونے ہیں ا نکی زندگی ش روغ سے ہی اہے ا
آثد ہا جاتے ہیں مج نکو دک ےکر ازع کے ریشژن سیل کے بارے مس
اندازہ ہونےگلتا ہے بی نلوگ ں کا حالی ہے جو گے لک سی خاندان ہوم
ال کک زندگی کے یکوئ ےی کوئی اصلائی کا مکرتے ہی مین جومتیں
ستی قیامتکک مارے عا مکی رمائی کے لے دا گنی ہواودرنین کے ہم
ہے انسالی نکی کے ہہ رہرکو تک اصلاح ہوئے والی وا کی ایتقرائی زندگی
مت ایی ےآ خار جو انی فوحیت کے اط سے خی مو ہو بکثرت ملنا جا فیس ۔
ہوں تو ا عم کے آ ار کے ت کر ہیر تک یکنا وں میں جکشرت لے ہیں
من جو واقا ت فی کی رشنی می سج رنواتوں میں کر ہو ئے ہیں ان مم
سے بھی ہیں۔
اضر نے فرما اک جب جس انی ماں کے پیٹ می تھا تذ نھوں نے
سے سےےرو(قق٭۔ تس سے
ایک خو اب د یھ اکران کے بلدن سے ایک نو اجس سے ام ےل روش
ہو گے بہت کی رداتوں سے پت الما ےک اس زمانے میس ببودونصارگی
خمائ طور سے ای کآنے والے بی کےغتظرتے اوراس بارے می ںخلف ٹن
گوئیا ںک کرت تھے۔
آپ کے کی نکاداقعد ےکہخا ہکعبیل ہلھڑقیہ ہہودن یی اور ہڑوں کے
ساتجعہ ےبھی انٹٹی اُٹھا ٹھ اکم لانے میس ش ریک تھے ان بچوں میس آحفضرت
صلی ال علیہ لم اورآپ کے پتچا حخرت عبام بھی تھے ۔ححضرت حا مات ےکہا
ککہاپنا تن کھو لک ہکن تھے پر رکولون اٹٹو کی رنڈ سےتکلیف نہ ہوگی۔عرب
کے ماحول میس مہ بات یی بی جیا ےن کیا ہا تو بڑ ےبھی گے ہونے
میں شریمھسو ںی سکرتے تھےجان ج بآپ نے ای اکیا ن2 برگی کے اما
ےآ پ فورآبے وش ہوکرگر پڑے او میں بی ٹک رآ سا نکو کگئکیں_
جب ہی لآیا نآ پکہہرے تے می راتہبند میراتچبندءلوگوں نے جلدی ے
تن دکر سے باندھ دیا۔ الوطالب نے ال کے بعد جب آپ سےکیفیت
ددیاف تک آپ نے فرمایاکہ مھ سفیدکپڑے پنے ہو ایک م رفظ آیامنس
نے جس کہا تپ یکر فا فی بک ب۰ یآواڑھی جو تحضررت لی اللر
علی دم نےگی۔
عحرب شل داحتا ن اگوی کاعام روا تھا۔ لوگ راقو ںکوی مچک بیع ہوتے
اورکوئی داستا نیگو رات رات گھر داستان سناجا دہتا۔ کین یس ایک پار
آحضرت لی ال علیہ یلم ن بھی اس میلے مس ش رک ہونےکاارادوکیا کن
انفاق سے رات میں شادیکاکوئی جا تھا آ پ ا سے دبھنے کے لکھہرے
وہیں نین گئی اک کی سومرا ہو کا تھ۔ الا عی داقعدایک مرجبراوریی شی لآیا
اراس بارججیآپ انفاتی طور یر سو گئ ۔ اس ط رآ پکوالل تھی نے ال
صععبت سے پالیا۔
ول ایی ال علی یلم جس زمانے ین دا ہوئے کہ بت پڑت یکا
سب سے بڑا اڈنا ہواتھا۔ ا ہکعہممش تن سوساھ و کیپ جا ہویش اور
آپ کے نادان وال ےی ق ریش اس وقت نما کب کے مت با پجاری تے-
ناس کے باوجودپ نے بھی بتول کے گے یں کا اورنددا ںی
مشرکانہریموں میں * اھ یکوئی حصلیا اس کے علادوگھی تق ربیش جن غلط رموں
سے عادی تےآخحضرت صلی الرعلیہ یلم نے بھی ال روں کے بارے میں
اپنے نخاندا نکاسات یں دیا
++ہ
7
آتحضرتص٥لی او علیہ وم مکی زندگی مب اب ایک اورانقلااب رونا ہونے
لگا .]پک قوج یتھائی میس ٹوک رادرک عباد تکرنے اوراپنے ماحو لکی اغلای اور
دبنی تی فو رک رن ےکی رف ڑ ھنگگی۔آپ براب سو چاکرتے تےک مرکم
کےلوگوں ن ےم طرح بت ںکواپنا ممبود بنالیا ہے۔ وہ اخلاقی اخقبار ےس
قد دکر گے ہیں۔ا نکی بی برائیا ںکسے دور ہوں؟ أنجی ں سے ایا جائۓےکہ بی
خدا ہیک راہگیا سے؟ ا ںکا ات کے والتی نمالقی اور ان کک عاد تک
طر ہوک چا ہیے۔ایطر کےکجلڑروں خیالات اورسوالات تے جھ برا ہآپ
کے جن می ںکھو کرت تھے اورآپ ان بہگھنٹوں سوچ کرت تے۔
غارحرا:-
حم ےجن یل کے فا سے برایک ا رتھا شےم ا کے ہیں ۔آ پ اک
وہاں اکر قیام خر ماتے اورفورولکراورعبادت ای یش مصروف ر بے ھا 1
پٹ نکاس مان ساتھھ نے جاتے جب نتم ہوجانا تذل رر نے جات جا حقرت
غد پیچیاریتیں۔
پھلی وحی:-
ایک د نآ پ ف_ارترایں تص ب سعمول عیادت شی صروف تے ۔رمضا نکا
5
و
ین تھاکہآپ کے سان ال کا جھیجا ہوا فرش ظاہرہوا۔ یقرت جج ررمل علیہ
السلام تے جوفرشتوں میں سب سے زیادہ بلندمرجہ ہیں اور جو پیش سے خرا کا
پیام اس کے رسولو کک بات رسے ہیں ۔حفخرت ججبریلی نے نھودارہہوکر
آنحضرت مل ال علی یلم س ےک ”' پڑے آپ نے فرمایا۔ شش پڑھا ہوا
یں ہوں یی نکرحفرت جج یل علیہاسلام نے نی
کلک راتا پناک ہآ پتھنک گئ_ پچ راحفضرت کوچھوڑد با او رکیا 2ع
کے جواب دیااو رأتھوں ے شیک ایی
”یڑ آپ نے گلرفرمایا۔ نٹ بڑھا ہوائئیل ہو ات یی نے
تیسری ہارد یکیااوریھوڑک رکہا:-
ِفُراء باشم رتَک الَدِیْ عَلَق علق اانسَانَمِنْ عَلَي 7ئ
وَرَبُکَ الاكُرَمْ الَذِیْ عَلُمَ بلْقَنَم عَلم لان مَالَميَعم
ضجمہ:۔اپے رب کے نام سے بپڑھ-ھ مس نے انسا نکو تھے ہو ئۓ خونی
سے یی اکیا۔ پڑھ اور تارب ہڈا ہزریگ ہے جس ن ےنم کے ذر بی کھایا اور
انسا نکووہ گی کھایاجود یں جات تھا .
بجی سب سےبہلی تھی ۔آ مض رت ی٥ی اللہ حعلیہ دم اس واقہ کے بج دم
تریف لاے۔أئس وق تآپ کےقاب مبارک پر ایک طر کالرزہ اطارق
تھا۔آپ نے حخرت خد پیڑے فر مایا ”ےلب اڑھ اؤہ ھکل اڑما :و“
آ ساووا و اف نما تا تھا جھا ما کا سےءر!اٴ کو تھی اور 1
ے بیز ال ذمددارئی تاس وج ےتھا جواجا نف اپ پر ڈال دکی کی اورپ نے جھ
پگ خی وی گے عو کس لو یا لوق ہے تھے لت مو و
و مایااورتحخرت خد بین مسر سی دبی دو ایک نخائل فطری نیت کے وااور یں ے۔
0
روی
آپ نا کن ج بآ پکو یوون ہوا تو 1 ار مود
سے ضاراداقعہ بیا نکیا ادرف مایا۔' مھ اپی جا نکیا خطرہ ے “حطر
ن ےکھانئیس ہرکگڑی ںآ پک جا نکوخ نیل ؛ دا پکورسوا 5
قرابت دارو ںکیا بح ادا رج یں لوکوں کے بو کو1 پخودافاکیں:
فقیروں اورسکیفو ںکی مدوکر تے ہیں نہ منافرو کیا مہمان نو از کرتے ہیں۔
اصافکی خاط رآپ لوکو ںکی مصیبنوں می کا مآتے ہیں اس سے بعد
ضرت مد پچ آ پکو نےکر ورقہ بن فوشل کے انیٹ بوڑے
دبین دارمیسائی تھے ۔لوریت بڑ حت تھے۔حفرت غد بپیڑنے ساراواق ہآتھیں
چاکرسنایادد ہک نکر لونے۔' نیدی نامول ( بیو کا جانۓ والافر شی )
سے جوم وی پر أُتا راگ ي ۔اےکائشس میں ال وقت زثرہ ہوتا ج بکھا رام
0 آپ نے پے بچھاکیامی رک قوم مجھےئکال د گی ۔أنھوں
ن کہا ال اور پیش گکہاکہ جج لےآ ے ہوا کو نےکر جوکوئیبھ یآ یا۔ اس
سےأس کےوگوں نے ٹنی ہ کی ۔ میس اس وف تکک زندہر ہا ار
عددکروںگاااسں ککاتھوڑڑے بی دنوں بعدورق کااقال ہوگیا_
اس کے بحدحخرت جب ری کی آمد رکی دی اورآپ بدستور ا رترائٹش
جاتے در ہے بیفر تک سکم پچ مادکارہا۔ ال درمیاٹی وققسے بی فا دہ ەواکہ
آپ کے فلب پر جوفوری اشرات تقاضاۓ اشریت پیا ہوۓ تے وہ وور
ہو گئ اور پکاقلب مبارک اب پپھرفزول و یکا مضناق ہوگیا۔ ہا لک کک
جب بیکرصہبگودداز ہواتذ آپ کےسون اورامینان کے لم بھ بھی حضرت
ات ات
جب ری تشریف لات رہے او رآ پکواشھینان دلاتے ر ےک یقینً آ پکا
تاب بھییت رسول ہو چکا ہےہآپ انار ادرالمینان فر اہ بل رچجھدنوں
بعرتخرت بج لپ درپےنے گے۔
++
پا الاب
یک ابر
فاوقرایش بہگی وی کے نازل ہونے کے بعد پھجھ دنو ں ککوگی و یں
کی ان کے بک کی انقائیآیا یناز ب ضز
أيهَاالمدَتَر مقُمْ فانذرٴہ وَرَبُک فَگبَرْہ وَبِيَابَکا فطھرہ وَالرّجْرَ
فافجُرہ وِلَاتَممْنْ تَسْتَكْبرُہ وَلِرَبَک فَاضْبرُہ رمُلیِں
و ۔ا ےگ ی اوڑ نے وا لنے! انٹھ (اورلوگو ںکوگرانی
کے اخجام سے ڈرااوداپنے در بک جن رگا اود بڑ ال با نکر
اور پا کو پا کک اور بل سے الگ رہ اور زیادہ ماگل
171,- 9 کےسا جح اسان مس تک او راپ رب
کے معال میں: اذیت اور مصیبیت پر عبر اخقیا ر کر
وت کےکانم پر ما مور ہون ےکی مہاب شی اب اضابط یگ لکیاکہاٹھواور
ھی ہوئی انساضی تکوا سک خلا اورکاھرالی کا راست دکھا ٤ اورلوگو ںکوشردار
کرد وکا مال یی راوصرف ایک دی ےش خداۓ واحدکی بندگی - جوکوگی اس
راوکواخارکر ےگا ود یککاصیاب ہوگا اور جوکوگی اس کے علاووکوگی اورراہاختیار
کرےأےآخرت کے برے انحام سے راف انسانی زندگ یک بنیارعرف
ایک خدا کی بندگی ابد نکیہظمت کیاکی کے اختراف پر ہونا چاہے ای
صورت یش دہ ہک مکی ہرک نا اکیوں اوراخددول یگنرگیوں ہے پاک رق
ہے۔ مداکے علاد٥دوسرو ںکی بندگی ہی دہ سک یکانھ ہے جوانما نکی جای
کا سب تی ہے۔انسا نو ںکوآ یں میس سن سلو ککاب رتا کنا جا ہے ۔ ایی ا۱ن
سلوک جم ک ایخ اودلا او
دعوت کے دودور:۔ | :
یہاں ےا بآحضرت لی ال علیہ یل مکی نکیا گوتی در شرف ہوتا
ہے۔ااس دورکوہم دو بے پڑےتحموں می ںی مکر سک ہیں ایک وو حص جو ۰
رت سے پپ کر و ہوا ےکی دو رکچ ہیں_ اور دوسرا وہ حصہ وھ
ہجثرت کے بعد یر ہی می لگ رااور شے مدکی دورکچے ہیں۔ پہلا دوز 13 سال
اوردوس ادوس سال کےٹر عبرا۔
مکی زندگی:-
تحضر صلی اللہ علیہ وی مکی دعوت کا دہ دور جھ کے می ںیگ راء اپ
تا کے انقبار سےثہایت درجراہم ہے دراصل بجی وددور ہے جس مس
اسلا مکی تیشم ری کی ہوگی بجی دہ دور ہے جس می انساشیت کے امے
ای اط نونے تیار ہوۓ جنخھوں نے اسلائ یت ری ککوسمارے عا لم یش
روشاکنگرایا_
جارآادریری جھکتابیں اس وت موجود ہیں ان می سکی دو رک یتقعبات
بہت یکم ملق میں اس دورکی ایت اور اس کے سج یآ موز عالا کو جاتۓ
کے لے ق رن پاک کے اس ج ےکا بخورمطالعضردرکی ہے جو کے می نازل
ہوا۔ درا لکی دورکی بھی تکاانداز ای وقت ہوکتا ے ج بکی سورتوں
کے اندانز دگوتء أس وقت کے عالات اور واقیا ک ینیل مو حر وآخزت
کے دلا لکرداراورسیر ک ایر کے لے ہدایات اون دہاش لکی انچاَٗ عم
آز امش کے دورا نٹ ری ککوآ گے بڑھانے اودٹ یک کےیم پردارو ںکون
کے مقام پرقائم رک ےکی جدد جج دک یتخصیلات سا نآ میں ا نشیا ت کا م
قرآن اک کے براوراست اور بخورمطالعہ کے ایک ن یں ۔ الب بہال ہم
پ شض رطور پراس دو رک یآتفعبلات با نکر می گے_
مکی زندگی کے چار دور:-
آتحضرت صلی ال علیہ وی مکی حیاتطوہکاد+حص جوججرت سے پیل کے
بیس بس ہوا اورجٹس بیس اسلائی تم ریک: زگوت کےںنلف مرعلوں اورشمکٹوں
سے ہوک ری + اٹ یجتف تحصوصیات کے اخقبار سے چا رخنلف دوروں مم أقیم
پسلاد دد:-نوت کے بعدسے سب ےکرتق یا تن سا ل کک جن مس
آپ دگوت دن کفز خفہسورپرانجام دی رے۔
دوسراد دد:-نبوت کےاعلان سے نےکرتقر یآ دوسا لکک نٹ
یس پپیلےنز بیخالفت ہہوگی ؛ یھی اڑا یگئی لف النرامات تر اٹ یئ ۔ برا
ھا کہا گیا او رھوے پردیّنڑوں اورمٴالفایگفنوؤں سے دکوت اسلائ یکو
دہانےکیکیش شککئی۔
تیسرادود:۔جباں پگ یک سلائی برابر بی کی ریلم تم
ورس رہ سد
کر پااوراس می مسلمافو ںکوط رح طر کی مھیموں ے دو چا رہون پڑا-
چوتھادود: ذالوطالب اوزتفخرت ند بھی وفات کے بعد سے نر
اھر تک کآقر مآ 23 وو ضر لی لعل ویر اور ریچ کے
ساتھیوں کے لیے انا یی اورمصیبتکاز ماتتھا-
۱
ما میں وکوت
کارضوت پر مامور سے جانے کے بعدسب سے پہلا مرعلہ بت اکرصرف
ایک خداکی بندگ افقیا رکرنے اور باقی سیٹڑوں دا کو ںکاالکارکر دی ےک دگوت
سب سے پیلے سے دی جائۓ توم اور کک کے لوگ ںکی جو حال تی ا کا
اک کا سانش ہم اس سے پل یکر پچ ہیں ۔ ای لڑکوں کے سا وہ
بات ٹیی لکنا جو ان کے ما اج ءپپنداور مان کے پالکل غخلات وہ وی پڑا
بخ تم عڑتھا۔ چناخ جآ آخحض تل الشعلی لم نے سب سے پھ ےن لوگ ںکو
خ یاجی ہت بہت ق ری تعاقات رسے تے۔ اور جآ پک
عادات اوراغلائ یکا براوراس ت نرہ رکتے تے۔آ پک سال اوردیاء نل کے
پارے م نی فیصلہکر چے تھ۔ اوران کے لئے انٹمن تق اک
آنحضریت صلی ال علیہ مک فربائی ہوئی سی بات کا انکارکرکیں۔ ان لوکوں
یں سب سے زیادجرم رازخرت خد بھ تس پھراس کے بعر حضرتگیء
محفرتز یداو رتحفرت الوبگررشی ا ڈنتهم تھے۔ححفرتہکیآپ کے پچ زاد بھائی
حر زیرغلام او رنخرت اور ووست گھے۔ 0 یں نآ پک
محبت س فضیاب ہور ہے تے چناخجہ سب سے پپیلےآپ نے حطرت غد بر
کو یہ پام سنایا اور ال کے بعد دوصرے لوگو تک بات پٹپائیء بب کک
س بگویاکہ چپ سے مین تھے سنا او درد قکی۔ بچی لوک سب سے پیل
صاحب ایمان تھ پچھراس کے بحرحضرت ااوب کی ترخیب اور ہرابیت سے
ضرت عنا نع حضرت زی ضر تعبرا رك می نع عوف, حضرت سعدہ ایا
وقائص اور تخرت ظا یمان لا ے۔ اس ط رع اسلا مکی دحوت کے ےی یلق
ری اورسلرانو کی تعدادش اضافہہوتارپا-
قرآن کی تاثیر:-
اس دورییش جوق رآ نازل ہور پاتھادہذکوت کے ابتدائی مرح کی مزاسبت
سےبچھوٹے جچھونے بولوں شقل ہوت تھا ج نکی ز ان ذہایت بی عدہ شی ری
اورانچائ یہر اتی ۔ پان شس ایبااد بی رگ تو اہ نے وانے پرفورأی ا پاتا
ھا اور یہ پول ولوں یں تی وضشت رکی رح ات جات تھے جوسنت تھا وہ اث قول
کرتاتھااورال سکیا ہیا چا تاتھاکردوان پولو ںکوباریارد ہراۓ-
اعتقاد ات کی اصلاح:-
تآن پا کک ان سودتقوں میں فو حیداورآغر تکی فیس بیا نکی جا
ین ان 7 بارے میں ایےے خموت تی سے جاتے تے جو رلوں میں
ات “ایا کے لے من والوں کے ری ماحول سے ہی دلائل اورشواہر
یی سے جاتے تے اور يہ با قیں اییے انداز یش یی لکی جائی تھی جن سے
خاطب اٹھی طز مانویں تے ان ہیک جا رن کے واقعات اور ان ہی کی
ردایا تکی میادوں پہاصل باتک بچھان ےک یک وشن کی جال ی تھی ۔اعنظادا تکی
انگمرایو ںکا ذک رکیا جات تھا جن ٹس بہلوک اس وقت مین ہوئۓ سے اوران
الا تی اوراجتا گیخرابیو کا جکرہ ہوت تھاجشن سے وولوک خودواقتف تے۔ بی
بب ٣ال ا ںکلا مکونتاءمتماث ہو ۓ خی رقہر جتا۔ ال کے نی( سال
علیہ لم )نے تن تھا اس دقو تکوشردو کیا ۔حگن بی ق ران پا کک ابتزائی
آیاتکازول تھا جو اس میران شل سب ےزیاد ہکا رکرتھیارکاکام دےدا
تھااوردگو تآ ہت آ ہت خاموٹی ےکمیل ریاتی_
ان 3ری لوت ولغ کے لئآ حیز و حمرت ولا بنا اج
آححضرت یل او علیہ یل کو بابرا ام رای مبھی دی جار یح یکہدوخوداہۓے
آپکوال ںی الا نکام کے ۓےحسطرح تارکریی اوداس اکا مکواخیام
دی کے مل ےکی ایا صصو تی اخختیارکر میں-
چھپ کر نمازیں:۔
ایی ج ھہود ا تھا شید وطور پر ہور تھا۔ خہابیت اعقیا کی جال ت یک
نقائل اعخاولوگوں کے خلادہ با تککیں باہش نا تا جلیییڈلا زکا وقت 1ج و
آتحضرت صلی ال علیہ ول منسی پہاڈکیگھائٹی یش لے چاتے اور وپال تماڑ ادا
کرتے۔ ایک دفع ہپ حضرت گا گے ڑرات یا دڑے مل نماز ڈو رے
تھے۔انفاقی ےآپ کے پاااوطال بآ کے اورعبادت کے اس ت ےط ری کو
دنک اجب کےساتدد یھت رہے .ما کے بعد یو چھا۔' ہکن سا ین ے؟“
آتضرت نے فر مایا ہھارے دادا ابر ال کا دن ہے۔'' الوطا لب بو نے_
”نر می تو اسے انقیا ری کرت میک نت مکو اعازت ہےکو یمن تھا ری
رات نکر ےگا“
اس دور کے مومنین کی خصوصیات:-
ال ابتا رو رک خضرمیتے بی ہ ےکہاسل وت اعلام قجو لکرنا اور پھر
آتحضرتسلی ان علیہ لمکا ساتحدد یت گویا ان پکھیل جانا ھا۔اس دورٹل
جن لوکوں نے آکے بد ھکر اس کو تکوقو لکیا ان میس یقیغ کچھ ای
تصوصیات ین نج نکی اد پردہ اس میران مش٠ لآکے بڑھ کے ۔ا نکی چنر
مشٹر کنصوصیات یہ ہو نک یلاگ پال سے مشرکاندرسوم دعبادات سے بیزار
ے او ربق کی حلاش میں تھے ۔حیعبت کے اغقباررے ناو کات اور پاگیزہ
الات وا لے تے_
تر یبا جن سال کک دوچ کاکام پیشیدوطوزپ ہوتار الیک نہخرکب
گ۰؟ شش ںآ فا بکواپنے فور سے سارے عال کو روش کن تھے بہرعال
سسا ےآ ٹیا و لکوتم روک رناعی تھا چنا راب دگوت اپ دوس ےم زمے میں
داقل ہوئی_ .
اعطان دوت
اب صا ف عم لگمیا کہ دعو ت گی الاعلالع دئی جاۓ- چنان ایک دن
تحضر ت صلی ارڈرعلیہ ول مکوەصفا شر یف لے گے اورو ہا لکنٹرے ہوک پچارا
”نیاصباھاا۔'' عرب میں دستورتھا کہاگ رکوئی خطرہ درٹٹچی ہوتا کو ئ٠ کی
ادن مہ یڑ نوکر الفاظپکارتا تھا اودلوگ اس پک رک کرش ہوجاتے تے۔
چنایہ ج بکوہ صفا ےآنحضرت نے پہندابلعفر مکی ادرائل ری کو پکارات
بہت سے لوک تع ہوگے۔ ان لوکوں می لآ پکا چا لواہب بھی تھا۔ جب لوک"
جع ہو گے تحضر لی اول علیہ ےلم نے ارشاوفر مایا لوگو اگ می تم سے سے
کو نکراس پھاڑکی پش پرایک بد شرع ہے اورقم ہم لرکرنے کے لے تیار
ہیام موزی با تکو پچ ماف گےے؟'لوکوں تن کہا بے ئک ج٦ مانئمیں ے
تم نے ا بت کوک با تچھوٹ می ہی ہے او ہیں صادق اوراشین جانۓے
ہیں بآپ نے فر مایا نلوگوا می ہیں ایک دا کی بنلدگ کی طرف بلاتا
ہوں اور جو نکی لوجاتے بچانا چا ہت نوں کن اگرقم مر با نیس مان گت
شی ںایک بہ تخت اوردددناک عذاب ےےڈراجاہوں۔؟ٗ“
جب ریش نے یہ بات اف جخت نارائ ہہوے اورالواہب نے خہاامت
خفنن اک وک کہا کالہ نونے ای کے لئے میس پکاراتھا ا“
اسلائی ذو تک ببجام پچاشی۔ اب خداکے رسولی نے صاف صافکح لکر
اعلا نگرد یا کا کیا کے پہ مامورکیاگیا ہے اود وکو نکی شا ہراہ ہج سک
رف دہ رای ککو لا ر ا ہے-ز بالنجوت سے اب ال با تکااعلان +دگیا کہ
درائل اس بے پایانمملک تکاخالق اور یا لیک حرف الے۔انسا نکڑھی أی
نے ید اکیاےاوردقی ا لکا مال کچھ ہے۔ انس نکا متام اس کے سوااور یگ
تی سکردہاوق کا بندواورخلام ےا کی تا بعدارگی اورغ مال یدارک رن ا کا
فرش س٦ا سںکوگچھو کر دوسروں کے ےس وکا نایا اس کے ساتھھ دوصرو کو
ش ری کٹھب رانا انان کے اسی منصب کےخلاف ہے جوا کواس کے مان ککی
رف سے عطا ہوا ےتقیقت میں صرف ایک الشیی انسا نکااورتمام چھا نکا
خالیہممبوداورھاکم ہے۔اس سکی اس لطعت میس انسان نہخودارے اور نی
دوسر ےکا بندہ۔ انان کے لئ ال کے سواکوئی دوعرا اطاعتء بندگی اور
رت کا شی یں دنیا کی مہ زندگی جس مس اللدقوالی نے انسا نکو یھ
اخقیارات د ےگ رھچا ہے۔ دداصل اس کے لے ایک امعفا نکی رت ے۔
جس کے بعدأے از اید کے پا جانا ہوگا اور دہ انان کےتما مک مو ںکی
جار کر کے فیصلہکر ےٹاک ہانمانوں بیس ےکون اس امتقالن ش٠ لکامیاب رپا
اورکون تا کام۔
میراعلا نکوگئی معمومی اعلان نہتھ ال نے قر لی اور دوصرے لوگوں بش
این لن لگادی اور چچارطرف اس دگات کے بارے مل چرگگویاں
ہونےگگیں۔ چندروز کے بعد تحض رت صلی اوطرعلیہ وسلم نے حضرت کل سے
خر مای کہ دقو تکاساما نکر و۔ اس دعوت میس قمام خان ا پر المطل بک ہلایا
گیا۔ اس مین عم ز1 ابوطالب عباس سب ش ریگ تے ۔کھانے کے بعد
آتحضریتملی اللعلیہ لم ن ےکھٹڑے ہوکرفرمایا۔ 2یس وہ نز لک ھآیا
ہوں جودین اورونادوفوں کے لم کائی ہے ۔ اس بارگراں کے اٹھانے
ٹی سکون مبراساتھ د ےگا ؟ ىہ بے اسجخت مرعلہتھا اس بادگرا لی کے اٹھانے
0 ...ُ0
یں ساتقددی ےکا مطلب بتاک تصرف خا ند ان ؛ تل اورشم رک لوگو ںکی
بلکنہسار ےعر بک مخالف تکا مق بلہ]ر نے کے لے دی تیار ہوجاۓ اور
عحرف اس نے تار ہو جا ۓےککہ اس کے چنے میں آخرت یز فی
کامیاب ہوگی اور بفدہ اپنے ماک کےحضورس رش وئی عاص٥ لک ےگا۔ ال
کےسواکوکی دوسرافا دہ دوردو رم کنظر تج تھا ۔ چنا نچرسا ریائں پرسناٹا
چا گیا۔ ا ےت کسن حضر تک ا شھے اورفرمایا گر چ ری 1یئ
بوئی ہیں۔(اس وت پک 1نکھیں دکوردیتھیں )گومیری ٹاگییں نی
لن اوس شیپ رت ہس ےکم عم یھی ہوں ۔ اہم می ںآ پ کا ساتھ دو ںگا_''
قرلیش کے لے بی مفرڑھی جیب تاک ایک تیرہ سالہ فوع بلا پھدسو ہے سے
کتقاب افص ل/رپاے۔
دعوت کی مخالفت:-
اس وقت کک اسلائی اعت می ایس سے پھزیادہآدٹی دائل ہو
تے۔ اب ایک دن آححضرت صلی ال علیہ یلم نے ھ مکعبہ یل چاک رف حیدکا
اعلالن فرمایا۔مشرکین کے نز دریک بیقر مکعبہکی سب سے بڑکی نو و ننھی۔ ال
اعلاعٰ ک ےکر تے بی ایگ ہنگامہ اش ھکھٹرا ہوا ہرطرف سے لو کآپ پرٹڈٹ
بڑے۔ححخرت عارت مل ایا پالہآ پک مدد کے لے دوڑے ےا نان 7
چاروںطرف سے ات یوار بی ںکرووشمید ہو گے اعلا مکی داویش میگ
شہاد تھی ۔ اللد کےنضل ےآ حضررت لی الف علیہ وم مو ظار ہے او ری نہ
تی طل رت ہنا ریفرد+وگیا۔
سس ےس ور66 سج سے
مخالفت کی اسہان:-
اسلائی ذگوتکا براعلان سب سے زیادوقرلیشی کے لئے پر انی کا مو جب
قھاادر دی ال دگوت کے سب سے حخت خال بھی تھے اس وقت ک ےکی جو
عز تدش ودک بی وج گی ترک خاندا نکی ےکا مماوراورمتوی تھا اورای
طر گویا ق ری لکی ای کگ مکی نٹ ی علوم تقر بب سارےعرب پر قا متی۔
رہب کے معالے می لوگ ا نکی طرف د بے تھے۔او راکش ا نکی رجنمائی یہ
اخمادکرتے تے۔اسسلائی دگو تکی سب سے مہ اورسب سےکخت وٹ ای
رہب پ پڑ یتیج سک مدکی قرلی لکررہے تھے اورظاہرہےکہ پاپ دادا
کے نہب کے ساتھ الو مو ںکوگیی جوا نی نقیدت ہوئی ہےاس کے
مقالے شس دی متقول با تکو سننے کے لئ تیار نہیں ہوتے .کسی دجرے
کیلوگ ان ذو تک نک رآ گکبگولہ ہوجاتے تھے پ٦ رقریش کے زار
لوکو ںکو بیکھی صاف نظ رآر ہا تک راس دوت کے پچھو لے پل ےکا مطلب ال
کے سوا یں ہ ےکا کا سارا اق قدارٹی مل جا ۓےگااورانیں جو ٹربی
قد تکامقام عاص٥ل ہے دہآپ ےآ نت ہو جائےگاءا اط ے جْشس
مشئی بڑیگمد یکا ما تک تھا انتابی زیاد دودہاسطائ یف ری کک خلت می سرکرم
تم رت لی بی بہتکی بداغلا قیالچیکی ہہوٹیتھیں ۔ بڑے بڑ ےلوگ ان
برائیوں بیس ملا تھ اور باوجوداس سب کےا نکا نرٹی مقام ا نکولوگو ںکی
نروں می کر ن ےکوی دبا تھا کیونکہان کے فرش اور مق مکی وج ےلوگ ان
ک یتور یں پنظر یہی ڈا لج تھے۔
دی :
آحضرے مل ال علیہ یلم ایک طرف تو بت پت کا بدائیاں انف مات
تےاوراس کے متا لے بی نال سے مدکی وحوت د سے تھے ۔آ خر تکی جواب
دای کا ا ماس اور مرا ک ۓتضمورحا ض ہو کا خوف دا تے تھے ۔ دوسری طرف
وو انان ذیادٹی اغا قیا تک ایک ای ککنردر کوک لک ان فرماتے تھے ۔ان
کےاخجام سے ڈراتے تھے اوران سب سے نپ کی ہہای ت۷ر تے تے۔اک یم
کی اجس اننب ۓ'لوکو ںکوخت پر بای یں بلاکرد ای ؛کیوکہبہرحال
وہ ہیں ایی تی نہیں ہنیس وڈ کہ کت لیکن چون خودان کے دا ن ان
برائیوں سے پا کیل تھے اورت دوالع پرائیو ںکوکچھوڑ ن ےکی بمت اپ اخدر
ات تھ۔اس لج جبکوام کےسات می اتی ںآ تی شی سو ہوتاکہ
عوا مکی نظریں یں ا نکامقا کرد ہا ہے اوراگمرسا سن ےیل ایض رو ران کے
پارے می کلت چیفیال ہو ری ہیں ۔ مہ بات ا نکیجشخچعطا مہ ٹکو پڑہھانے کے
لئ بہت کاٹ یی یت رآ ٹیرٹس برابرا لے بدکاروں اور بداغلاتقوں کے لئے
تی نازل ہور تھی اوران کےا نکر فوں کے لے خت ےت عزاب
کی جکیاں دی جار یتھیں ۔ا نآیتوں میں اگر چہ بات پالکل عام اندازٹش
کی جار ی تی ئن جب یآ یں لوگوں می سپھیس بن سو ںکرلیتا کہ
ا کال مردپاے۔
تی الا یک مخالفت اورشنی کے لے ریقاماسباب اہ کاٹ ےک
ہوسکتا اک بیصاحبان اققہ اراسلائی جماعت کےکھوڑے سے افراو کے خلاف
تار نےکر اٹ زکھڑنۓ زونے او زا قطنظرے' کا یابارگ عذباب
ہے سس رق سن
کرد نے رین ہشیت الہی میں تو مہ فیصلہ ہو کا تھاکمرا نیش یبجورانسانوں کے
تھوں سارے عال مکو اش دکی دہ رعمت بانچنا ہے جو رأقی دنیا تک انساحی تک
جا تک داحدیٹل ہے۔ اس لے اس وقت بیدا ےے اسبا ببھی فرابم ہہ سگئے
تھے ج نکی وج ےت رین براقا مکی ںکر کت جن
مخالفوں کی مجبوریاں:-
ترجب می ز مانے میں ریش خانہہنگیوں کے باعث اہ ہویچے تے۔ جک
پارکے بعدلڑائی سے امھ عاج زآگئے ےک لڑالی کے نام ےرت ھھے مر
بیتھوڑے سےملران ول فیلوں سے جچ فک مر اسلائی جماعت میں شال
ہو گے تےےان کے یکا مطلب بیتھاکعرب کےنفل فتیلوں سے نک پپثر
جا ۓکیو ںکرال وقت ای ایک کال درل اس قیلے کےخلاف اغلان
پیک تواجس سےمںٹخس اتعلقی ہوتا۔ اس ط رح انی ا ایل سادا مہ
لڑائ یک میران نہ جن جائے۔ چنانچراس مر سے لئ ری ککودہانے کے لے
ود د ری ن ری اتارک یکئیں۔
وت اورداگ یک یی اڑائ یگئی۔ خلطڈالرامات لگاۓ گے رات ےکی می ںگالیوں
اوریبتیوں اذ اش عکیگئی۔ فۓ نے انداز سے غلطداوھوئ ا تی مو بک ر کے
رو یکن کیاگیا۔یجنون اور اگ کا خطاب دی گیا شا عراورجادو یکر شجورکیا
گیا لوگو ںکوردکامگ ا کیکوئ یآتحض رت لی ال علیہ وم مکی بات نہ صن پائے-
حالات کا مقابلہ:۔
اکیورڈنترآ نکی سور نازل ون ان ان عالا تکامقابلہ
حتشع یتس لوہ ےس سخ
کر نے کے لے برابر ہرایات دئی ارد یھی اورمخاشن کے اعتراضات کے
مقول اورمناسب ایا تی د لے جارے ےش سور ہ تلم می ںآفضرت
صلی او علیہ ول کیاکی نکی ال کے لے فرب گیا آپ پر ال کاڈ ارم سے
آ پ نوک ئییں۔آپ پرتذ ا کیا بے انا عنایات ہیں ۔جلددی معلوم ہو جاۓ
گار سک یعقل ٹھکان ےنیس ہے۔آپ کے ر بکوخوب معلوم ہےککون
سید رات پر ہے اورکون پھلکاہواہے۔آپ انا کام کے جایے جولوک ال
دو تکوگھٹلار ہے ہیں ءا نکاکہا ہرگ ضہ ماس دو اٹ ہی ںک اگ رآپ اہن
تریک اود دگوت کےکا مکوذ راڈ ھی کردی تو ووگھی ڈھیلے پٹ جائہیں ین
آ پکا ہکا می لک ہآپ الن لوگو کی خواہشما تکا روگ کر یں ج پھھآپ
ٹیگ یکر ہے ہیں ا لکونہ مان والو ںکامحامل ہآ پ میرےاوپریچھوڑدریں أنجیں
جلریمعلوم ہو جا ۓ کا اکرگئیں جو پیل دی جاردی ےا لکا اکیامطلب ے
آپ ان سےکہدد:تچیےکہکیا ۲ں تم سے بچحوطل بکرتا ہوں یا ا نے فائرے کے
لے تم سے بگھ ا ہنا ہوں یا میرک بات کے خلا فتجھارے پا سکوئی معقول
وت ہے۔ ا ہر ہے ال اکوئی با ت نیش ہے اذا آپ نہایت ستفلل عزادجی کے
ساتھ اپپنے کام پر سے دہپے ۔آپ اورآپ کے سای لن عالا تکا مقابلہ
اعت شب رکے ساتج کم تے ر ہی ۔عالات اپنے وت پر بدلٹش را
بلق رہ ایک نونہ ہےہ ا سک مکا تھارے برا نازل ہولی رہیں۔صاف
صاف تاد یاگیااکہدائیتتی ٹون ہے ش ہکا کن ء ن شماعز سے اور تہ چا دو 2
کا توں ۱ شماعروں اور چادوگرو ںکی ختصوص ات سا نے رکھواور وھ وک داگ
تح جو ت چچ رت چجے تھے
تن مس ان مل ےکو نکی بات پال جال ہے دہ کلامم جو جیی کرد با سے وہ
اخلاقی جس کا مظاہرہ اس کے ہچ رکام سے ور ہا سے اور وہ زندگی جو وہ
تھمارے درمیان پھ رکررہا ے گلا ان ا بات نک شاعروں ءکانوں اور
جاوگرو نکی انل ۓکیانہتٰ_
دعوت کی طرف لوگوں کی توجة4:-
الگ کید نے ال یک مکی خلط بافو ںکنشپورکر کے لو ںکور وک کی جن یکوشش
کی اتتاہی لوگوں یں پ اشقماقی بڑھ اک ہآ خر دنھی و بیصاح بکیا کھت ہیں؟
چنا نہ جو لوگ برب کے ددسرے علاقوں سے کے میں کے موقع پہیادہمرے
اافقات می نآتے رتے ے ان ٹش سے ککتتے بی جیپ جن پکرآتض لی
ا علیہ مکی خدمت می حاض ہو جا اکر تے تھے یہا ںآک ج بآپ کے
اخلا قکر یما نکود یھت اورآیات ال یکو نت تد لک دیای بدل چا اوراب وہ
اپے اپنے علاقوں یں جاکراسلا مکی دکوت پچھیلا نے گت ۔
جب ب چا دوسرےثبروں پھیاا لو وو روراڑ عااقًڈل سن لوک صرف
پ کے بارے یں در یاففت عالل کے لے نے گے اہ لحم کے واقعات یل
حضرت وذ کا وہ ایک انی مال ہے۔ خغا رکا قیلہ اس رات پہآبارتھا
جس سے ہو رق ریش ملک شا مکوتارت کے لے جا اکرتے نب وہای یہ
با ت کی و ححخرت اذ ر کے ول می بھی ملا جا تکاخشوقی پیر ہوا اُخھوں نے
چپ اپنے بھائی ا سکو بھی اک جا ودیھو شش جونوتکا دو کرجا ہے اس
کیٹھلی مکیاے؟ این کے میسن اورتحضور کے پارے میں در یق تک ر کے
جب وائیں ہو ۓ فو اپ بھائی سے چ اکر جیا نکیاکہ دش خمہایت دی اع
الا یقکاانسان ہے۔ایچھ اخلا قکیامیم د اہ اورنیک دای بن دک یکی طرف
لوگو ںکو ہلا ہد ہجام شی کرت ہے دہ شا ع کی سے الک سے
حفرت ابوڈ کوا نر بات سےسکیشن نہ ہوئی ۔خودسفر کے لے تار
ہو گے کے مس ینیچ ڈرکی وج سےصی سےآخضرتیسلی الہ دم مکا نام
کک نہ وچ ےمم می حضر تک سے ملاقات ہی تن دن ان کے ہا
مہمالن ر ہے ج ب کیل بیربمت بوئ یکراپنے فرکی نر الن سے جیا نک بیں-
چنا نی تر تلع آ پکوخدمت باب رکت ٹیس نے ئے یہاں حاضرہونے کے
بعر رت ابوڈ نے اسلام قبو لک رلیا تحضر تل العلی لم نے پکو
ہرابی تک یکہ اب اپچنے تیلے ٹیش والیں جا ما نت حید الم کا جوتازہتازواڑ
دل پہہواتھااسں نے سساریصلکخوں اورخوفو ںکودلی ے دو رکردیا تھا- پا
ےآ تے اعم یسک پکارا۔
اَشْهَد ان لا اِله الله وَاَمْهَة او مْعَمَدا رَسُوْلْ الله
ینا تھاکرلوگ پارول طرف سے دوڑ پڑے اود مان ٹرو ںگردیا۔
دو نز یر ہوگئ یک مین وقت بر ححخرت عپاس آ گے اور انھوں نے مارنے
دالوں ن کہا کہ ىہ خغار کے تییلہ کے1 دی ہیں اورتھھا را تجارثیٰ راست ان
کے یل کے پا سے ہوک رگن رتا ہے اگ رأُفھوں ن تھا را راست بن دکراد با
کی اکر و گے؟ بی نکرلوکوں ن ےآ پکوچھوڑ دیا-
حخرت اور جب ا تیلے ٹس ینیچ اور جا اکر ادا مکی دکوت دی تقر با
.سے 0+( 97).۔ سس سے
آدھا فی أسی وقتہ“لمان ہوگیا۔ خفار کےقر جب دی ال ماق ہآ با تھا ان "
کےائر ے) فھوں ن بھی اسلا مکی دحو تقو لک لی نون مکنا سلاس مکی وت
اس طر ملین ی شروغ ہوئی_ یہ بات ہاش نکیل خت از یت آو تی کا سبب
تی رہی۔ چناخچراب ان مس سے پلک ور ہوک را وطالب کے پا شکاببت
نےکر گے اس وفد یں تام روساے ریش شائل تھے جھویں نے ابوطااب
کہا نھار اہم رےمعبودو لکن خی نکرتاے۔ جھارے باپ دادا کوک راہ
بتاتا ے اور بھم س بکوغلط اور ام یکہتا ہےالدایا تم چےہٹ 0207
محام کو خری بار پکاڈالیس یا گرم ا ےمچھا جب اوطالب نے انداز وی کہ
اب بات بب تحت نا سے اور بیس کی اکم بتک سار ےت رمی کا مقابلہ,
کرو ںگا ق تحضر لی الطرحلیہ یلم سے بونے۔'پیار ےکن ! مرا وپ
اتقابو نہ ڈا لکہمیش اُنٹھانسوں' آحضرت نے جب دیکھاکراب الوطااب
کے قد بھی ڈکمگاۓ جار ہے ہی تذ نہایت اٹمینان کے ساتھ وف ایا خدایاتم
اکر یلوگ می رےایک اھ یں سور نع اوردفسرے پاتھ بیس چا ند لاک رکود یت
بھی یں اپن فرش سے باز نہ و ںگا۔ خدایا تو ا کا مکو ودرا ےگایا :9
خودا لںکام پر ار ہو جا و ںگا۔آپ کے اس پختدارادے اور ہا ہمت شی ےی نکر
ابوطال بک یبھی بمت نی اور ُتھوں ن ےکہاککہ جاءکوکی تا بال بک نل
مرکا
مخالفوں کی پیش کش:-
ریش جب اس طرف ےکی مانیں ہو گئ 9ے آخریی جار ة کر کےطور پہ
تک یاکہ اگ ےنیس نکی سے ىی ال نون ری کک خا کرد یاجائے چنا نچ
قب ئن بر کو پکی خدمت می ںکھیجااس ن ےک رکا
”مھ ر! آخ تا :تم چا ےکی ہو ؟ کیا کی عکومت با و ۹ی بڑے
. مگھرانے می شاد کی خوائٹل ہے؟ یادوات کے ڈعمطلوب ہیں ؟ ہم یسب
چو می اکر کت ہی ںتم اس کے سل ۓےکیوں برسب انکر تے جو ہم اس پر راشی
ہیں 0 کھارےزمیفرمان ہوجاۓ اد جج چا ہدددکردیاجا ےنت
اتی ال ذوتے با زآما“ َ
طاشن بیارےاتتای سو ستے تھے ان کے ذجنوں میس ىہ با تآلی ہی نہ
شیک کوگ یت یک چلائی جا یاکوئی وت بلندکی جائے اوراس کے پچ ےکوی
تی بہولی مانڑی غرنس نہو۔ان کے ذ جن میسو بینجیں نے جےکیکوئ یکام .
صرف مد اکی خوشنودی اون ال سکی اطاعت کے ل ےچھ کیا جا سک ے۔ وو
می جات ت ےک جان اذز ما لکی با زئیحلومت اوزدولت ہی کے لئ اگاکی اتی
ہے أنھی ںک یاتعلوغ تک ہآ خر تکی دای زندگ یک کامیالٹی کے ل بھی لک
مور ہو جا ۓےگی لیا نآحضرتص٥لی الد علیہ یلم نے اس کے جواب میں
قرآئن پا کک چندآیات علادت فررائئیں ۔ جن میں فذح دکی دگوت اور
رسال کی وضاح تک ای
نیہ یک نکر دائیل گیا اود ا تما اٹ ن ےک گیا کہ ججب اس نے تھزییش کے
سرداروں کے سا تئےا پیر پورٹا ئن یکین کہا دجام شی لکرتے ہیں دہ
شاع ری خی ہے پکھدادر یز ہے۔ میرک رائۓے ہ ےکریقم ا نکوان کے عال پہ
چھوڑدواگردہکامیاب ہو گے سار ےقرب پرغالا بآ جا گے اوراس ٹیل
تحار یبھی عزت ہے او زی ستذ عرب خود یں ف کرد ےگا ' لیکن قرلیی
نے بی راۓ منفکو ری ںکی۔اب ایک یا چبادہ باقی رہگیا تھا جھ ہر پال اس
ھرمے ہشقن کےخلاف اخحتیا رک یاکرتا ےکجنی پور ےتشدداورزور کے ساتھ
تنک یآ دا زکود با غک یکیششں۔ چنا ی اب ترلیشی نے بھی فص کیا مسمانوں
باقخاںی جائی ںکروہن گآ کراینا فیصلہ بد لے پرمجبور ہو جاتتیں۔ تےے
چہاںم وت لے مسلمانو ںکوستاۓ اورازیت دے_
۱
ہم ۰07
اجظااواز مال
اب کک وت ا ساٹ یکاجوکامہواتھا ا سار لین صودتوں مس نظاہ رہ واتھا_
(۱) پھوئیک اور جم یاوگوں نے اس دکو تکوقو لکرلیااوردہ ای کگمرو ہبی
کی ری ککوآگے بڑھانے کے لئ ہ رقمت پرآمادو ہو گھئے۔
)٣( ۱ بہت سے لیک اپتی نادائیءخوغفتی یا اپ پاپ داوا کے دی نکی
انگی قیز تک وجرے ا لک ری کک خلت پرآمادہ ہو گئ_
٣ ( کےاورق لی کی ہددد ےکک لکر ری شود تن زیادو وع علق ککیاگی-
اوراب ہلل سے ال نف یک اود برای جابیت می ایک سخ نکش
شرو ہہوگی۔ جولوگ اپنے پرانے دن سے نے زہنا جات تھے أھوں نے
ریقوت ےت رکیک اسلائ یکومٹا ڈا لے پ ہک رباند کا اود الا قجو لک نے
والوں پراخچائی وحشیایشهم تم ڈدہاۓ اورا نکو ہر رع سے ماج کرد نے پل
گئے چنا نج بی دہ دور سے جس میں رٹل کے مظالم کے انچائی عبرت ناک
وایاع مار از ات ہہیں۔
عرب جی ےگرم م ککی تج پوپ میں دوپہر کے وقت پلتی ہوئی ریت پہ
ملمانوں ںکولڑاناء ان کےکبینوں پہ چھارکی بھارگی پھر رکوکردباناءلو ےلوگرم
کے داع د یناور پای بی ڈیا دیناءاضناکی بے دددیی سے مارن ناش
یوکراوداائم کے مظالم تھ جوسلمانوں رو ڑے جانے گ اکر چا دورشٹں
عاممسلمانوں کے لے ندکی دوج رکرد گنی یکن تا رای یں جن مظلومو ںکی
استانوں کے پجھ ےل ہو. نے ہیں ان یس سےلطو نمونہ چندیہہیں۔
ححفرت شاب (زشمی ال تی عنغ ) آپ ام ا مار کے فلام تھے ۔ابھی چھ
ما تآدئی بی اسلام لائئے ےک ہآ پکبھی الام سے شرف ہو اوراسی
”جم مو ق ریش کے مال مکا نشانہ بے ۔ت ریش نے اسیک دن ز ۲ن پرکو کے
جلاک رآن٠یں جچت ایا ادراد پر سے ایکہ۲ٹل نے نے پہ پا کو رکاکردبایا کہ
کروٹ لین شہ 2 یہا لک کک کو کے بٹچھ کے یج بی نے ہو گے ۔
دق کے بحرحضرت خبا بے نے ایک باراپنی چجلی ہوک یٹ پہ بی کے سے
داغ دک ھا ۓ تے۔ :
حخرت بلال 2ی الد عنۂ ) آپ امم بن خلف کے غلام جے ۔ کیک
د وپ رکے وقت امیما نکوجلتی ہوئی ریت کےادپرلٹا اور بھاری پھر نے پر رھ
دیتا او رکہتاکہاسلام سے ایارک ہنیس تو یوں ب یکم ٹفگ فک رم رجات ےگا لین
اس وق تگگی انچ یل بک عالت ٹ لآ پک زبان ے''احراع'ی تا
اورا نکا نان کے گے یل ری با ند ھکرلرکوں کے جوا لن ےگردیتا اور وہ ا کو
شم کے ایک صے سے دوسرے ت ےک ککیلتے پبھرتے۔
ححخرتعرآر ری ال دعنۂ )من کے رب دانے تھے۔ ران چند باہمت
لووں میں سے ہیں ج پالسکل ابتقداء می مسلمان ہو تھے۔ بے جب اسلام
زا ۓنذ ریش ا نکوچجلقی بہوگی زین پرلناکراتقا مار ےکی ٹے وش ہوجاتتے۔
فرت یہ (ریشی اللرعتہا) بی ای ککنی یں ۔ حضرت عھڑ اپ ملران
ہے سے ان لوا کے فو یھ کک جٹھ جات مجن با کی بندگ می
کپ ںک رارق الام می لاک گے تو خداخم سے ال ںککابدلہ لےگا-۔
صخرت ز ہب ہ( زی اللعنہا) بھی خر ت کڑس ےگھ ران ےک یکن ہیں
ایک بارابیجمل نے اا نکوا تنا ماراکہا نک یمیس جائی ر ہیں-
خرف بکیمردوں اورگورتوں یل بہت سے اہیے لا ار اورجیورمسلران تے
جورع رح سے ستاۓ جار ہے ےمان تام مظال می نیک ملا نکوکگی
اسلامکچھوڑنے پآ مادوشرکر گے
جب ان بس اور یتصورمسلمانوں پرمظا لگ نوڑے جاتے لا ز]
لوک متوج ہوتۓ اوران کےدل بر ٭ بت پرگورہوچا ۵7 خرووون
سال ہے۔ جو ون لوگو ںکواتی مھیبموں کے باوجوداسلام سے پٹ رے بپہ
آ مادہ سی ہو ہے۔ سب جاتۓے جھےکہ ہیلک اپے اخلاقی ء معاطلات اور
دوسرےانسالی شتقوں کے اتا ر سے بہت رین انسان ہیں اورا نکا تو رانس کے
سا یس ہ ےکم کچ فی سکم موا ایک ال کے اور یکواینارب (آ قاء
ا ئن ادن پیج ود نین :ابس گے اود اطابحت فزنلرگی صحرفت نا گا
کر میں گے لے ان مظلو مسلمانو ںکی براقا مت بہت سے لوکوں کے سا نے
ایک بہت بڑاسوال مب نک رآ ی می اوران کے دلوں بیس لا ز ای کک مکی نرک پا
کر نمی ادردہ اش نیت ری ککوقریب سے د نے اوروکت کی طرف بائل ہوتے
تے۔ اہ لق نکی مظلومیت ہبیش ہت نک یکا میال یکا ز ینہ کی سے چنا نجرا بھی ایک
۱ لے کید یکن ین ىہ بات کل ارہ وت ول با تن شیب دے
کی خر اتی بات کیم راوگ ںکوول اتقاستایا جا تھا بات ے ے/ نہہمارے سا ئۓ تل لفظ ر کا
پور پورامضفہوم ہے اور ہم عباد تکا دی عدودکوسا ئے رھت ہیں اکن بہلڑک جا تھک۔ا نک
زان شیل رب اودعبادت کے الفاظکی وم کیا ئیں؟ چنانچرجب کچچے تےکہ ہمارارب ال ہے
نے وائےاور ضف والے ددفوں جات جے ےرا لکامطلب یی ےک ا
(۱اللل کے سواکوئی دوسا پروردگازنیس ہے اورجب ایا سے تذل رانسا نکواس اشک رگا ہوا
جا بے ای سے دعا یں مانادرت ہےاورعیت ذلقیرت کے ساتھالی کے سا نے رانا بھی
یں ےا اس کے و اکوئی دوراب ری کا فی نے اورنہوکھاے۔
(۴) ال کے اکوئی دوسراما لک او رآ گائیں ےا لئ انسانکوہ یکا بنلدہاورخلام بی یکر ہنا
ای اس کے مقابلہ جس زا خوداہپ ےآ پکوخودظار بے اود نی دوس رکوہ اس کے سواسی
دسر ےکی لئ اگوئی درس ت یی ۔
(۴)اللہ کے سواکوئی دفصرا حاکم اورفراں روڈئیں سے اس لئے اطاحت اورفررائبرداری
حرف ایک درست ہے۔ انسمان غ خوداپنا حم بے اور تہ دا کے سوا ای دض ےکی کر یکو
لی مکرے۔ یی د اط اجس سے ایر فوا ا ودک خدال مت ہو یجنک
گہادت پاپ داداے ۶ ی ی1 نی اوردوس کی طرف ب مکی سرداری اورکومت کےغلاف
یکا ہوااعلا نع اوت تھا۔ای لے مرٗسی و ااورقبائل کے سرداراس اعلا نکو بر داش تک نے کے
لل ےکیطر تار ند تھے۔
رف ت2 مظالرنڈڑے جار ہے تتھےمکن دوسرکی طرف اسلائ یت یک برا یلق
جاریتی- کے می لکوئی نماندان او رکوئ یکھ ایا ضدد ہاٹس کسی نک ین
نے اسلام قول نہک رلیا ہو۔ اور بجی وجش یک اسلا کے خالف اورھی زیادہ
تھا ہٹ اور نے کا شکار ہوم سے وہ رت ےلان کے اپ بھی
کیج کیہ ہہزوئیء ینہ بیڈیاں دحوت اسلا کوقبو لکرتے جار ہے ہیں اور
رف اسلا مکی اط رسب پئچچھوڑ مچھا کر الا ان کٹ جا ےکسلنے تیاز
ہیں۔الن لوگو کیل یہ چو ٹ مخت نا قا ئل برداش تی ۔ رطف کہ جولوگ
اس ن یت ریک میس شائل ہور ہے تھے دہ اہسے لوگ تے جھ اپنی سوساکٹی مس
پہتری ن لیک ھے جات تھے۔ا نکی سوج بوجھءاخلاق اورعامانسمانی خویاں
سب لوگوی رواٹ تیں۔ جت بںم کے لوگ اسلام قو کر کے اپنے
سمادے مفادات پہ پالی چھیرن کیل آمادہ ہوجاتے تے نز ہہرحال بر
سوچ پرجبو ریو جا ما تھا اک آخ را لت یک اوراس کے دای بیں ووکو ن یکشش
ہے جولوگو ںکواس درجہ چال شأارکی پر تیارکرد ہق ہے۔ اروگ ریبھی دبکنت جے :
کاسلام کے دائے می ںآ جانے کے بعد بیلوگ او یھی زیاد راست بازہ چچے
بالات :مال کےانچھے اود کیو انسان بن جاتے ہیں۔ یسب بات الی
ان جہردیحد ےلگا نت ص/۸ چاے ضتاسلاق قو لکدےے یا
کر کین اپ دل یی اس و تک پرت یسویں کے انیس رسک ھا۔
حبشه کو ھجرت سن۵نبوی:-
ا ارت لال علہ ہمیخ کلت یاہ مال دی جے جب
آپ نے بیانداز وف مال اہ ایق لین کے مظالم ک ےمم ہون ےک یکوگی صورت
یئ ےاور بہت سےمسلمان ایے ہیں جس یبھ یت کے متا بے بیس اسلام
سے من نرموٹڑریں گ ےتکن ہہرعای ماب ا نکی قوت برداشت سے باہر
ہوت جار ہے ہیں اوران کے لے اسلام کے ف را کا بیالا کک لکن ہوتا
جار پاے:ذ تحضر تملی اود علیہ ویلم نے می فیصلہف ما کہ بھی مسلمان عیش کو
یسوم ری وی سس
یگ ول اودانتصاف پیندعیسائی تھا اس جثرت سے جا ایک غرٹ میٹ کہ
اتی سد کر ےم اکم اس وقت کک جات پا جال جب
کی غالات چو درست مہو جا ۔ ہل ایل ہذافذا کد:ب یدگ تھا گان چال
شزاروں کےذر ایراسلا مکی دو تکو بجودوردراز عو ںکک پیج ےکا مو طا۔ ۱
چنا نمی بارگیارومرداود چا رگو چس اس اجثرت کے لے تیار ہو گے ان
لوکوں نے ھتوی ماد ر جب میں سف رکیا۔ ال اکر کہ جب بہ لوک بندرگاہ پہ
1ن ذدوتھارنی چہازوایی کے لئ تیار تھے ججوان لوگو ںکو بہت بی سس ھکار
پر نے میق ری شکو جب ہین وین ُخھوں نے اان لوک ںکا چچاکیا نان
ال کل سےا نکاجہازرواتہہ چکاتھا-
یش میس پیمسلمان امن دامان سے ر بے انان جب یق ری تق لی کو
چس نو وو ہڑ ےتا ومیس؟ ے اورآ خرکار یہ کیااک پچجولوک عیشہ کے بادشاہ
(ع رب لوگ أ ےناخ ی کے تھے کے پان جاک کی فک یلوگ ہادے جم
ہیں آپ انیس اہے کک سے ال دسئے تاکہ ہم آھیں اپنے ساتھ لے
جانہیں۔عبداپن بن رہہ او ر مرو بن العاض ا ںام سے لے کے گے اور
ایت شمان کے ساتھ بیلو مج دوانہ ہو ے۔ پیل یلوگ چا رگینشی کے
پاددیوں سے لے اوران س ےکہاکمہران لکول نے ایک نینم ہب کالما ے اور
جب ہم نے یں کا دبا تمہ پھاگمبکرآپ کے کک می ںآ گے ہیں ہم جاتتے
نک ہآپ کے بادشاہ کے سان چم بردرخواست یلک ی کم ہما ےہججرم
ہیں ج بھا کک چل ےآ ہیں۔ نیس بی وی ںکردیا جا بنا آپ
صا حبا نچھی ددر ہار جار سغار لک میں-
مسلمان نجاشی کے دربار میں:-
جب کے والو ںکی درخواست خماخی کے ساتے یش ہوگی تو اس نے
مسلمافو ںکو جا جیا اور یو پچھ اک نیتم نےکونسا نا نہب اییادکیا ے؟“۔
ملمانوں نے اپٹی طرف سے بات چچی تکر نے کے لئ حضرب تج نفرربین الی
طااب (حخر تی کے پھاگی کومق مر رکیا۔آپ نے دد با ریش ال موقہپرچھ
تق ریفرماکی :تار کی کتابوں مںٗ تفوظط ہے۔ا لکاخاصربے:۔ ٠
”'اے پارغاہ! بھم یع صدے چہالت اورگرای کے اندعیروں میں
پلک رے ے اک مد اکوگھو لک ریلڑوں بتوںکی پڑجاامرے تے۔ مردار
کھاتے تھے ز نا ءلوٹ مارہ چوری اورایک دوصرے پل مکرناجمارارات د کا
کا ا جاداہرطا اپ سےکزدکوکھا پانے پر کرت اخ کہ ماد
زی درنرول اور چاٹورول گنی نی للرکی مت د ھکاس نے
ہمادرے عالل پر رت فر مایا جم شش سے ای نین اییا پیا ہوا شے اللہ نے ایا
سے وت سستسشے
رہول منایا م اس کے نب ے وافف ہیں۔ دہ خہایت شریف ہے۔ یم اس
کے عالات سے واقف ہیں دہ انا جیا امانت دار اور پاک دائنی ے_
دوست اودیشن سپ ہی ا کی نی اورشراقت کے ققائل ہیں۔ اس نے ہھمکو
اسلا مکی دشوت دگی اور کھا کہم پپھرو کپ جن چھوڑدرمیں۔حرف ایک الد
کو انا آنا وا لک تلی مکرمیں اود ا کی بندگی اخقیارکرہیں۔ پچ بولیش بنل
وغارت رے از ون کا ال یدکھا ہین پڑدیو ںکی اکر ید
زناکاری اوردری اگندگایا نول ے یں نما ز بے ھی + روز ےنال
راہب اپناال خر جک یں ناداروں اور بیو کی مر دک میں ۔ ہم ا پرا یمان
لا ۔شرک اور بت پت یکویھوڑ دیا اورقمام بر ےکامولں ,0( ال4
ہار و م ہماری رشن ہوئی او ر میں مورک تی رد کہم پچ ربا کان بھی کے
دن پآ جاتہیں اوراسی غ مل کے لے اب پرلو گآپ نے ہار دای کے
لئ اصرارکرر ہے ہیں“
اشن کہا اچھاھارے نی برا کا جوکلا مات ریا کا بچحوتص بڑھ
رتا“ 'حضرت نے سو وم ری مکی چندآیات پٹ کرسنانہیں۔جا شی بر بڑا
اث ہوااورا کی آنگھوں سےآنسو سار ہوگئے۔ اولا۔خدا کیا پیکلام اور
ایل دوٹوں ایک تع راغ کے تو ہیں“ میک کر اس نے ریش کے
لوگوں ےصا فکبددیاکہ یلما نآپ کے وا ےی سی جانیں گے
نجاشی کا اسلام:-
دوسرے دن تی نے ایک اور چال إیدیزرین جاک کہ اکہذدا ان
ملمانوں سے ہل و کہ بی تخر تم کی کے بارے مم سکیا عتقید ہو رکھت
یں ۔ برلوگ جا ت ےکم سلمان و عیس ئیوں کےمقیرے کےخلاف حخرت
صصکوال کا ٹا کے کے بد ثے مری مک ٹا کک ہیں اور جب بی بات ناش
کےسا ئ1 گی فذووضرورمسلمانوں سے ب رکشت ہوجا گا نجانگی نے پھر
ملمافو ںکو درہار مٹش بلا جیا جب برصورت عال سام آگی تو لے تر
مسلمانو ںلواھی یتر زدہوالین حر تفر ےکہا۔' جھ باوٹھی ہونکہیں بات
یا کرناج ہے۔'
چنا رت ٹفرنےپھرے در ہار اعلان فرا ہمار ےکن ہے
ہیں جایا ےک حر تن خدآ ہے بنرے اوراس کے ٹر تھے گی نکر
خجاٹی نے زین سے ایک کا ٹھا لاو رکا:۔' 'خداکیاسم جوقم ن ےکا یی اس
کے برابیھی اس سےزیاد ہیس تے ا سط قرب کا یرد یھی ناکام
ہوگیا ای نے حضرت نف اورآپ کے ساتھیو ںکولزت کے ساتھاپنے کک
یش رہ ےکی اجازت دکی اور ال نے 1ض رت صلی اید علیہ ول مکی نبو تک
تد نکر کے اسلام قبو لکرلیا اس ماش یکانام اسحمہ تھا۔ جب ا لکاانقال ہوا
آحضرت لی ال علیہ دیلم نے ا مباعطود پل کیاغباز جناذوپنی۔
رف رف تق رپ[ ۳ مسلمان حعثکوبجر تک گئ۔
حضرت حمزہ کا ایمان:-
کے میں ایک طرف ق ریش کے مال تھ دوسری عطر فآححضرت صلی اللد
علیہ لم اورآپ کے ساتھیوں کےبرواستتقامتکا ظا ہر وت درا شش کے
ئ۹۶۹ ,۶ “کم اسلام کے دائر سے میں شائل
ور سے تھے تعفر ت جم مہ آپ کے با بے ین ای ملا یش ہو ے تھے۔
آفحضرتملی اش علی ہم سے منافین جس بے کی کے ات آخحضررلل سے
آتے تھا سے اپ کیا لان بھی یس دک ستے تھے ایک دن ادتہل
حض صلی ایشرعلی لم کے ساتھ انچائ یکمنتائی سے ی لآیا۔حضرت تمزہ
شکارکو گے ہوۓ تھ جب وائیل ہہو نے ای ککنیٹرنے سا راواقع نایا جخخرت
حمزدخصہ سے تاب ہو گے ۔ تیردکمان پاتھ یل لے ہہو حم می ںآ ۓ اور
ےکی حالت ٹس ابوتہ لکو برا پھ کہا او رکہا۔ نمی مسلمان وکیا ہوں یا
عمایت کے جوشل میں کن ےکوت کہ ڈیا ین ابی ول باپ دادا کے دی نکو
تر نے کے لے تار نہتھا تام دن سو چچتے رہے۔آ خ رکا رق نکی پکارغال بآکی
اورپ نے اسلام قجو لکرلیا۔ بدا ق ہکن ۹انیوٹ یکا ہے۔اس کے چنددن بعردی
خر گر نے اسلا مقبو لکرلیا۔ دحوت اسلائ یکی تار بس بی داقدتگی بہت
رو
حضرت عمرڑ کا اسلام۔۔نبوی:۔
اسلام تو لکرنے سے پیل حطر تع رکا شا ران لوگوں یس تھا جوا لام کے
شد بدیخالف تھے ایک طرف نے ففرینش کے بڑے بڑ ےلرک داگ اسلام اور
وت اسلائ کی مخالفت مس انچاکی شدرت اخقیارکرتے جاتے تھے دوسری
طر فآ تحضر تسلی ال علیہ ول مک کیفیت بی کہا نکی رجنمائی اور ہریت کے
آپ کے دل یں انچائی عبت کے جذ جات ائجھرتے تے الڑیئل او عم
وو ہے
دوفو ںآ پک شف میس بہ تخت جھھان جب ذکودت ون کی سماریکوششیں
ان پکا رک ہنیس ذ اس دممت عا لم نے ایک باد باری تھاٹی سے دعافر با یک
خداوند!ابوشتل اورعمرییل چو تیرے نز دیک زیادہنحبوب ہو۔ اس نے اسلا مو
مصززفرما''اس دعا کے چندروز بعد ہی جرگ ڑکواسلا قد لکر ن ےکی لیت
7-7
خو ور گھڑنے فرمایا کی ایک شب می ںآحفضرت صلی او علیہ ومل مکو
ہنا نکر نے کے خیال سےگھرسے لھا ۔آ پا مس د7ا کو جار ہے ت ےآپٗ
ہوک رس میس داشل ہو گے اورنما زش رو کرد مل سن کٹا موکیا۔آپ نے
وہ الا ق ہکی ق رت فرمائی یش ا سکلا مکی نک رحیرت میں تھا ۔کلا مکانشم اور
انداز نا یت بش معلوم ہوتا تھا مر ےدل میں خا لآ اک خدا یئم بیخاع
ہے ای بیضیا لآیا کی تھاکہآپپ نے میآیت پڑی:-
اه لقوْلَ رَسُوْلٍِ کریم ومَاهُو بقوْلِ شَاعر ط قَلِیامَانَومنويَ .
صسرجسےفے :- ایک بز رک قاصدکاکام ے اور یی شا ۶ کا الاعمئیںء
(لن )تم !یما نیس لاتے۔
بن نے ج سنا تق فورول یل خیا لآ یاکاوہو مین میرے د لک بات
جا نگیا۔ بیکا ان ہ ےا کے بعد یآپ نے بیآیت ب ڑگی۔
لا بقَوْلِ کاھنِ ع قَلِيْاَمامَدُكرُوْنْ ہ تل مَنْ رٗبَ العَالَمیْنَ ہ
ترجہ :- رکا ا نک لا ممھی یں سے بت تح ت نیس حاص٥ لک تے یل
جہانوں کےر بکیطرف ےاُتڑاے۔
آ پان سور تآ نرک بھی اوریٹل نےسو ںک یا اسلاممھرےدل
سک مکرر ہا ہے لیکن ایی معلوم ہوتا ےکہ چوک حض تع رای تل
راع اور پختکارآدٹی تھے اس لئ اس موقعہ پران می آظیر پپرال ہوااوروہ
انی روش پہ لئے رہے۔ یہاںکا تک کہ ایک دن وشن ی کے جشش می نوا نےکر
انانم مارے از (نتوذہایل) آتحضرت لی ال علی لمکا
کام عی تما مکرد یں رات مس انقاق سے نیم بن عبدرائند سے ملاتقات ہہوئَی۔
أنھوں نے پا چھا۔ ”کیو ںکدت چارے ہو؟' “ون ےآ مھھ(صضلی اش علیہ
لم کا فیصلکرنے جانا ہوں۔' أفھوں ن ےکہا۔ پیل اپ ےگھ کی نذ خجراو۔
خو ھا رے بن اور >ہوئی اسلام لا گے خر ںی نکرفورا لے اورسید سے
نک ےگ نے دوٹرآان پخ رق یف ا نکوآ ناوک یوک ناپ ہو او
سر اء چیا لے کن حضرت مرن گے تھےکہ مہ چھ پڑھ ری یں
چا کرکیاپڑھ زحینھیں؟ اود یک گرم دوفو پاپ دادا کے دن مت غار
ہومئ ہواپنے ہہٹوئ یکو مارنے گے۔ اور جب مہ نآ ڑ ےآ میں فو ا نک یگھی
خر یہام کک دوفو ںاہولہان ہو گئے ان جب ان دونوں نے صاف
صا فک اک ہم اسلام قد لک گے ہیں اورابٹھار یکو ین یں اس رات
سے ہام کت فان کے اس پت ارادےکو دوک ترتع پر یناث ہوااور
لونے۔'''پچھا لا ة جھےکھی سنا مکیا پ رت یچھیں۔ آ پکی بن فالہ نے
قرآن کے اجزاءلاکرسمانے رکھود نے دوسودہ شیا ۔آپ نے پڑھنانرو ںغکیا
اور جب ا ںآ یتر ججج:-
سا سو 99 .سس تسس سے
تی آتا اللَهَلَالل لا انا غٔذیٰ اقم السّلوٰة لذکریٰ*--
تسرج>: یٹ ہوں خداءمیرےسواکوئی دا سو بندگی میریکرواور
میرک اد کل ما مات رکرو
ةیاڑ راڈ راپاراۓۓ۔ ار الال“ ' اورسیرھےآفحضرتں کی
فدمت مر دا ہہ گے پدوزماندا آتحضرت کی ا عیہ لمحت
2 کے مکانع شی لھرے ہو ے تے۔ددوازے پر یی چون سنگوار پاتھ مشش
تی صی پور ہوا -92 ھھووبئ[7 آسڈنوداگر
انی عیت ےآیا 71 پچتر سے ورفہائ یکیمگوار سے ال کا س رُڑاوو ںگا۔“
حطر تد گر نےاددظمرکھا 2ھ آفضرت“ ٥ی اشعلی سی ےلم نے بڈ گرا نکادا ان
9 و 2000 ہو؟ “یہ نت کی تفر تگھ یر
ایک رحب طارکی ہوگیا اود خبایت عاجزکی سے لونے۔ ”یمان لانے کے
لئ آحضرت صلی اللہ علیہ یلم نے بے ساختۃ پکارا”الل از اور اتد ہی
تما مھا رن ےن ری بلندکیا۔
ححخرت عم رکے اسلام لانے کے بعد اسلائی جماعح تک قوت میں کائی
اضافموگیا۔ بیہاںت کک یمسلمان اجج یتک اپنے خربی ف رگ اعلاع ادانل
کر سے تے او رکے میں جماعت کے ساتھھتماز بڑھنا تغمکن بی نہ تھا
صخرت گر کے اسلام لانے کے بعد حاات بد لگئی ُنھوں نے اعلاعیہ اپے
اسلا مکاانگہارکیا اکر چراس پر بڑاہگامہہوا۔ لن بالاخمسلمانوں نے حر مکح
جماعت کے ساتھنماز یڑ نا رو عکردئی۔ اور اب ال نکی جاعحت مقابل
تس سح( ی٭|٭م۔- - - - ے سے
ز اد وق کی جماعت ہوگئی اوھ ردان دک اکٹ یآخر ال ما سی ارن علی ےلم
گی دعا کی تقو لیت الس درع ظا ہرہوٹ یک ہآ چودوسو بی ں” تر ری ڑ کے بعدگھی
تار ال جات پرگواہ ےک حفرتعمر کے پاتھوں اود تاکی نے اسلا مکوچھ
اچ عت راز پراو انا
یم سد ےو اکا
ر ہے تاور ۓ دن یئ 2 -[۳7ء0]) بیس چاکرے
تھ چنا خر اب اُنھوں نے ا ایک ال مہب کرتاقیلوں نے لکربیمعاہ ایا
کش آتحضرتص٥لی ال علیہ طیلم کے پورے ناندان با پاشم سے نہ
قراب تک ےگا ءشرانع کے سات وخ بد وف روخ تکرےگاء قہرآن سے ےکا ء اور
نا نکوکھانے پیےکاکوگی سا مان د ےگا جب کک دوخو گر( ص٥ ول علیہ م)
تاد روس ار 02
لڑنکادماگیا۔
اب بیاشم کے لئ دوہی را تتے تھے پان آحضرت صلی ا نعل ول مکوکفار
ہیں ہج ود جوراف یوون وم
میں ای جھیلنے کے لئ تیار ہو جا میں چنا خجرابوطا لب مبور ہوک رام نخماندان
رو ھی پا ک انی ا اشک
ملک تھا۔ ال وڑے میں ان لوگو ںک وآ حض رت صلی الل علیہ ویلم کے سساتھ
سا کک ب کی جخت زندگی برک رنب گی۔ یہاں بیلوگ بسااوقات یڑ ول
سےےےےسےسحےحخ ول98و]سسےےے۔ۓ٠ٔمسے
کے پپ نے کھاکھاکمر ون گر ار تے تھے ۔ انا ےک ہلوگ بھو ککی شرت سے
سوکھا ہو اہ کک أُبا لک رکھا گے ۔۔ ہے نٹ کلوگ سے پلکتے تھے رای کے
خی ول مالک نکرخشن ےکوی با و لکوترں؟ جا تا چھپاکر
چجھیکھان کہ دتا۔
جب سمل ین سال تک بفی پاشم نے استتقام تک شموت دی ت2 رآخر
خالوں کے ول یس ہی ادذدتھالی نے ریم پیدافر مایا۔اورخدان بیکی طرف ے
معاہرے کے ڑن ےکی یک رو ہوکی اور کے بععددکھرےلکوں کے ول
زم ہوتے گے الیل اوراس کے خیال کے پانولوک نو اڑے رہ ےا نآ
کاران لوگو ںکی زیادوضہ لک اورتر یپ نانوی یش ب یلوگ دڑے ے
نال لیے ک۱ئۓ۔
دعوت کی رفتار:۔
لیم اکہ یی یج گکہاجاچکا ہے کی دورکی جدوجہ دک یتفعبلات تار اوریر
کی کتابوں مس بہت یکم مق ہیں۔ چنانچراس محاشی اورمعاش تی مقاطع کی
درمیانی مدت مل دگوت مگ کیک کا کا م۲ سر ہوتار با اور اس کےکیاان ات
ھب ہو ئے .اس بارے می بھی پ بل ت یں تی ۔ الات خزول ت رآن
براجدہوتار پااوراس دورمی جوسور ناقرل ہونیں ان کے مضمامشکن اور ہرایات
نلم تکوسا سے رت ہو بب انداز و ہکا ہےکییت ری ککوااس ز ہانے بین
مک کن عالات ے دوچارہوناپڑاہوگا_
اس خویش آوز شید یاشحکش کے وورازن انل قھالی نے چو کے وم
انا کی پز جش اور یا خیرمیں ۔ان می ائل ایما نون کے فرائض جتائے گے
اوران پرکاربندد ےکی ہبی کیئان ک ےکی کردا رکواو نج سےاوتچ
سارہ لے جا ےک صوزتس انی تق کش کرنے اورای مف کو
زیادہ سز یاذہ بڑھانے پرانچائی زوردیاگیاءاظا یک بلنرکی اور عادا گی
اصلاح کے لے ہدایات دیگکیں اص شعور پیر اکیاگیا ورای اخلا کی
ت یت د گنی دی ناف کین ےط لیے بناتۓ ١ئ خلت اور نگوار حاللات
می عبر برتقائم رٹ ےکی اد با کی دک یکن ک میا ی کے وعرے اور چیک
ان دےےکرا نکی بت بنا یگا۔ دی نکی شن راو می ثابت قم
نے اورہمت کےساتھوالکی راومش سمل دوہ دکرنے پر اپھاراگیااوران
کےانددجاں شأارکی اورقربا نی کاایماجنل پیداکیاگیا اکردہبرمعحیب ت کول نے
اورپ کو برداشتکر لے کے اٹل ہو یئ _
دوسریی طرف مان اور الد کے دن سے مض موڑ نے والو ںگوان ے
رے انجام سے باب ڈدایا جار ہا تھا۔ یں ان قوموں کے عبرت ناک
ارہس سرن ہو سن
انحنیارکی اور تج ش پلاک ہہوئے۔ متام داقعات ودی جہن سے وک
والےخودواقت تے۔ا نکوان تاءشدواستیوں کےگھنڈرو ںکیط رف وج دای
مکی ین پر سے ہوکردورات دا نگز راکرتۓے تھے بج ران کے سان ا حیداور
٦ خر کی میں ا نگ یکھلی ٹشایوں ۓ دیککین چو وو رات دن زان ادر
7مان می اپنیآھموں سے و یھت تھے۔ رر کک برائیاں داش کیکنکیں۔ خدا
کے تی جبیں صحت
کے مقابلے می بضاد تک روش اخقیا رکرنے کے متا سے باخ کیا گیا۔
آخرتکا نما کردینے سے زندگی می جو بگاڑ پیداہوتا ہے ا سکوکھو لکھو لکر
سکچھایگیا۔ اپ داداکی انی یلیر سے انساضی تکوجونتصصان پچ ہے ال کا
نشاندت یک گی اوز یسب با ار دیلوں کے ساتھ با نکیکنیں جن پور
کمرنے سے بات دل ٹل أت جاۓ _
این ومک رن جواعتراضا تکرتے حے ان کے ممقول جواب دبے
گے دہ جو ہات پی یکرتے تھ ا نکودو رکا گیا خر کان تام الو ںکو
صافکیاگیاشن یل وو وک رار تھے یادوسرو نکواچھایا اکرتے تھے لیکن یں
پش
منظا حم او رمما کی انا
ان تا اتی تین
کے لے اما ں می نذ اس کےتھوڑے بی دن بعداوطال بکا اتال ہوگیا اور
یھی دن بعد تضرت خمد بی رشی الد نہا ن بھی رعلت رماگی۔ ا سسا لکو
آتحض صلی ال علیہ لمکا سال فا کر تے تھے ان دوٰوں ہستیوں کے
انا لک نے کے بحددھر فی کی مخالفت اور ای ارسا لی یش اوریھی شزت ہوگئی
اورچی دہز ماشہ ہے جوف ری اسلائی کے لئ سب سے(یاد ہت ذز مان تااب
قرفیشی نے مسلمانوں اورخو دآحض رت لی الیل علیہ یل مکوانچائی ب ےن اورے
بای سے ستانا رو ےگردیا-
کے والوں بیس سے جومبتری نآ دی تھے وو تقر با سب جییٹ جج ٹفکر
اسلائی جماعت می سلآگے تے۔ چنا غاب داگی اسلامع٥لی ال علیہ لم نے
کے سے اہ رج اکرالق کا پیم پان ےکا فیصلفرماا۔ ای پروگرام کےعح تآپ
طان ف بھی تقریف نے گئے۔ طا نف ٹس بڑے بڑے اھراء اور پااشر لوک
رتے تھے ۔آپ اسلا مکی دگات نےکر ان لوگوں کے پا بھی تخربیف لے
ےکن یا کہ دولت اوراقا راک قجو لت کی راہ ٹس رکاوٹ بی رپا ےء
یہا ںبھی بی معا مل ہی لآیا۔ ایک سردار ن ےکہا۔' کیا خداکو تی رےسواکوکی لا
نہیں جھأے اپنا ول بناتا۔''ووسرے صاحب اس ون و نظ
اتی کرکتا۔ اکر سا ےا ٹچ سے با کنا خلاف ادب ے او راگ مچھوٹا
ہے( نوز ہااشد )فذ مت لگانے کے قائ لیخ ان“ نہڑوں' نے بات لواں
بیکلبتبوں مھ اُڑادیی اورا تاب یی بلل شب کے نمنڑ وں اور برمواشو ںکواپھوار
دا جخھوں نے سرہا زار رسول ای یص٥لی اللعل نیل مکا خراق اڑایا اور یٹم مارے
ال موق پآ پ ات نی ہو گ ےکی مبارک ے جوخون بہانو جووں می پھر
گمیا ظا لم برا رپچھرمارتے اورگالیاں د نے ر ہے یہا ںک کک پ نے ایگ
پاٹ جاک پناەی۔
کی فخالف شم می اس طرح تھا ارح کاخرض اداکرنا اور جان جوم
میڈ لکرالل کے بندو ںتک ال کا پیم پچ اس درجہ جمت اورج رآ تکا کم
ہے ا سکااندازولگا نا یشک یں ہاو تال رکال ایمان اوراس پر اتی
وھ سے
لکی ایک بلندت بین شال ہے۔ اور بعد کےآنے والوں کے لے ایک تقائل
تقلیرفود(أسوہ)
آفحضرتسکی ال عل و کو راک کے مانے میں جب تام ملک
لف تال کے مہ آتے آپ ایک قیلے کے با جاتے اور اسلا مکی
دگوت دی کے ۔ اکر عرب جس ئن مقامات پر مہ گت ےب وہاں
چہجھوفپر مت
اسلام کی وت یی فرماتے تھ۔ ا موقعوں پر اکنڈقرلیشش کے سردار
(خوا اہوابب )بھی ساتھ ہو لیے اورجس مع مآ پ تقیرفرماتے ء وہ
لوکوں سے کت ' ٹوا کی بات ہکن ود کیا ےا وٹ نا
ہے۔“ آتحضرت لی ال علیہ یلم اریے موقتوں پرقرآن اک کے پھھ سے
سناتے جواپنے اٹ کےحاظ سے تی بہدف خابت ہوتے ا نکوک نک راکترلوگوں
کے دلوں میں اسلا مک مک رپا ۔آحضرتسلی اللرعلیہ یلم کے یی دورے
اس ضا وراٹر کے لا ے اتکی ماب با ہے اوراب اسلا مکی زکوت
غرب ما یش ائلی نیس روکئی لہ دور دور وگو تکا تارف ہوگیا ۔ جولوک فصلہ
کم کے اسلائ یت یک کے رای من گے تھے اھوں نے اپنے اپنے علاقوں مل
ودک تکاکا شرو ںکردیاتاد
۰+-؛
اشقا ی کی ہے شا رمک وقات 22 سے جج نکھی ایک خرق سے نج نکھی
انمانو ںکی ط رح ارادہاوراحقیار کے ما تک میں اورای بفیادب دہنھی خد ایی ۱
ہوئی بدایت کے ملف ہیں ۔ف حیدء رسالت او رآخرت پر ایمان لانا اور ال
تعاٹی کے اکا مکی پیرو یکر ناء ان کے ل بھی ضردریی ہے۔ای یا ران
می بھی اتی اور برے لوک ہوتے ہیں۔
ججنوں کے وجود کے پارے مس قر یم زمانے سے لوکیں میں سم کے
خیالات مو جو در سے ہیں ۔عرب می لچھی جات کا باج چا تھا۔ا نک پجاہولٰ
تشی۔ان سے عدد ما نی جائی تھی عاگل لوک ان سے ددت یکا وی یکرتے تھے
او ٹم کے افسانے ان کے بارے میں مشپور تھے خوش ىک ننس ط رح اور
بتراروں دلویاں اوردبوتا خدائی یں شیک مانے جات تے ای ط رع جا تک
بھی خدائی بیس ش ریک مانا جا جا تھا اسلام نے ان تما عق دکی اصلا ںکیا۔اں
نے تا رشن انرک ای لوق ضرور ہی ںین ا نکواسی طرس بھی خدائی ش
لئیں۔نروہاپنے انقیار ےس کوٹ پنچاستے ہیں اورن فقصان۔ان پگ
اش بندگی فرنش ہے۔ان مھ لبھی دا کےفرماں برداراورنافر مان ہد تے ہیں
اوروہجی انسانو کیا رح اپنے ایج اور برےاعما لکی زایا مزا پانمیں گے۔
خداکی قررت کے ما بے بیس انسا نکی ط رح ج نچبھی مجبورادرلا جار ہیں-
ال الیک دین جوب اپنیآخریی ٹل میں حر تج لی ال علیہ ےلم کے
ذ ریہ دن ال راتا کی پروی جس ط رح انسانوں کے لے ضرورینھیااسی
طر جنوں کے ل بھی ضرور تھی چنا می ایک بار ج بآتحضرتس٥لی العلیہ
یلم اپنے فی دورے پرعرب کے ایک شور ملے کا ظاتشریف نے جارے
جو رات مل ایک را تتلہ کے مقام پر قام ہوا ہے وق تآفضرت
صلی ال علیہ یلم اپ چندسحا ہہ کے ساتھنماز بی مصروف تے اورق ہن گی
علاوت فرمارہے ےک اقاق سے ہجنو لکیا ایک جماعت أودع زس ےگزری-
أُٹھوں نے ق رن سنا۔اس وا کا ذک رق رآن پک می سور ٤ الاخقاف میں اس
رے:۔
”نم نے جب جنو لک ایک جماعت کے رکذ اے ٹم را ری
رف پچھیردی اک ددق رآ نمی جب وہ آنۓ أنھوں نے ایک
دوسرے سےکہا۔'* ا ویش رہوں 'اور جب ق رآ نختم ہوگیا تو آنھوں
نے اکر اپ قو مکوتنبگیا ۔ أفھوں ن کہا۔* چھاتیوا بم نے ایک
کتابکوسنا۔ جو موی کے بعد تار یکئی ہے اور ج وکنا ہیں اس سے پیل
آزل ہوک ہیں ا نکی تحمد بی قک تی ہے ہت نک طرف رعمائ یکل
ہے اورسیلڑگی راہ کال ہے۔ بھائیوافلرکیطرف پکارنے واسلرک
بات مان اود ال پچ ایھان لا کہ ال تھا ر ےمناہو ںکو معاف
فر ما اور مکوددد نا ک اب سے پنادوے
اس واقۃہکاعلمآتحضرت مکی ال علیہ وع مکووگی کے ذر یہ ہوا اود ا کی
یلا تضور) جن ٹل مرکور ہیں
مدینے میں اسلامما_ نبوی:۔
اعلامکیآوا زخضیںطر را دوردورگ رب کے دو ےعلاتول سج ری یی ای
رم سی م٠ لپ یکگی نے نٹ بہت یم زمانے ے یبد یچ یک رآپاذ
ہو گے تےاأھوں نے مم نین کقریب اپنے جو نے بچھو نے کت بنا لیے تے۔
اوس اورخمز رج دو چھاگی تھے من کا اصل بن تو رھکس
میسن ےآ اکھد یئ می ںآ بادہو گے جے ۔ان یکل سے وہان دو ہے
بڑےخنماندان ہو گے تے جواوس اورنزر عکہاا تے تھے یلو گآ کے پچ لکر
افصمار کے اقب سے پکارے گے ان لوگوں 008-9 8۷ب
ار ت سے کو مچھونے تفع بزار کے تھے بلوگ اعتقادأمت برست
تھے ین دیون کے اتیل جو لکی ون نےرسنالت دوگ :کتب مان
اورآخرت کےعمقیروں سےآشنا ضرور تھ۔ وہ ان کے اپنے پا ںکوگی جز
ا یی س۱ وس ا رن پک ابق رس تخب
بھی ےاودرا نکی با نو نکووزن د نے تھے الن لوکوں نے دی علماء سے بیکجی
سنا تھا دنا یس ایک کأمہراورآنے وانے ہیں جوکول ا کا ساتھ در ےگا وی
کاصیاب ہوگا اور کہ اس مق رکا ساتھ دی وانے ہی سارک دنیا پ> پچھا
جاتھن گا ۔ بی معلو ما تپتھیں ج نکی بناء یع بیندوانے نی یی ایڈرعلی مم اور
آ پک کو تکاططرف سوج ہونے۔
تحضر صلی این علیہ وع مکامعمول تھا کر ین رما پے سآ پتیلوں
کے سرداروں کے پا تشریف نے نات اور أنتیں وکوت اسلائی سے
روشنامںکراتۓے ےا موک یکاذکرہ ےکآ پانے مق قب کے پا خاندان
زرج کے چنداوگو ںکواسلا مکی دگوت دی اورق رآ ان مجیدکی جآ تی سنانیں۔
یکلام نکر انع کے ولول پر اش ہہوااوررد مھ گ ےک ہونہ ہو میا دہ نیا ہیں کن
کے پارے می ییہودگی علاء کچ خی ںکہ اد کے ایک اور یش لیب لا نے وا لے
ہیں۔اان لوکوں نے ایک دوسر کی طرف دیکھا او رکہا۔' ہیں انیاق ہوکراں
ابا یمان لانے مس بیپودی جم سے اولیت میں بازگی نے جا نہیں یک ہہکر
ان اوں نے اسلام قبو لکرلیا۔ مہ چآدٹی تھے۔ ارح مد ین کے انصارٹل
اسلا مکی ابتقراء ہوگی اور و كت جھآکندہاسلائی ئ ری ککا مز نے دالاتی اں
نال ہکا
مخالفت میں شدت:-
ہرت رب کک نون سے سات ساتھھ خلت اورشکش بھی بڑعتی سے مین
اسلا یئم رب کک مجع اپنے ساتوفالفت او رشحم کا جوٹوفان لاتی ہے دواں
کےلم برداروں کے لے ببہ تخت امتقان ہوتا ہے۔ چنا نے ایک طرف ال ذوت
اسلاٹ یکا تارف بر پا تمااور دوسرکی طرف داش ین اوراس کے ساتھیو ںکو
مخت ےختعالات ےگ راد ہاتھا ریش کےسرداروں نے می ےکرلیا
کہ وو خودحض رت صلی اولحلیہ ےم مکواتقاستا می سکہ بالا خرجیورہوگر وہ اسلام
کی دگوت سے پاتھاٹھای ۔ت ریش کے بے بڑےصردارآپ کے ہسامہ جے
اور یپ کےسب سے بڑے نیشن تھے۔ پیل گآحضرتملی الل عل یلم
کرات می کان بھاتے نماز پڑت وق تی ُڑاتے ۔آپ بجر ے مل
ہوتے فو وہ ایی لاک گر دن پرڈال دیے۔ گے میس چادر لی ٹک الس بے
دردگی ےھت کیک ردن مبارک یش بدھیاں پڑ جا ٘ں ۔لؤکو ںکو جچیےاکارتے
جوگالیاں د نے ادرتالیاں پیلة ۔آ پکمی ںکوئی دعفاف مات ےت درمیان می سکب
کر تے اورک کہ بیس ببجھوٹ ہے نوف مک ستتانے الور پر بنا نکر ن ےکی
می رز کَروئوزت نارگن روس کرہت۔
اس دور ریش از ای اپنے نی بر جھ ہن وی فرمارہ تھا۔ ال ان تام
عالات سے فلے کے لے سامان ہریت موجود تھا تح کیک اسلائی کے عم
پروارو ںکؤو بنایا جار پت اکزاں وقت بظا تق جس مظلوم کا شکارہودپا گت
ا ےکوئی تل جز ھن جا ہیے۔ دنا کی زندگی میں اس ط رح کے تمائے
ہوتے یآ ہیں اور یو ںبھیکامیال یکا اصسل معیار دنا کی زندگینجی بلنہ
07 ہےادر یرٹ ہےکہآخرت ان دی لوگوں کے لے بہت رہوگ
جولق ب کی زندگی اختیارکریں گے_
فور اکرم لی ایق علیہ مکوخطا بک رک ےکہاجا ات اکہ۔' گر چےاہم جانے
یں جو چھٹمارےسا تھہود اے وو انچا تی لیف دہ ےکن دراصسل ہلوگ
جوف نکوکھٹاارے ہیں دہھیںگیں لی ئئیں مار ہے ہیں اور میکائی نی بات
یں ا سے پیل بھی رسولوں کے ساتو مھا لہ بای ہوتا آیا ےکن ات
رسولوں نے ان عالا تکوصب کے ساتھ برداش تکیا اور ہج مکی میبجموں اور
تکلیفو ںکو چھاا یہا ںک ککہأئشجیں جھاری رد گئی تم بھی اسییے بی عالات
سگنذددے ہواورایٰے عالات گناہ پڑےگا۔'' أنھیں بار بارلف
انداز ےمچھایا جار اتکی اور اط لکی شش کے لئ ارد یکا ایک مقررہ
مان ہے ج کو برل ڈالناصسی کےا نکی بات ایس ا قافو نکی رو سے ہے
لازگی ےکییقن برستو ںکوایک لویل مد تک کآز مایا جا ان ےر ءراست
ازگاءایارہ وفادارگیء فنداکاریی اور ایما نکی جنگ ی کا اسان لیا چاۓ اور ہے
انداز ٥کیا جات کہ و ون ھک لی الد ادرا یمان با می کہا ںتک مضبوط ہیں اس
مکش کے دوران ان کے اتدردوصفات پنیدا وی ہیں جو أنھیں؟ گے یچ لکرارڈر
کے دی نک ملم برداد نے شی مددد بی ہیں ۔ جب پپلیگ اس امتقان بی ا ےک
ا ٹب تکردپتے ہی تر ال کی مددھیک اپنے وقت پرآتی سےا سے بل
وی کے لا ےی سآ ستی۔
بیعت عقبه اولی_۱١_ ١ نبوی:۔
دوسرے سال مدینے کے بار ہآ یآحضرت صلی الیل علیہ ول مکی خدمت
ٹس حاضر ہوۓ اورآپ کے پاتھ پر بیع تک اوراس با تکی خوایت لک یکہ
اسلا مکینع!یم کے ل ےکوئی صاحب ان کے سات ھن دیے جایں۔ چنا چھ
رت مصحب م نگم ڑکوان کے سات مھ یگ دیاگیا۔ یبد ین ٹل ایک ایگ
گھرکاوودہ تے۔لوگو ںکوق رن میدپڑ وک رسناتے اسلا مکی دگوت دی اور
اس رع روزاقہلیک دوآدئی الا قو لک لیت ۔ رفتۃ رف الام مد سے سے
باہرگگیا پیل لگا۔فیلہایسں کےسردارنضرت ین معاذ بھی ححضرت مصحب
کے پاتھ ری اسلا قو لیکییا۔ ا نکا ا سلا مق لک رن موا فی لاو لکااسلاءقول
کرلی تھا
بیعت عقبه ثاني٦_٢ٍ! نبوی:-
گے سال مت (مے) آدئی کے زمانے می ںآۓ اور اپ ساتھوں
ےج پک رح کے مقام رحضرت صلی اوندعلی وللم کے ات پراسلامقول
کیا اور ہم کےنرم او رگم عاللات ٹیس اسلائ یئ ری ککا اتد دہ ےکا ع ہد کیا۔
رت سلی اف علیہ 2لم نے ا کر دوئس سے با واشفا فتق فک رآنیں
یب( سردار) مقر دکیاان میس سے وق نز اج می سے او رج ن قبیلہ اوس ٹل
سے تھے آ تحضر تی او علیہ وسلم نے ان لوگوں سےمجنن با نو ںکا اش ارلیادہ
٭ سوائے ایک دا کیا دوس رک بن یی نک۷ ری گے۔
چودکیئی کی گے۔
زنانئیںکریں گے۔
انی اولا و یسک ری گے۔
می پجھوئی تس نیس انی گے۔
رسول ابڈص٥لی الل علیہ لم ا نکویٹس اکھی بات (معروف) کا عم
دی گے ووائن سے منہنموڑیسل گے۔
بیعت کے بآ ححضرتی٥لی الیل علیہ لم نے فر ما اک گرم ان شرا ناک پرا
کرو کے نو تھارے لی جن تک خی سے یں ف تھا را محاعلہ خدا کے
بات ہے چا ےک مکومعا ففرمادےاورچا میں عذاب دے۔
جب مہ لوگ بویع تکرد سے تھ نے اسحد بن زراؤ ن ےکھٹرے موک رکہا۔
ھا نایا جا کی مککس بات پر میق تکرد ہے ہو یجول بیخرب اورنم
کے لا فاعلان ہگ ے۔“
سب ن ےگ ہاکہ ہال چم یسب چب وک ہق تکرر ہے ہیں ۔ ائل وف دش
سے پچجداورلوگوں ن بھی ام یب کی پر" لق رر کی اودا یم وفع پبھ یل
× ٭× × +× ++د
کے ان نوسلموں اورآخحض رت صلی اود علیہ وعلم میں برقول بقرار ہواکہ اگر
آفضرے کادقت ھی ]تشریف لے؟ یم ین کے لوک پرکنوان مرتے دم
کک ا نکا ساتقحد دبیی گے اسی موںع بر حضرت برائ تن کہ تھا کہ ےب ملک
موارو ںکیگووییس بے ہیں“
++ہ
ہزات اورحراح
دی نکی اصطلاب مجر وا با تک کے ہیں جوالل تھا یی تفر کے ہو مے
و تکوغاب کر ےکیلئے دنیاوالوں کے سان اہرفرہائے۔اس کے لئ ایک
شرط ییڈگیا ےلددہعام عادت کے غلاف ہو خلا آن گکاکامجلانا ےکن دەنہ
جلاۓ۔۔حمندد بنا ےمان دم جاے درخ ت ایک میلہقائم رجا ےکن دہ ین
گے۔مردہ بی أ مھ ۔ اک سانپ بن جاے دغیردویرو۔ چکگ دنائ ہننل
کی اصسل علمت اوڈدتعاٹ کی قدرت اورا کا ارادہ ہے اس لج سط رح بیحکام
مرو اصولون کے مات سمل ہواکرتے ہیں۔ ای رح الد تعا یک قدرت
کے مخت پمکام الع عادی اصولوں سے ہہ ٹکر بد دوس رے تیر دی اتصولوں
کے ماحت بھی ہو کت ہیں اورجب الد اتا ہے+ و جایاکرتے ہیں-
اکٹانیا ہما سلا موا نکی وت سو کے جزے عطا سے یئ جے۔
من یج زا تکاغرو ںکیلئے ایمان لانے اور لق نکرن ےکا سب بکم بی ہوئۓے
ہیں جج زا ت کا ظ ہو ای کک مکااتمام جت ہوتا ہے۔ ای لے جب لوگوں نے
2 ےد یھن کے بھی بی کا ارد کیا فان راللکاعزاب :ازل وا ےاور
انی دنا سے ماد گیا سے قرلیش کےکفار یح رت لی ال علیہ کے
مج رےطل بک/رتے تھے ا نکی بیطلب برای ٹالی جار یپ یکیون انتا یکا
۱
.مر یہید ہا ےک اگ رلوکوں کے سان اُ نکی طلب کے جواب می کی دا
مج زودکھادیا جا و پھر نکیلنے دددی رات دہ جات ہیں ۔ ایمان بالات
ال تھا کی مضخید تکا فیصلہابھی ان لوگو ںکو ہلا کک ن کا نہیں تھا۔ اس لے
ن کا ی۔مطالبہبرابرٹالا جار ہاتھا۔مکن اب ج بکرتقر یبای گیا :سال سصل
وت دتے ہو ۓےگذر گے تھے اورقو مک کچھان ےکی حدہ وکیا بس اوقات
آتحضرتہع٥ اولعلیہ یلم اوردسرےم وین کے ولوں مس بیخوائش پیداہ ول
یمان نے تے اوراسلا مکی کی کے قائل ہوجاتے میا نآ پکی اس خوا ہش
کے جواب یس مھ کہا جار ہاتھاکہ یھو ہرک سےکام ضرلو شس تجیب اور
جس ویک سے کو تکا کام پکم چچلوار ہے ہیں٠ أ سے اب یع ری سےبھبرر کے
ساتحد انام دتنے رو سججزوں سےکام پا ہوتا نذ یکا مجھ یکا ہو کا ہونا۔م
ججاتے نذ ایک ای ککافر کے د لکومو مکمردیے اود ا لکوز بر تی ہرابیت کے
رات پر چلاد تن مان مہ جھارال ٗی ہے۔ ا سط رح نت انان کے ارادہ
اوراخقیارکاامخمان ہوناے اورتروولکری اوراخلا تی انقلا بآ تا سے جس سک بیاد
رای ککامیاب محاشرہ بن اکرتا ہے۔ تام اگمرلوگو کیا بے پروائی اوران کے
انادکی وجہ ےت عالا تکا مقا ہلص کے ساتم گی کر سکت نے جن ھا راایس لے
دوک راو زین یھ سکیا آسان پر چم کرک مجزہ لے؟ ۶ا ۔
نان ا سکا بر مطل نیس ےک ہآتحضرت صلی اللرحعلیہ و مکو ہزات عطا
نیس ہوے ۔آ پکاسب سے بڑاسجز ہن خو دق رآنن ید ہے جس کے پارے
ا سور ادا مآ یت ۳۵
می ںتفصی لیر وصاے یں اج موقر پا ےکا کی کے علاوہ منا سب
سوقوں پرآپ کی ذات سے بے شا جحزا ت کان پور ہوا ہے ۔ان ٹس سے چاند
کادوگکڑے ہوجان(شی اتمر) اور پ کا آسانو ںکی می ر کے لئےتخرییف نے
جانا( متراع) کبت اہم میں ان کے علادہ بہ تک ٹیش نگوئیاں ءآ پکیا دعا
سے پالی کا برسناءلوکو ںکاہدایت ماب ہونا۔ضرورت کے وقتتھوڑ یىی چ ڑکا
بہت ہوجاناء مرمیضو ں کا الچھا وجانا۔ پالی ارک ہوجانء دغیرہ وغیرہ بے ار
مجحزات ہیں جن ن کا ظبوراے اپپنے وقت پر+واے
شق القعر:۔
کفارکہ بی اتمام جن کر نے کے لئے آحضرت صلی اول علیہ یلم کے
مجخزات میں سے چان دکا دولکڑے جوخانا ایک ببت اہ ممٹجزہ سے۔عفضرت
عراش بین مسحودرشی ارعش نے اس واق کی روای تک 70 مار اور
لم وغیرہ مین مور ہے۔وواںن واقی کے وش موچور تھے اور أتھوں 020
ان یآگھوں سے چان دکودوکڑے ہوتے دیکھاتھاووف مات ہیں ۔ ہ مآنفضرت
ص٥لی ال علی یلم کے اتی جس ےک چا نددوگڑے ہوگیا۔ اور ا کا ای ڑا
پہاڑی طرف چلاگیا۔آ پ نے فر مایا گواہرہو'' کا نجی اکرکھاجاپکاے-
پیزدرینئی لکن جزہد یھ کے بح دکفارایمان نے ہیآ میں ۔ بک ہوتا یی سے ۱
جتزے وتی لوک طل بر تے میں جن کے ولوں میں اننکاراورجہٹ جھ ری
کو ٹکو فک رگلری ہوٹی ہے اور اس ط رح دہ اپنے انکار کے لئے تیلے بہانے
علا ش کر تے یں ہن کے ولوں ٹس اییمان جو یکر ن نکی صلاحت ہولی ے
اور جھ افخحرائ اور مادکی مفادات کے پعنیروں میس جکڑے ہو ت ۓےکہیں ہوتے
. آ نکوٹرسول کی ذات اوداا سکیتحلعمات یا سب سے بث ھکججز ہدرکھائی تی
ہیں اودد ہت کے قبو لک نے میس پمیشہ یں فد کر تے ہیں ء چنا نج ند کے
پٹ جانے کے بحدژج یکغار نے میک یک ابا ' شف موک
زور سے ا ییےکام ہدتے بى یآ تے ہیں اس طر ان لوگ ںکوہرای تن ہولی
الہتہ ان کے جرمو ںکی فہرست یس ایک اہم جرم ماود بت گیا ہأنھوں نے
ال می ہوئ نی کے بحدیھی الل کے رسو لکوھوغچھا۔
معراج:۔
ماع کے می اوپاچڑ نے کے بین چیک آحضرزت صلی وی لم نے
اپے ای کآ سای سفر کے بارے میس برلفظ اتال فر مایا سے اس لے آحضرت
ص٥لی ال علیہ نیلم کےاس مرکو جھآپ ن ےآ افو ںکاکیا راع کچ ہیں ۔ اس
کادوسراناماسرامتجی ہے۔اسراءداتوں راتہلمفرک رن ےکوسکچتے ہیں : چوکہ ریز
راتؤں رات ہواتھا ال لج اسے اسراہجھی کے ہیں ۔ق رآنن پاک میس می لفظ
استمال ہواے_
انا ہم السلا مکودکوت ون اور اقاصت رین پک جو خدمات انجام دینا
بوثی ہیں ان کے نے جس ددجہ چد ایا او یی نکی ضردرت ہراس کے .
لئ بیضروری ہوتا ہ ےکی وہ" ن آن بکھ یتقو پرایمان لان ےکی کوت
دتے ہیں أنیں دوخوداپنیہکھوں سے د یی ہکیونکہ انی دنیا کے مسا نے
ریقوت اورزور سے پہ با تککہناہومی ےک مجھن کان او تاس پرایک چچ کا
٦
اکا رر ہو۔ عا لاک ہ م1نگھوں دیھی عقیقت بیا نکرر ہے میںستہارے
ا مان ہے اود ہھارے پا لعل ءاسی لئ اکٹ امیا ہم السلام کے سان
فرش ظاہرہوۓ ہیں۔ ا نکوآسمان اور ز می نکی علومت کا مشاہر کرای گیا
ہے۔ دوزخ اور جنت ا نک واعگموں سے دکھا یگئی ہے اورمرنے کے بعدانمان
پ جتعالاتگز رتے ہیں دہ ا نکی ای ز نکی میش دکھادثے گے ہیں ؛محرازنیا
اسرامشگی ا یئم کے واتعات یل سےایک واقعہ ےجس می ںآححضرتسلی اٹ
علی کل مکوو یں داد یککیں ۔ جن پرایک موک ن بلاد یھ رسول کےیفرمانے
۔ پرایھان لات ے۔
مرا ککاوا کس تار شی یآ یاء اس بارے میں تذروایاتتلف ہیں-
البقام زوایا تکوسا ھن رکھن کے بعدما رن گیۓ والوں نے یس با تکو تی
۱ دگیا ہے دہ ریہ ےک و اق ارت ےلق را سال ڈیڑح سال پل کا ہے۔ اس
واق کے بارے بل امام زی او زسل مکی روایا تکوسائۓ رکے کے بعد چو
جھویپفیل نا نئال ی ہ:وہرے:-
۱ حضرتمل ال عل ےبلم نے ایک کوارشمادف رما اذ شدرات ھرے
رب نے تھے بڑکیاعمز ت شی ۔ یں سور ہاتھ اہج زی نے اکر مجھے جگایا اور
ری ےت مکعبہی انٹھااے۔ یہاں لاک ا تھوں ے م راسی چا کی او رأے
زم زم کے پالی سے عو (زم ز مکعبہمیش ایک بر ککنواں ہے ) پل رأے
ایمان اؤ رت سے رکر بن دکردیا۔ اس کے بعد أفخھوں نے میرک سوارگیٰ کے
لئے ایک جاور شی لکیا۔ جو تچ سے پچ چونا ادرسفیر رن ککا تام نکانام
مم 9ے سے
بات تھا۔ ىہ بہت تیز رفا رتھا۔ بیس اس پرسوار ہوا بی تھ اکا اتک نم بیت
ا مق جا پچ یہاں براقی بد کے درواڑے پر باند ہد دیاگیا اور میں سور اق
میں واقل ہوا ۔ دورکعت نماز پڑگی وایہشر لا نے می رے سامح دو پیا لے
یی سے ایک نر پاوردما دودتث ےکج را ہواتھاء مل ے رود یکا پیالتقّول
کرلاادیشرا بکا دا ںکردیا۔ جج کی نے یی دجو رک اک پنے دود کا الہ
تقو لک کے ون فغر تکواخقیارگیا-
اس کے بحعدآسا نکا سفرشروں ہوا۔ جب ہم پیل ےآسان (آ سان دنام
کک یق ج رن نےگہبال فرش سے دروازوکھو لے کے سل ۓےکہا۔ اس نے
پڑ چا فھارے ساتقکون میں؟ جج ری نے بای بح ہیں فرخنے نے پھر
و ھا۔' کیا بلائے گے ہیںا؟“ جب من ن ےکہا۔ ہا بلائۓ گت ہیں
نکرفرشنہ نے درواز وکھو لج ہو ےکہا۔' ای ؟ ت یکا آنامبارک ہو 'جب
ہم اندرواشل ہو ۓ تو حفرتآدمعلی الام سے ملاقات ہوئی۔ جج ری نے
بج ےکہا۔' نیپ کے والد( نل انالی کےمورٹ ھا ) اد ہیں۔آپ
ا نکوسلام سکیجے۔ ٹس نے سلا مکیا۔ أُنھوں نے سلا مکا جواب دیے ہو ئے
فرما 2 فو لام ان صاع نیودت حتا نع یلا ایس کے نز
دوسرےآسما ن کک پچ ادر ےسا نکی ط رح جواب وسوال کے بر وروازہ
کھاا اورہم اندر گئ تق وہاں نیاوی ( سی ہاالسلام ) سے ملاقات ہوگی۔
جرب نے ان سے تار فکرایا۔ او رکہا۔' آپ سلام یجس نے سلام
کیا۔دوڈوں نے جواب دی ہ لاے فرمایا۔نخڑ یآمیدءانے اح بھائی اور
اے صا نی پگ رتیسرےآ سا ن کک ای ط رپ یہاں رت اوسف
(علیہ السلام) سے طاقات ہوئی اور پ ےط سلام دوجواب ہوا۔ چو کے
آسمان برحخرت ادریس ( علیہ السلام) سے مطاتقات ہہوگی۔ با نچ مس برحضرت
پارون(علیہ السلام) اور نے بر حخرت موی( علیہ السلام) ے۔ ساقو سی
آسمان بر رت ابرا ڈیم (علی السلام )سے مطلاتمات ہوئی ۔ أفھوں ن بھی سلام
کے جواب میں فرمایا۔ خو لآمھ ید اے صا ٹج اورصما شیا مز یجے
در انج کک پچ گیا۔ ایک ہیر کاڈ ہے انا برءاس پر بشاد لاکن
نکی ط ر) چک رےتے۔
یہا ںآ پ نے ببہ تىی تیقت کا مشاہ ہکیا اور اڈ تھا لی سے چ مکل مچجی
ہودئے۔اللدتھاٹی نے رات دن مل پاش وق تک ما زی یآ پکی مت کے
لے فرخصکییں۔ ج بآپ ان مشاہدات ۓ فارغ ہوک وائنل ہو ئۓ و پچھر
حضرت ون سے لا اٹ ہوئی أُتھوں نے کو ھا ا پارگاو غداوندگی ےگیا
تفہ لاے؟“' فرایا۔”ندن رات میس پچاس (۵۰)نمازیں ۔' أکھوں نے
فربیا۔' آ پک مت اس بارکوناٹھا گی ۔اس لئ وائیں جا ہے اور نیل
ک مکرایے چنا مآ حضرت وا تش ریف لے ے اورک کی درخواس تکی-۔
داں سے ایک ح کرد یاگیالیکن حضرت مو ن ےآ پکوبار بارکھیچااوربار
ارگ یکرائی۔آخرمیش برتعدادٹت کلت ای روگئی۔ اس برکھی اکر چحضرت
موی علیہ السا معن نہیں تھ اورعر بک یکران کوکتے نان اب
آ تحضر نے فر ما کہ جھے مز ید پچ کے شر مآ کی ہے ۔اس پر اللدتھالی
کی طرف سے مرا آئ کہا چہم نے نمازو ںکی تحداد پا ےگھٹا
کہ پا کر دی لیا تھا رکی امت می جولوگ پابندکی سے روزا: د پا
سس بی کے انیس ا جم پا نماز و ںکادی دیاجاۓگا۔
نماز کےعلادہ ا موتع پر بارگاوالی سے دو نے اوربھی عرحمت ہو ئے
ایک سود ہبقر وک یآ خ ریہ یجیں جن می اسلام کے عقا مد اورا یما نک ی کی لکا
یان ۓ ہےادری پثارت کراب مصیبمو ںکادو رم ہونے ولا ہے۔ دوس ری
شر یکہأمست جک یش سے جوکوئی شرک سے بچار ہ ےگا ا سک مففرت
ہوجا ۓگیا۔
اس سفرم لپ نے جنت اوردوز غکوکی انی آگھوں سے د یکھا
اورمرنے کے بحداعمالی کےلیاظط سے جس نی حم کے عالمات ےلوگوں
کو رن ہوتا ہے اس کےبھی چندمما رپ کےسا نے یش سی ئے۔
آسافوں سے وائیل ہہونے کے بعد ج بآپ پھر بیت ال مق ںتخریف
لاے تو دیھ یہ انی مالسلا مکا شی ہے ۔آپ نے نماز پڑھالیاورسب
ھت سے کچ ماز ادااگی۔اسل کے بعدآپ اپنے مقام پ دای ںتثریف
ے عا کاپ جہ غورد
معراع کی اھمیت اورآئندہ کے لئے اشارے:-
کوج بآپ نے مدواقعہ مان فر مایا کفارقرلیش می جولوک الف
تے۔أنھوں ۓآپ وو کہا( وذ اللہ )اور جن لوگوں کے ولوں می سآپ
کی چک اورصداقتکاق نت ا آتھوں نے مرف تر فک تم دب کی اورک
ج بآحضرت لی القدعلیہ مرف رماتے ہیں ات یسب واقحات درست کی ہیں-
ایس طرح ماع کا ىہ داقہ ایک طرف نو لوکوں کے ابیمان اور رساا تک
تقد لن کا ا٥تخان تھا۔ دوسرکی طرف خووآتحضرت صلی او علیہ ےیل مکی بکی بے
شماریقوں کے مشاہر ےکا ذرلہ۔ سا تھی سا تج مہا ںآ نے وانے انقلاب
کے لئے ایک اشازہ تھا جس سے اسللائ یت رب ککوجلد دی دوچار ہونا تھا۔ ال
اشار ےکیتقعیلا تق رآن پا ککی سور بی اسر انیل میتی ہیں جس میں
مصعرا نع کایان ہے۔اس سورت کے مضا ین می جو کل لے اشارے لت ہیں
دویؤں:-
یھود کی معزولی:-
نی ام رائل ا بتک الد کے دس کے وارث تھے اورااس خدمت پر مامور
کہ دو دنیاکوغدائی پام (اسلام) سے روشنائ ںکراتی کین أُھوں نے ال
خدم تکوانھامىڑیں دیا بک خود بی ےشار برائیو ںکا شکار ہو گے اوراس تقائل نہ
ر جےکرالل کے دی نکی خدمت بچا کیل ۔ الاب بیقدمت بقی اسای لک پرد
کرنے کا فیص کرد یامگیا۔ او رآنحضرت صلی اوقرعلیہ وس مکواش خاندان مل
مبلو ٹک یانگیا۔ ا بتک با اسرائل سے برا و راست خطاب نم کیاکی تھا
اب سور بی اسرائل بی نع س ےکہامگیا کہ ا بکک جو خلطیاںت مکر گے سو
کر ین مکواب سے پیل دو بارآذ مایا جا کا نی ن تم نے انی عال تکوکیک
نو ںکیا۔ اب اس می (صلی اللر علیہ ملم )کی عشت کے بعد پچ کی مو تل
را ے۔اگرقم ا نکی چیروی کرو گے تو کرت تی کی راہ یر قرم بڑھاسکو گے۔ سے
کی انچائی مظلو مانہ اور پر بای سے یھر ہوئی زندگی مم یہاشارہ ایک بہت
بڑی ہا رتٹجی جو گج لکر با لئ کیک خابت ہوئی-
کفار مکەه کو تنبیة:۔-
کفارک کے مظالم اور نکی ہٹ دھر یک انا ہوچھ یھی اور وہ بار با کے
ےکراکہ برالل کے رسول میں ت2 ہار انیارکرنے پر ۴م پردوعذا بکیوںئیں
آتا ٹس سے بیگییں ڈداتے ہیں۔ ال کے جواب یس أنھیں پا اماک الد
تقا یکاطریقی ے۔جبکک وم می ال کا روگ نآ اس وقتک
اکس ابی لآ:ا۔ جب الشکارسو لآ تا ےو قوم کے دولت منداوراو رج
بے کے لوک ا سکی وت ت نکی ج ڑکا کے ل ےک رباندھ لیے ہیں او وم
کے عام لیک اُ نکا سائحعددیے کے لے تیار ہوجاتے ہیں۔ ہوا بھھا سے
لوکوں کے جن می سجن کے جو لک ن ےکی صلاحت ہولی ہے اور جو گے بڑ کر
جن کوقو لک لیے ہیں۔ اس وقت ان دوفو ںگمروہوں می سک کش شروں
بوجانی ہے اور برا کی مدآ ہے۔ اس مددکا ایک وقت مین ہوتا ے۔ابھ
انمان چون جلر پاز وائح ہوا ہے ااس لے دہبھی ایی ےکوی نی رب کرطلب
رن ےنا ے جو ددائل اس کے لے یی ہوتی بلکنہاس کے لئ بش رہوتی
ہے اور سے بر دھیا نی لآ کہانڈدتھالی کے سارےکام اپنے اپے اوقات
کے اختبار سے بلانے ہہ ۓ ہیں- دنع اور را کو ہی دیکھو۔ اللہ تال ی کی
نشانیاں ہیں اورایک گے بند نت نظام کےتحت کے بعد دچر ےآ تے ہیں۔
ھی جا رقف کرو. دیھونوح کے بعد سے نےکراس وو تک کک یقو مو ںکو
ہل اککرداگیا ا حدااپنے بندوں کے عالل سے پور رب باخجرےاورأ آتئیںان
کے اختقاق کے اعتبار سے بدلدد یرتا ہے ءلبذاکفا رک کی ات توق
چا ےک اب دہ جوادویہ اللد کے رسو لکی وت کے مقابے بی اخقیار
کرس گے ا سی کےاعتبار سے نع کےسا تم بھی معا کیا جا ت گا اوراب فیصلہ
مین وقت تر یب ی٤ ے۔ .
اسلامی معاشرے کی بنیادیں:-
اب وہ قت تر یبآ آ چک اجب اسلاممکادورمظلومیتمضتم ہونے والاتھااور
لاتق ایک ای معاشرے( اج )کیل ہونے وا نی جس کی فیادیں
اسلائی اضصولوں پر ہو۔ چنا نجرا اسلائی نظام زندگی کے لے بذیادی اصولو ںکا
بھی ای مع اج کے واقعہ کے ساتم تل کیا گیا سی جفیادکی او لآتندہ
اسلای نظام زندکی کیا رہنمااحصولو لکی حیثیت ےکا مآ وہ اصول ىہ تے۔
() اد کے ساق کی دوس رےکوالشرنہ نایا جاے۔ عبادتہ نکی ءاطاعت “
اورفراں برداری کےتقو قی می یکو ا کا سابھی ناب رایاجائۓے-
٣( ما با پک عزت اوراطاعح تک جاے ۔(الب جہالں ا نکی اطاعت
دای اطاعت سےکمرائے وہاں ا۲ نکی اطاعت نکی جاۓ-)
۱ ه6۴4 رش واروں:“کینوں اور ممافروں کے ق وی اوا کو ان
سو انی ایل انان بدصرےانٰان کے جوتوق ہیں ا نکی طرف ے
غفلے تن ری جاے۔ أشھی لنھی کٹھیک اداکیا جاۓ ال کے بی لی مد نکی
میاردرست یں 27 بی۔
7
.
(م) فضول غ تی نکی جاہے۔ دا مشش ہوگی تو ںکوخل وط ری یہ
صرفگرناخشیطا! نی کام ےجس سو س اک میں ئوک اندحا وص فکر ےی یا
پالئل پاتسکیٹرکر مایا کے سانپ من شیھیں وو بھی خوش حا نیس ہوکتی۔ مال
سیر فکز نے آود ودک کر رک من اذا نک رالا فارگ جا رڈ نت
(() مفلمی کےڈرے اولا ول رکرو ال مس روزی چنا غدکاکام
ہے اوروہ ا کا انظا مکرتا ہے تم اس اندینتے س ےکک لکیا کھامیں کے انی
ضوںڑ کر شکرو یہت ہڑاگناہ ےاوروسا ابی کے لئ نودٹی کے؟ 2 نے
(٦)زنا کے قرب بھی نہ جا صرف مج یی کہا گنر ےکام سے بچتے
رہہ پان تام رکا تکوکھی ش کرو ج اس ناپا ککام پر مکساتے ہیں جھ
سو سای امس لحنت سے اک نہہوگی ووخودا نا7 کا ےکی اور بہت جلا ای
سے دوچارہوگیا۔
۱ (ے نا نس یکی جان نہ مارو۔ جس سوس ای میس لوگو ںکی جا نتفوظا ثہووہ
بھی خیش حا فیس ہیکتی۔ اس نکی حالت کے بفیکوئی دن تی نی سکرسکتا۔
اس لے سب سے پیل وکوں کے ان اود مال ک ےت کا ظا ضروریی ہے۔
(۸) ینیم سے اسھاسلو کرو کروراورا یلوگ جواپن تقو کی تنا طت
وی ںکر سک مرا کے خی ہیں نیس سوساکھی میس ایی ےکنوروں ک تق کا
ا و بھی کر یق
(۹)اپناعبد پوراکرو۔ عہد کے بارے می لے چھچجھہوگی۔ بیہاں لوکوں کے
آپیں کےقول وقرار اور وعد بھی مراد ہیں اوردہحپدشھی راد سے جو ایک بندة
من ایمان لاتے وقت اپ خدا ےگرتا ے_
(۱۰) ناپ تل مل پیانے اورت از ووٹھیک رکھو۔ نیشن دن یس معاملا تکی
در اور ایک دہرے کے توق کا ححذ سو انی کے٤ این کون کل
انچائی ضروری ہےہ جال لوگو کو ایک دوسرے پراخادقہ ہواور الوم لویل
دمروں کے موق غحص برنے کے درپے ہوں دا بھی ہای اعمَار اور
خوشکوار یک فضا پیدنئیں ہوکق_
۱س باتکاعم نہہواس کے پچ ضہپڑو۔ اخ یلم کے :امعلوم پاتوں
کک یدادربلا ان اورکینوں پرداۓے قائ مکر لے سے مانلات بمیش خر اب
ہدتے ٹیںا۔ ہراٹھی سو سا کو ال عیب سے پاک بونا ای اورانسا نکوہے
ضیال دنا جا ےکہ ال کےکا نآکگھاوردل سب سے پاز پیل ہوگا-
یب
(۴)ز من پرمخرور بی نکر نر چلو ھمنڈراو رگ رانسا نکو بدتبن اغلاتی قول
ککرنے پر اپچھارتا ہے۔ اور کی بک وج سے انسان سو اک کیل اتائیھنرغا بت
بنا کیٹ با بھی تعاقات کی خوشکواری لئے ضروری ے کرلک دو ےا کو ںکواچے
عقا بیس یل اور ددجرن ہچھیں اوران کے سا تی انسانی لوک رک رمیی۔
ھجرت کے لئے اشارے:۔
٠ ال تھا یکا بیط یقید ا کہ جب د سی قوم یں اناو لپھچتا اذ ایک
عحرض کک لوگو ںکوموتح دیاچاتا ہ ےوہ سو لکی وحو تکوس ؛گھیں اورقیول
کریں۔ااس دکوت کے نیج مس لوک ے سے ققو لکر لیے ہیں اورزیاد وت
لوگ ج می اف اض یاپ داداکی ام یلاو کی خواہشرات مس بین
ہو تے ہیں دہ اس دگو کو ردکمرد ین میں اور ا کی مخالشت برک ران“ لیت
یں ۔آخرکارایک وت دہآ تا ےء جب براندازہہوجاتا ےک وم یس جولوک
صلاحیت رت تے۔اُفھوں نے عو تکوقبو لک رلیااوراب اس یس ایی ےلوگ
ایی دہ گے جوال دحوت پرکالن جھ راودا پفورکری۔
ایهمرمے رقم نا یجھزگھی طلبکرتی ےاو ٹا قزم کے
ساضنےجرے یی لبھ یکر دی جاتے ہیں۔ چناخیرخودآحضرت صلی او علیہ یلم
ےکی اس دوری ہز ےطلب بیے گے اورآ پک ذات سے چھزو ںکاہور
ہوا۔نن جب اس سب کے بادجوداکارکرنے وانے انار پرقائ راو رفصدد
ہوگیاککہاب ٹکو ال قوم کے درمیان سے چلا جانا اہی اک توم پرعزاب
نے فا گی سان یاز شی نکی سی فطری قوت مل ززلہ پالیٰ ہواوخیرہ
کے ذد متا ہے اوربھی موسین کے ہاتھوں اس عذا بکی کیل مولی ے۔
چنا ابی سور و تی اسر ئل می الفدتھالی نے اپے اط ری قہکی دضاحتف ال
اورصاف صاف ۂ مادیا ےک ہپلوگ اپتی شقاد تک انارک کرآ پکوخنقریب
ال تی( سکمہ )سے لن پرجبو رک میں گے۔ اگ ابا ہوا تو پگ رتہارے بعد ہیی
ال الھینان کے ساتھدرو نیس گے .تم سے پیل جچے رسول ہم نے کیچ ہیں
سب کےساتق می دورد پاہے۔ ادا بگجھی اس می لکوئی تبد بی نہ وگی-
نمازٹھفنکن اصیت:- ٢
ساتھد نی سا تج ان حالات سے فٹنے کے لے خر ز او مال ود ین کی راز
1 اہنقما مرن ےکی ہزای تک افرئمر کی دھانلقین فرمئ کہ اے بٹمراپنے
ا اہ ہے
رب سے بیدعا انگو۔' ےرب بے ای کہ بچچائیوءاور یہاں :)و2
زکالیواورشنوں برای طرف سے وضصرت پکتی اس کے بعد بی ہار تگگ
دک یگئ یمکینکوخلہہملزااور پاع لکوشزاے باعل نے بی کے لع بہوتا سے بشر بک
تی میران یل مو چودہو-
اس کے بلرفارہکہ کے ان تماماعتزاضات کے بجوابا تھی دیے گے جوووہٹ
یھر یک جیاد کیاکرتے تھ اورال طط رع ان بر ہر جت پور کک اورآخز
میں یرت کے لج حضرت موی علی السلام کے وا قعا ت کات کر ول یک یاگیا-
اس دور میں دعوت کی خصوصیات:-
اس دور یی جوق رآئن نازل ہو ہا تھا حعالا تکی مناسبت سے ا سکیا یھ
خوصیات تب ذ بل میں:-
ا توکل علی الله اور صبر: :اذا نظرت ےل جب :ہہ
کس یکام کے لئے دوچ دک/تا ہے اود اع ان لکی امیر کے موافی برآنیںل
ےا اط ا نے ذو تن کلم پرداروں کے لئے
بی مرعلہ سب ے زیادہ ازک ہوتا جے ان وہ مرا اھ ای کا شکار
ہو ایس نے یما نکیا اوردکو تک سب سے بڑکی نا کا ہولی ہے۔ائس مرملے
خابت قدم ر بے اورتا کو پالئل خمدا کے قوکل پ چوک رسس لکام سے
جانے کے لیے بڑے مضبوطہ ایما نکی ضرورت ہے ال آخرکی دور مل
خحصوصبیت کے ساق الد تاٹی نے اس بادے یی ہدایات نازل فرماتئیں-
نظ مم ٣سا لکی سمل جدہجہد کے جو اک سا خے تھے دہ ایک عا نظ رک
واےانسان کے لے حوصاممکن ہو سک تھے اوز اتی طف بل مرت کے بدگھی جن
پر انیو کا سا مناکرنا پٹ رہ تھا د بھی کم عبرآز ما نی ںکتھیں۔ اس لے
مومنوں کے ولو ںکومضبو اکرنے او نیس را وق پ جھانے کے اس دور
می تحلوصیت ےو کی گئ-
اس ہارے میں سور حکبوت کے مضمان ایک انی مثال ہیں۔ جس میں
مومنو ںکوصاف صاف بتادیامگیاکمہالا ارز مل و اس را ہکی لازی من زی
ہیں :ینس پر کات نے فیصلکیا ہے۔ بھی دسوٹی ہے نس برک کے بعددی
جوےایھان جس جے اورجھو ٹے لوکوں می تیٹ ہیکت ہے یکن مومنو ںکی اس
آز ماك کا مطلب یں ےک کافرو ںکٹقیقی منوں می ںکوئی خلہرحاصل ہود ہا
ہے( لبھی بی اذا چا ےک خداکے مقا بے بس دہ با زی ایس نے جاسکت ۔
الا خیقن کا جی بول بالا ہوک ر ےگا بشر یق پہ نے والے اپنے صبراور
استقامت سے اہ ےکوالڈ کی امدادکا اش غاب تکردیں۔ھومنو ںکو تا یاگیاکہ
اس راہ می نف ی یکو ہگوں رکا وش شآ کی ہیں امن ا نکی سے بددل ہون ےکی
ضرورتڑیں الع سے پے جن اڈ کے بنلروں نے دکوت اسلائ یکا عم بلن کیا
ےا نکیھی ایی عالات تک رنا ڑا ے۔حضرت نوج علیہ للا مکاواقعہ
باددلاکر با اگ ا أفھوں نے ساڑ ھےوسوسا لم کیب راوداستقا لی کے
ساتح ای قو مکی مخا لت برداش تکی۔ ای طرح ححخرت اب را عم بحضرت لوط ؛
ضر شحیٹی بحقرت صا حضرت موی علی الا کے تی عالات سے
دو جار ہوناپڑ الک نآ خرکا ری نکی من ہوک اود ہش لکومیران سے پھاگنابڑا۔
٢-قرآن ايك معجزہ هے:-
سے پی کرک جاپکا ہےککافروں کےیجزوطل بکرنے بط تضرتے
مل یلیہ یلم او دوسر وشن سک دولون ین بنا پیداپوقی شک
کا ش کی ایاج زہ ظا ہرہو جانا ضے د یکر یلوگ ایمان لےآ تے اس خوا بش
کے اب بی اللدتھالی نے ج ہریت فر بای ا ںکاذکربھی اس سے پآ چکا
ہےاس موئ پراللدتھالی نے اپے آخری 27 70
صافصافنٹاندی کی اورلوگو ںکوتاپ اخ جج زاتطل بکرتے ہ میں
جا کہ یہ ا جھزےکونذ یھو جورنتی دنیا تک انسانوں کے لے چجزہ سے
ورس می پرتقل او رو رک وا لے انسا نکی رما یکاسامان ے۔ بیہہھڑہ
رن ہے تی یہ ہ ےک آتحض رت صلی ال علیہ مل مکو ٹکیج زے عطا ہے
ان مس سب سے بڑاجز وق رن بی ے۔
اس دو ری نازل شدوسور تگگبوت ٹیل بای گیا ےکہان مخاطبوں مش
ےون یں جا اک ہآپ نے نبوت سے پیل نت کتالیکم حاصس لکیا سے اورنہ
آپککھناپڑھنا یجان ہیں کان ال کے باوجودآپ جوکلام ٹن لکررے
ہیں دو اتا بکنعراورابیاعمتوں سےگھراہوا ےکہآن یش سےکوگی بے سے پا
عال ھی ا کی شا لآ آ تک نشی کر کا نکد الا کلام الن کے سا نے ایک
ان پک یز اھ پگ بدا ہے این کے اد ولاف نزو طلپ
کت من ۔کہرد ہز ءکا ا ہرہونایانہ+ونا ا میرے رب کےنیم میں
ہے۔ یں ھی ھا رے انجام سے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔الہحق
کو ہٹوک رن جا ےک کیام ری وت کےنوت کے لئے دوآیات ال یکا نہیں
ین جو میں مکوسنا تا ہوں تم خو کر شمحتیں معلوم ہو جا ےگا کہ یا ت تذ
سراصررجمت او رش بحت ہیں ۔ ان لوگوں کے لئے جن کے دل ایا نکی دوالت
سے الا مال ہہونے کے لے اپنے اندرصلاحیت رت ہوں_
قرآن پا ککوخود تحضر تملی ال علیہ لم نے سب سے ڑا ئجزہفر مایا
ہے۔آپ نے فر مایا تقہروں میس سے پ رٹم رکوا وڈ تالی نے اس قد رجھرے
عناعت سے جن نکو دک ہکم لوگ ایمان لا ۓ لیا ججھزہ بے عرمت ہوا وہ
گیل( ققرآن ) ہے جس سکوالل تا ی نے ہج پراتاراءاسل لے می امییدکرتا ہوں
کم قیامصت کے دن مہرے پیروکو لکی تح اوسب سےذزیادہوگی .ےتہن ایک
ایا ہجزہ ہے جوداگی ہے۔ دوسرےجزات وی ھے اود و ونم ہو گے لین ہے
مز قیامت کک ر ےگا ادراوگو ںکوا تی طر فمھنچتار ےگا ۔ق رآن پا ک پا م
کلام ٤ا لکیافصاحت وبا مت ءال ایی خی بکنیروں اورجی نگوئوں
کا ذکررج نک ککوئی انسانی زم ن نیک سک تھا۔ ا کی قوت جا خی :اس کے
اکامات اورتحلیما تکا ایا مفیدون یآ جع تک انسانی سو ائ ےکوی
وو اتا کارآم نظام حیات شی نہ ہوسکا۔ اور باوج دم وضو عکی اتی ومعت
کےا کا ہکم کے تضادادراشتلاف بیانی ےتفوطہ ہون اور رسب ے زیادہ
رہ یسب کلام ایک امش لک زبان سے ادا ہنا جواصطلا تین می پالکل
لن پڑھتھا۔ یسب باقن ق رآن پاک کے جزہ ہونے پر ای یں ہیں جن
کے ہوتے ہو ت ےآ بھی نبوت ری پرولو ںکواظین 0 ہےاورہوتاے۔
-٣ دوٹوك بات:-۔
اس دور کے نا ز یش ولا مکی ای کخصوصیت یو ے لہا بکفادے بات
پل صاف صاف اوزدڈو کی جان ےکی ۔ جم سکاانداز پیتھاکرا ب مچھانے
اوز چا ےکی خدہوائی۔ اتا نذا بکھی مو ہے مان لوئی سذ اپ ا کاراور
ضر کےبتاى یع پنکتے کے لے جیاررہو۔
چناضیکاگیاکہ ا تذاپنے ر بکاطرف ال وی اک رش ول ھ4
انم ہو ںین ا ےار ہے ہواورمطال گر سے ہکا ا کی پا داش مس چھ
عذابآتنا ے ہآ چا ےمان ی میں جا دییاہو ںکرمرے تی می دہز
نہیں ےج سکیتم جلدکی مار ہے ہو۔ا سکافیصل داکے اتد ہے۔اگرمیرے
ق ےکی بات ہوتقی قذمعام لیج یکا کاد گیا ہوتا فی ب کاعلم ال دک ہے دو جا تا سے
رر کا کے لن ےکون ساوت مناسب ہے + دہ ا با تک قد رت رتا ےکہ
جب چا ےھھارےاوبرعذا بت رے۔ برای سمل می سآ کے جا لکر ہرابیت
دئیگئ کت الوکیں نے زین کے مجا ےکوی کحعی لپچ رکھا ۔ےاوروددنا گی
زندگی می مست ہیں ا نکوان کے عال پرچچھوڑدو۔ ات یں بیقرآن برار
سزاتے رہھ۔ائل پیگگی نہ ما میں تن سےکہرد وکا اقم انی مہ رو ل کر
رہدہ جو قمکرنا جا تی ہو می بھی انی مج لکررہا ہوں۔ تی جلدجیمھارے
ساتۓآ جا ےگااو ری معلوم ہو جات ۓگ ایکون سرد ھے رات پرتھا-
ایک شال سام حم کےط لا مکی۔اس کے لاد یھی اس دو ری دی
یں برانداز واج طوریرسا تن ےآ جا ہےء اور گیا اعلان تھا ال با تک اکہاب
با ت شی فیصامکن مر مل میس دائل ہہونے والی ے۔
لے سوہ انعا مآیت٭٣٦ ا مےااوز۴ ۳۵۰۱۳ ا کے ٹیگ ظر
'-٣ ھجرت کے لئے تیاری:۔-
اس کے اوہ جثرت کے لے صاف صاف اشار ےکی اس دور کلام
ٹیں بارہار ساس ےآتے ہیں چن خی سور کیو ت مین را یضاد یکا کے
میرے بنرو! کی کے زی مر یکیو عمفیارے
اپے ؤ نک زی نھارے لے تک ہوکئی سے نو ا کی بہرداہ ندکرناء میریی
زشن پوت ٹن ہے مرا کہا ےکم یکین جا ملککن می بندگ یکا
رشنر ڈو ہاے۔زیادہ سے زیادہ جوخط سی جاندارکوہ کت سے ودمو تکا
خر ہے وشن رکوکہم رن برای کک سے اورپ ٹکرمیرے اپآ
ےت گرم ری ہی راو یش موتآ تے فذبچ گنرس با تک ہے جک وگی یمان اور
شل صا غ یا فی نےکر ےگا۔اسے اہی بافوں می ںآ رام سے درکھا جاے
شس کے نجچری جارکی ہو ںکی اور جہاں دہبییشرر ےگا بیکیسا ا چھاہرلہ
لکرنے والوں کے لئ ۔ ایک لکرنے والے جوخت سےقت عالات
یں کھی الد کے دی نکی راہ پر تر سے اورجضھوں نے اپٹی ہرجدو چم دکرتے
وق تگلروسراپنے رب برای رکھا-
رہہ بای گیاکہاللدکی راہم گھریارکچھوڑنےکادوسرااند یش معاشی برعا یکا
ہے اس بارے میں ان کے اس ابما نکومضبوم کیا میا کہ دراصسل رز یکا
متاللہپالنل خداکے تدم سے +ویکھوزشین بر جلے وا لے کے عی جاندار بی
جوا رزقی اپنے ساتحداٹھاے اٹھا ےنیس نچ رتے کان الڈرا ن کا رق می
گرتاےاورا کہ سیر ہہ شش
کی ولک ررقذجانتگا۔
ال کے علادہ اس دورکی ایک اورسورت بتی امس اتل میں جثرت کے لئ دعا
بھی سکھائ یگئی کہا کہ دھا یوں مان وک اے رب ! ھے انبھی عیلہ ایوہ اور
( کہ )سے ابی رع پکالدہ اورشنوں برای طرف سے رح نضرت جو ۔اور
اےپنجراعطا نکر دیق میا اود ال ص ٹف گیا با لکاٹ جی جانا ا ۔““
وٹ بک اود ای ط رح کے دوسرے بہت سے ا پےے اش رات ہیں جوا
دور جےکلام میس لے ہیں۔ جن میس ایک طرف نے ا ںآ نے وانے انقلا بکی
رف اشارے کے جار ہے تاور دوسرکی طرف ان عالات سے نے کے
۱ لے شک تار کی ضردر تھی اس پہ بار بارس کیا جار اتھا۔آخر تکازندہ
لقن دا کی نمتو ں٣ 1رزوک ولوں ےکھودکھو ہکم کال کچھیکنا "و حید گل
اور کے تقاضو ںکا انی طرم ذ ہن شی نیکرناء ا کے علاد کی دوسرے
سہارےکودل می لکوکی لن دیاءعرف أ ی کی ذات پہگکل گگرو سکنء و
پ2 ہدایات اش طرف ے نازل ہؤ رت یتھیں, ا نکو با پجگھٹا ے
بڑھاۓ براب شی کرت د ہنا اوران سب کا موی کے وا سے تق یت حاصل
کر نے کے لے نھماذ فا مکرنااوراس پر پورگ ودک تقر یناءبرادراسی طرح
کی دوسرک ناد ییحی جن پرملمافو ںک ت بی تک جار میتی اوزساتھ ی
ساتھ نی ان خت عالات شی بھی دی نکی معن کر نے کے لئ ضروری
ہزات دک جار یچجیلں_
ا
اذا باب
اسلائی اصطلاع مم ضرف اللہ کے دی نکی اط راپے وی نکوچھو فک ری
ای دوسرکی کہ جے جانا ججہاں دی کے تا ضے پورے ہویکیسء ججر تکہلاتا
ہے۔ملمان کے لے جائزنییس سےکہو وج شکاروبارہگھراور جا ئیراد یا اع و
دا قار بک نما کی ایی کہ سے چمار ہے جہاں اس کے لئے اسلائی نی
سرک رنے اورایئد کے دی نکی دگوت دی ےک یآ زادی ۓہو_
یہالں ہہ با تب ہیی چا ہےکہ ہش الیل کے دن پرا یمان لا اد اس کے
لن ےکی ظا حمکفر ےنت زندگی یھ رکرنا صرف دددی صوروں میں جائز ہوککتا
ہے ایگ ف بک دہ ال سر ین یں اسلا مکوطا لب نے اودرنظا مکفرکونظام
الام شی تب ی لکن ےکی جدو جج رکرنار ےن طر کا بتک سلدان کے
ںار کر براب کرد ہے تھے اور ںکام کے مقا لے یس ہک ختاں پیل رے
تھے دوسرے لد ٭در فی دپاں لکلنے یکوئی راہنہ پا تا ہو۔ یااس کے
لن ےکوی ای میس رنہ ہو جہاں دواسلائیذ خر یک ار نے اورنظھام اسلامكو بر پا
کرن ےکی جددجدکر گے۔ ے مان ج بکوئی ایا مقام میس رآ جائۓ جہاں
بی بات یرد ہ ےکی ارت کے لیے کی دائزرالاسلامکا مو جودہوناشربائیں ہے۔مسکران کے
لے اہا مکفرکی اطاعت نے بے کے لئ اتای کاٹ کو وی ہنگل اوری پپاڑ میں چاکر
زندگی رک گھے۔مسلما نک نظ رم ہر رکے بچانے سے ذیادود ین کے با ےکی اکیت ے۔ :
دبن کے تھا پپرے ہیں یی اکراب مع بین گی سر لن سےأمید بی 22
ہو تھی ,تاس یصورت ٹیر صرف دی لوک قائل معاٹی ہو تے ہیں جوا انی
کیزررزورکنزرموان رط سفر کے بقائیل یہو ںخواہ باریکابج ےا
مفلس یک ما یر۔
عام مسلمانوں کی مدینه کو ھجرت:-
وق ان جب اسلا مکی اشاعت ایک عدکک ہوچگی تو ا بآحضرت لی
علیہ کیلم نے عاممسلرانو ںکوجھ کے می یکاخرول کے پاتھوں ستائۓے ارہے
تھے۔اں بات یا اجازت دے د کہ دہ مد یندکو ارز کرجا ہیں ہبہ دک ےکر
کافروں نے مسلمانو ںکوہہثرت سے رو نے کے لے الم اور ہڑہاد ہے اود ہر
طر حکیش لکیہ بلویک ان کے نگل سے فک لکر جا بھی نہیں لان
مسلمانوں نے اپ مالء جان اوراولا وکوخطرے می ڈا لک ا کے دی نکی
فا طراپنے وی نکوچھوڑ دنا بی بین دکیا او کوگی لائی اوز دبا انان کے
ارااۓے سے تن روک گا۔ رف رفنے بہت سے تاب یدآش ریف نے گئۓے اور
آحضر لی اللہ علیہ لم کےساتھوحضرت الاو رنحضر تک رہ گئ یا بھ
ایی سلمان رہ گن جوغلس کی وج سےمجبور تھ اورسف نی سکر کت تھے۔
آنحضرت' کے قتل کا مشورہ:-
جب نبو تکا تیریہواں سال شرو ہوا نو اس وف ت تک ببت سکاب
ججمرتکر ہے م ینہ یے تھے۔ اب تق رلیشی نے دی ھاک مان نو میمش
جاک طاقت کلڑتے جاتے ہیں اوروہال اسلام پھیلتا جار پا ےن أنھیں بڑی
تشوییش ہوئی اورافھوں نے اسلا مک وآ خری ور پش مر نے کے لے نی ری
س چنا شرو عکیں۔ عامتوئی مسائل بر سو ہیارک نے کے لے داژالنروہ
اض شی ون بر سے پدے بڑےمزوف نان ہے
اور یس چناشرو عک یاکراب ا لئ ری ک کش مکرنے کے سل ےک یاکیاجائے۔ یھ
لوکوں نے مشورہ دیاکیشویسکی اول علیہ وسل مکو زی روں سے کک ری مکان شش
بندکردیاجاۓ للحن ری شوہ ان لے ردکردیامگ اک یھلوگون ن ےکہاک لی
ا علیہ یلم کے ساھی ا نکوہم سے تچٹرالے جا یں کے اور ہوسکتا ےک میں
ان کے مقھا بے میلست ہو جاۓ -_
ایک مشودہ ید گیاکہأخیل جلاؤش نکردیاجائۓ ۔لیکن یھی ال لئے پبند
اگ یا کیجپیلی افلعلیہدیلم جہاں جائمیں گے وہال ا اکن کے یرہ پیداہونے
یں کے اور نک یت کیک برابہ بیع گی جات ۓےگی۔آخرکازاہویجمل نے ہے
مور ود اک رہ رشیل ٹس سے ایک ایگ جوا ن نت بکیاجاۓ اور یسب لک
ایک سات ی٥ک ال علی ےلم پلک ر یں اور انی کرد یں۔ ا طر ا نکا
خون تا میلو می بٹ جا ۓگا۔ اور خاندان ہاشمم کے لئ بینکن نہ ہوگاکہ
تا لو ں کے متا ے میا ےکر ۔ اس را ۓکوسب نے بین کیا
اود الاخرا کام کے لئ ایک درا تہ مت ردکر یگئی اود ی ے پااک راس را تک
سب نت او آپ کےگھ رکوکھی ری اود ج بآپ می باہ نٹ رات لاخ
انا کا مکرڈ الیل عرب وا نے را تکو تج رکی کے عا لم می شی ک ےگ یی لکنا
0-2
الہ ای کر ک ہآخحض رت صلی ایق علیہ ول مکوبھی رشو ںکی ان خفیہ
تھ یرد ں کاملم ہوتار ہا اوراب دہ وق تآ گیا کروی کے ذر بی ہآ پکو پگ لگیا
کا بآ پگھ یکٹچ وڈکرھ بینتش ریف نے جامہیں۔ چنا نچ راس ارت سے دو
تن دن پیل ےآپ نے حطخرت اوبکرصد لق رشی الڈعنۂ سے مور کیا اور ہے
لے وکیا ہآحضرت کے ساتوحضرت ابوبلڑ تشریف نے جا نہیں گے۔سخر
کے لئ اونٹا ںکھ یتجو: ہوکیں اورحضمرسا زادراوڈھی تارکرلیاگیا_
<مکے سے روانگی:-
کفارقرلی نے جورا تآتحض رت لی ای علیہ یلم کے لکن ےکیلے لے
04 ۔ ال درا تکوآپ نے حر تک یکو بلا یا ادرف مایاکہ بے ار تکانمہل
نگ ہے می لآ نج رات ھ ینددانہہو جا و لگا۔میرے پاس بہت سے لوگ ںکی
انی جع ہیں یق تع ان لوگو ںکووائی ںکرد ینا اورآج رات تم میرے لم رپ
عوتے ر ہنا اکزد یگ وا لین نین رہی ںکہمیسگھ یی موچودہوں_
کفارق ریش ایک طرف آپ کے خون کے پیاسے تے نئان اس عال
لپھ یآ پ یکواہیاامات دارادرد یاخت داریتے ےک ای امانتیں اور مال لا
لاک رحضرت کے پا رکھت تھ۔
را تلاکفار 09 تر جب رات زیادہ ہوئی 7 آپ
ای اوراشینان کے سا تج مان سے با ہر کنل اس دق تآ پور میس
گی ایت فاغشیساهمْفهُم لص ون ٥لا وت فر مار ے تے سً پ
ہے بک شی خا کب رشاھت الوجوہ(چرےگڑم ناما نے
ہہوۓے مکفارکی طر ف یگ اون کے درمیان سے ہکرت یف نے گے۔اںس
وقت اللدتعا کی قدرت سے ان محاص رک نے والول پر رج ایی خفلت طارٹی.'
ہو یک روہ تحضرےس ی الل علیہ ول مکوتشریف لے جاتے ہو ہے 1 ب2
کے ۔آپ حفضرت الویکڑ کے مرکان برتخریف سے گے افزوژں ے ان 2
کے سے ہاہ رج اکرفا رٹ رٹل جیپ گئے۔
غارثورمیں پناہ:-
عخرت ابوگڑ کے صا جزادےعخرت بدائل جال وقت لور تے۔ را ےک
الناصاحبان کے پال رہچے اور کے می کک پت لا ےک ذارا بکیامشورہ
کررہے ہیںہ جو محلم ہوتااس سےان ددنوں ہز رگو ںوی اخ رکرتے رہجے۔
بلحورات سے تفظرت الوب کاغلا مچگر یو ںکادودھ نے تا یگھ ےپ کھانا
ا تا۔ ا رح جن رات تک بیددفوں صا ان ہاش رےرے۔
کیج بکافروں نے د ھا حضرت مکی الہ یلم کے سےججرت
فرماگ ے2 بہت پ رشان ہو اورآ پک اش یس (دھ رھ دوڑ پڑے۔ ایک
باد دلو گآ پکوڈھوڑتے عونت مین أسل ار کے نہک کآ گے جہاں
ارت صلی انل علیہ یلم اورنحخرت اہوکرزشی ال عند سی ہوئے تھے ان
لوکوں کے ققدرمو ںکی آجٹ پک رضرت الویڑ ہھ پر ینان ہوئے۔ اس لئے
نی سک ہانھیں انی جا کا خطرہ تھا بلہرال لک کی اللہ کے رسولی کوکئی
تلیف نہب جاے ۔آپ نے أ نک کھجراہٹ دس ےکر نیت الین کے۔
ات أنی ںی دی ادرف یا:-
ےس سوا - سے سے
اغزن ان الله عَعنا: گھبراونئی ال مار ے ساد ہے۔(ہہ)
چنا اہی ہوا۔ اتی کےعلم سے ار کے مضہ پہ دای علایں چھا
ظط و نی دیکافروں نے ماک اس فا ری کوئی دا کی ہواہے۔:
ساتھہیکفارق ری نے پہاعطا نکرد یا اگ رکوگی نشین لی اطدعلیہ
یل مکوزند ہی مردوگ رف رک کے لا ےگا ق أ سے ٭٭ ا راونٹ انعام دیا جائۓے
۔ اس افعا مک اعلان نک رسکئے ید یآ پک حلاش میس اد رھرگل
کھڑے ہوۓے۔
مدینه تك سفر:-
چو تے و نآ تحضر فارٹور سے گے اورایک رات اورایک دن پرابجسفر
کرنھ لت سے لئے حضرت الوب رزشی الد حش کی ارک ہوئی رورہ
وشیا پیلے سے لے ہو یں ہراس بتانے کے ل ھی ایک جا نے والے
نظ کرلیگیتھ۔ دوسرے دن دو رک وقت جب دھوپ تو ایک
چٹان کےسا بی چجود آراممکرنے کے لن جٹھہرے بقمریب ہج یکوگی تج داہائل
ایال لک یجرلو ںکادودھ پیا او ربچ ردہاں سے روانہہوے۔ کس وق تآپ
روز ے تھےکیا ان ک ای رات نام ےکپ این
نام کےلا مآ پک علش یس پیل تھا۔ اس ن ےآ پکو دس کراناکھوڑا
دوڑ ایا کھوڑے نے ٹھوک رکھائی اورگر پا لین ذو پچ رھ اور چرم کر نے
نے کہاجا تا ےکک ڑی نے ا رکےت بی جلاجان دیاھاوز کور نے اکسا رکایاھا ؛ے
دورد ھن والو ںکویچی لقن ہوا لا عار میں عرص ےکوئی داف نین ہواے۔
چچچ چچچچ چک ری سس
کے لئے تیاز ہوا ایب چو آگۓے بد جات ال کی فد رٹ کہ اس کےکھوڑے کے
پا و ںگھٹنوں کک زین لیٹس گے ۔ اب و سراقہ ران ہکیااوروگیاک
معابلہدوسرا ہے۔ میس ہر صلی اوقرعلیہ یلم رتملہ تک رسوںگا۔اورفو رآڈرکر
اپ نے آ پکوجضرت کے وو ال ےکردیا اود اما سکی درخواس تکی ءآ تحضر صلی
الشرعلی دم نے ا سکومعا فکردیااوراماں دے دگی۔ بیگھی حر ت وی اڈ
علیہ لمکا ایک چجزوتھا۔
مدینے میں تشریف آوری:-
آپ کےتشریف لان ےکی خرھ یٹرٹس پیل ہیاپ یھی اور پوداشہر
آ پک تشری فآ ور یکا خنظرتا_ چے اور بڑے پرروزسوئر ےشہ ےک لکر
با ہرمع ہہ تے اودردو پرتک اننظا رک کے لو ٹ٦ تے ۔آ خر ایک دن دہ مارک
گنڑ یآ یگئی جس کے ب لوک خظر سے دورےآپ ک ےآ نکیا علامات
دک کر سماراش ونب رک ہوازوں س گور اٹھا اور ہرختظ رد لک یک گج لگ ی_
ھسیے سےقن ئل کے فا لے پر ایک مقام ہے ا تیا۔ میہاں انصار کے بہت
ناندا ننآباد جے- ان می ںعمرو می نگو فکا نادان سب سے متناز تھا اور
کلنوم بن الہدم اس کے اف رتے۔ بیسعادت ا نک یق مت تح یکہ ار
دد الم نے سب سے لہا نکیامہمالی قبول فر مکی اورپ نے قبالٹس ان کے
مکان پ تا مفر مایا ححفر تی جوآپ کے دوانہہونے کےتین دن بعد چے تھے
دہنگیتشریف لے ے اور یہاں جی قیا ف مایا
ایم شآ پکاتش ری فآ وری خبوت کے تی رو میں سال ڈل باہ رن الاول
(عطابقی ۱۰ برای )کوہوئی۔ تا کے قیام می ں مض رت صلی اویل علی ویل مکا
پہلاکام ایک سد فی را ۔آپ نے اپے دست مبارک سے سک ناڈ ای اور
در ےا پر کے سا تی لکرخورا ر3 اترک چرٹتق میں 2 پثر
یدک طرف رواہپو ےس بی جکا دا تھا۔ راس می مف سام کے ملےئیں
ما زنظہ کا وت ہوگیا نے آپ نے سب سے پل جع کا خطبردیا اورسب ےکی
جحعدک نماز پڑھائی۔ دینش دا لے کے وقت ہرجاں شاریآروح یک انی
کا شرف أس کے سے می سے ہرقبیلساسٹۓاک رہف کر یڑ حضور گر
ہے۔ یہاں قیا مرف مائہیں ۔ لوگوں کے وق اور ذو کا یہ عال تھاکہ ہردل فی
رادتھااور ہرجاان قربان ہہونے کے لے بےے ین ہوا تین مرکا نو کی چوس برا
ریییٰ۔
طْلَع الِبَذرْعَلَیْتَ ہس چاند نل آیا
بِیْ تَيْبّات لقاع وم یداں بی ھا ٹین بی
جب الشَکرعَلَیْنَ م پر غمدا کا شر واجب سے
مَادَعیٰلِلْه٥اع ج کک دھاا گے دانے دعا یں
موم کیا ادف ب اک رگا ردیچجیں :-
فحنْ جَوَار من بیبی اللتکار جم ان دا ننا رک اکیاں ہیں:
يَساحَتذامحمصلےاقن جار ممسک ال علیہ مکی اج مسا ہیں
آپ نے اننلرکیوں سے پو چھا یتم جھھ سے حبت تی ہو؟ وہ بیس
”نا ں ف مایا نی شپھیاغم ےیحبت رکتا ہوںں“
ل148 سس سے
: مدینه میں قیام:-
کن شرف سے عاصل ہو ؟ ایک سوال تھا ۔ شس س کا تصفہآسا نان
رت نے فرما می ری ای جس کےمکان کے ساست ہر جائۓ ودی
ےت
شی آیاجچہاں اب نوک ہے اس کےقر یب اگ نکا مکالن تھا۔ ریرمکان دومنزلہ
تا أنھوں نے بالا خانہ یی لکیا لیک نآحض رت صلی ایل علیہ لم نے لوگو ںکی
آعددرف تک ہوا تک بج رے کی مضزل ٹیس ر ہنا بین فر مایا اورنظرت
ائوایوب انصاراورا نکی زوجہ کے صے میس او یی منزلآلی- ۱
شض رت لی ال علیہ لم نے ات می ےتک کیں ا فیا زا کے
بعد جب سبجد وک کےقر بآپ کے قیام کے لے جر یب رہ ےن دہاں
خفل ہوم ےتھوڑے ہی رنوں کے اندرآپ کے نمائدان کے لو بھی مد یعد
2 وت
مسجدنبویٗ کی تعمیر:-
ین قام کے بعدرسب سے پہلا ادرض رود یکا م ایک سچ دک یی رتھا۔
جا ںآ پ نے تیا ماف مایا تھا اس ن قرب بی پچھوز نا فزاد تی جودوقیمو ںکی
ض ا نکوتجت د ےکر بیز ین عاص٥ لک یگئی او سید یتخب روغ ہوئی اس
1007 پ مز دورو ںکی اح صن کنیا زی نکرنا مکرتے ے اورپ راٹھا
اٹ ھکر لاتے تے۔ بی مسج بہت بی ساد وط ےپ بنائ یگ یی بی اغٹو ںکی
لوا یی ہجورکی چو ںک ہچ ت ہجو ر ک تو کے ستون۔ ای سو کا قب بیت
قد ںکی رف رکھامگیا یوک ہ اھ ینتک سلمافو ںکا قب بھی وی تھا۔ بچلر جب
قب لک کی طرف ہوکیا نے سور می بھی اسی ضبدت سے تمہ کرد یگئی۔مسچ رکا
ف کات بارش ہوئی نذ مسر میں مچڑ ہو بای تی چجددنوں کے بعدپچھرو ںکا
فرل+نالیاگیا۔
مد کے ایک مرے پر ایک پٹا ہوا چبو تر تھا سے شف کے تے۔ بہ ان
لوکوں کٹ رن کامقام تھا جواسلام لا ۓ تن ُ نکاکوئ یگھ در نہتھا۔
جب سج بن گی اس کےقریب ئآ پانے ازوان مطہرات کے لے
جرد لپن کک ادن چا اخ اس
مکان بچھ بد مات سمات ہاتھ چوڑے اوردل دی ہاتھ لا ثنۂ تھے ۔جحیمت اتا
ایر د یکھڑا ہو جچھتکںچھونے۔دروازوں پک لکا یرد پڑاربتاتھا۔
آنحضرت کے مکان کےقریب جو انصاررے تےء ان مم سکھاتے بے
لول1 پکی غدمت ی دودح دپاکرتے تھےب نی سان ایی پھواور
ںای پر شی کی کے ات بس ہو یں
مواخات (بھائی بنانا):-
رکشت جو ف زا کیا رکز زکر- ینا گے تھے ود تر اسب کی بے
سروسامان تھے۔ ان میس جولو ککھاتے پٹنے ےد ہبی اپنامالی کے سے یس
لا کے تاور نکوسب پگ وڑ چا کر ایوں پیآ ناڈ اتھا۔اگمر ریس ب کہا ز
رین کی مسلمافون(انصار) کے ہمان تھے لین نبہرعال اب ُن کے سمل
قیام کے بندوبس تکی ضرور یچوس ہو رد یتی. او بھی ہلوگ اپنے تھوں
سممےھ 0ج ےممصمیے
ے جن تک کے زندگی بس رکرناپہندکر تے تے۔ چنا مہ جب سید نو یک افی تم
وی تحضرتصلی ار علیہ یلم نے ایک دن انصا کو بلاباادرآن سےفر ما کہ
بی ھا تزنھارے بھائی میں رپ نے ایک نشی سکوانصا رین سے او رای کک
مہاجرین یل سے بلاکرفر ما کہ نع تم دوفدول ایک دوسرے کے پھا کی ہو۔
ال رح س ب'ہا بی نکوانصارکا بعائی نادیا اور برائٹد ینکش بنرے ہچ
بائ کیا بھائی ےھ کیل زیادہ ایک دوسرے کے نیقی بین یئ ۔انصار *
مہہا بجی نک ان ےگھ لے گئے ۔ اوران یکل چائیباداورسا ما نکا اب ان کے
ساسيئے رکودیا او رکردی اک ہآ د اھ را او رآ دھا جمارا۔ جانا تک یآ کی یق کی
پیرادا ہگ رکا سا مان ءمکانء جائکداغرنل بک ہرچزران یل بھائیو ںکی طرح
تیم ہوئی۔اوریہ ےگ ”ہا جرسب کے سب این سے ہو سئے۔ اتی
بہت ے ہابیریوں نے کاروبا گی رو عغکردیا۔ دوکائی ںکھول - اور
دوسرےکاموں میں مشخول و گئے ۔ اس رع ہاجروں کے بسان ےکا کام
انام پا ادا طرف سے انان حاصل ہوا۔
++ہ
آتھواں پاب
دکوت اسڑا ای کۓے دورہیل
ارت سے پیلےاسلا مک دو تک کےمشرکوں کے ات دی جارق تھی
ان کے لے اسسلا مکی ذکوت ایک نی چشی این جثرت کے بعد ید بینہ می ود
سےسابق یی لآیا۔ برلوگ نے حیدء رسسالت ءآخرتء ملاک ہہ وگ ویر کے ال
اور ایک کہ رت مڑی علیہ السلام کے اتی بہونے کے لواظ کے دا گنا
رف ےےآکی ہ+وکی ایک شریعت کے ماسشنۓ کےبھی مدگی تھے -اصول ا کا
اس رین دی اسلام تھا جس سکی رف ححفر تم لی علیہ یلم دکوت درے
رہے تھے۔ مہ بات دوس ریش یک صد یو کلاپ دائیکی وہ سے ان کے انور
بےےشحارخرامیاں پدا ہنیس ا نکی زندگی اصل مخدائی ش ریعت کے ضابطون
ےآ زاد وی اوراس می ٹوس مکی بیس اوررسم ورواجع ال ہو گے
تھے ۔لرات ان کے پا ض رد یکین اس ش؛ ھوں نے بہت ساا نا ی کلام
شا لکرلیا تھا اور ج پھھ خدائی اخکام بات بھی رہ گے تھ ایس این بای
تاویلوں اورکش کول کے سانچوں میں ڈہا لک بے با بنادیا تھا۔ خدا کے
دبع سے ان کاتطلق انا یکردر ہوکیا تھا اور اتا گی ور ان کے اندر لی
خرابیاں جڑ پل تھی سک اگ رکوئی ال کا بندہ أ نیس سیدرھاراست دکھانے کے لے
دوجو شسچ ت چچچچچ چ شس
چھیآ ایت ا فھوں نے ان کی ایک شسکی کہ سے اناسب سے بڈاشن جانا
اود پ رر ان لک یآوازد ان کیکوشن ںکی۔ اکر چہ یلوگ اپنی اصل کے لاظ
سے ”مسلم یھ این اب ا ےگ گے ےکا یں خودی یہ یادضد کہ
درا ا نکادی نکیاتھا-
ال فحاظ سے ا بن یک انسلائی کے سام صرف دن کے اصولو ںکی
نادیم ہی سے لوکو ںکومتعار فکران ےکا کام نا بگہالیے اوگوں میں پھر
سےد ارد بد اکن کا ام چھی تھا جو ایک ا ار ککڑے ہو مے لم
تھے پچ راس کے علادہ اب مد سیے ٹس چاروں طرف سے آک رملمان اکٹ
ہورے تے اور ان مہا بجر بین اور بر ۓ ے الصار سے لک ایک بھوٹی سی
اسمائی ریاس تک بفیادپڑ رت یھی۔اس لئ ا بکک نت ری ککوصرف اصولی
ات ء معقائ کی اصلاح او رگد اغلاقی تخلہنا تک عدکگ ہدایات د یں
من اب رن مجن کے طریقو ںکی اصلاع اطائی تو این اور ہئیں ے
تعاقات درس تک نے کے ضالبطو کی ضرور تھی چنا یراب ا طرفنگی
پر دی جان ےگاتی-
ایک دوسری بک تد ٹی اور ہوئی ۔ ا ب کک اسلا مکی دگوت خووکف رکے
حول می دی جارنیاشی اورو پا دہکرمسلما نکافروں کے مظالم برواشت
کرد ہے ےکن اب ا نکا اپنی ایک آزادیھوٹی کی ریاست گنی جھ
9 ,0
پنیا نکر نے کاجی نل تھا بکنہپوداعرب اب ا جات پ لا ہوا تھا ام سی
بر جماع تکوجلد سے جار کرد یا جات یس تو آنیں رخطروسا نظ رآرہاتھا
کہاگ اسلام کے اس نے ع رکز نے طاقت حاص لکنا شرو کرد فو پچھران
کے لے رن کاکوئی مقام شددہ جا گا۔ اس لے اب ا سی اسلائی
بجماعت کے لے اپنے اوران بک کے بچا کے لے ضروری تھاکہر:۔
(۱) دہ پرے جو وخر وش کےساتحداپنے مل ینغ کی ۔ائ کان
ہونا دال سے اب کر یی اورزیادہ سے زیادو وو کاچ ۃ یم خیال مان ےکا
وش کت
(۲) این جن عقیروں بر تے ہو تا نکاخلط ہوناد ال سے ثابت
میں جاک جو بھ یق لکی رش می با ف ھن چاہے؛ اس کے لے اصل
یق تک پیے می سکوکی دشواری نہو- ٤
(۳)گ با رمچھوڑنے اورکاروبا کشخ کردہیے کے بعد جو لوک اس نی
رباست سآ اکرش ہور سے تھے ان کے لئ تصرف کہ جا کاکوگ اتظام
کیا جا برا نکی الیی اخلاقی اودایمای ت بی تک جات ےک نف رفا قہ اورۓے
المینانی کی حالت یس دو ےب ر کے ساتھ عالا ت کا عظا بلک ری اورسی
مخت سےخت وت یی ان کے دم نہ ڈگمگانے پانمیں۔
زم ) ملمافو ںکواس پا کے لے پلک تی کرد یا جا ۓےکہ جب ال حکومٹا
ڈا لے کےارادے کے ساتةیخاشین ان پرتھ لک یں باوجو دا یکن در اور ے
سردسامائی کے ڈ کر نکاھقا کرش ۱ برا نکواپت مل کک چان پر اییا
ین اوراينے خدابرالیما روس ہدوہ خرن سن ماد
چچ چرچ نکش ش۴
(۵ )فیک کے ممببرداروں بی اگ ہمت چیداکردکی جات ےک جولوگ
چھانے کے باوجدداس نظام زندگی کے قائم ہونے می ںآ ڑےآ میں جواسلام
قائمک رن ات تھا نذا نکوقوت کے سا تح دمییران سے ہثادبیں-
چنانی سنوی اوردر یضر ور یمارڈں کےانمظاماورمہا جر بین کے لے
تل امک ٹھکانکردہے کے بح دآححضرت صلی اپلدعلیہ یلم نے ان قمام
کیامو ںکی طر ف تحرف ماگ ی .حور٤ بقر ہکا ایک بڑا حصہای دورئٹل تاز ل ہوا_
اس یس ان بی تام بالل پزورد یاگیاے۔
پیھود سے معاهدے:۔-
مھ سے کے چپاروں طرف یبودکی بمتیا ںحیں۔ ان لوگوں میس اسلا مکی
وت درۓے کے سا تج ساتجھ ای پانٹکی گی ض روز تج کان سے سیا کیا
تعلقا تک ندکیت سان ہوجائ ۓےکیونکہ کے کے می بی جا نک رکیمسلمان کے
سے لے گے ,من ہوک یس میٹ گئے تے بللہ جب افھوں نے مد یھاکہ
مسلمانو ںکی ایک نم جماعت بر ہے می اکٹھاہورہی ہے ُفھوں نے اسلام
کے اس مرک کو اتی طافت کے مل پرمنا ڈ ال ےکی مھ بی ری سو چنا رد حگردیی
ھی یس سلۓ ضرودی تھاکمہ مد سینے کے چا بزنظرنف پچرک جر+تیا ںینس
ا سے ملمان اپنے سای تعلقات وائع طود شی نک بی امش رکی نب
22 لے کےوقت بیاندازہ ہو ےکہ ودک طاق تکس طرف ہوگی چنا ٹج
برینداورسائل چراعر کے درمیان جو تی ہآباد تھے ان کے ساتھ بات چچیت
شروم ہوگی ان ش ےجنس سےآپ نے خی انب داد یکا معابدرہ نلیا
سے سس ذ3 4299س سیبدشستے
یی ےک اگر بین کے مسلرانوں پرقرلیش اکوئی او رم کر ےگا یلیل
مسلمائنوں کے ساتی لکرلڑرں گے٤اوریمسلمانوں کے شمنو ںکا سا تقد میس گے
۱ اورٰن ضٹیلوں سے برمحاہدہ ےل اکہاگرمسلمافوں پرکوگی ہملک ےگا فو یلوگ
مسا نو ںکاساتو دیس گے۔
منافقین:۔
بے می یک اسلائ یکواس وقت جن فۓ عالات سے سابقہ پڈر پا تھا
ان یں ایک مستلہم انی ن کا بھی ڑا اہ متھا۔ کے کے خریی دو یس ای
لک و اسلائی جماعت می سآ گے تے ج اکر چہ اسلا مکی دقو تکو پامنل میق
امن تھاکان اپنے یما نکیمکنردر کی وج سے دہ اسلا مکی خاط راپ دنیادی
تعالقات لویل بچموڑ سکنے تھے ۔حبارت ءزدااعت باعز یذ دار کی بنشلیں میں
اکر اسلام کے تھا پور اکر نے سے دوک د بیس کین اب می میں بھ
ای ماف بھی اسلائی جماعت میگ سآ تے جوواققنا اسلام کے پالنل
مر ےی نجس لنرج پاککرنے کے لے ددمسلمانوں کے سا تھشائل ہو سے
تے یا ولیک ایے تھے جومجبورا اپ ےکولسلمان ظا ہرکر تے تھے۔ ان کے
ول قے الام رمعم نکڑیں تھےگمر چوکمہ قیلہ یا خانلدان کے بہت سے لوگ
ملمان ہو گے تھے اس لئ و بھی مجبورآمسلرانوں کےسا تج شائل ہو گے جے
مات ہی سا تح یندا ری موقعہ برست لو کبھی اعت منکگیس؟ نے سے جو
ای کط رف تو مسلمافوں کے رای ب نکر اپنے دیادئی فائرے حاص لکن کی
رر لے تھے اوردوم ری طر فکافروں ھی سازباز رک تھے ۔ ان لوگوں
جچّ' - ح اچ حرش7[
کی تیر یٹ یک ہاگ اسلام اورکف رک یش میس اسلام ال بآ جاتے وا نکو
الام کے دائ ے یی امک نل جا او ار جحی تکف رکی ہو جاۓ تن بگھی ان
کے مفا تفو ظا ر ہیں _
اسلائی ا یک کے لئ بیجن کے سا پکاٹی مشکلا تک باعت ھت اور
ان ےکنا آسما نکام تتھا مد ی ہکا پادکی زن گی مس ان لوگوں کےفتو ںکا
ماب کپ ےکی ےک ایال لکا وک رذ اپے مناسب مقامات پرآمند ہآ جار ےا اس
موق پا جا کش یوشردرتاش کرای مالین ذوراسلامک راو ہس
سپھوکرق مر دانے ہے مین ال ایک دوسرے کے ما بے یس پان
لیے جا لی کیونکہراب الا یت 7 ری ککوشن عالات سے دوچارہوناتھاان مٹش
ال با تکا بڑگی سخ ضرور ت شیک جولوگ اھ ی تک پرانےتحبات اور
ٹوراسلائی خالات کے غلام تھ یاجن کے ایمان سی پل س ےکور تی
دولو ک جج ٹکرا لک ہو جایں_
قبلے کی تبدیلی:۔
ا ب کک اسلا مکا قبلہ ہبیت ال مق تھا۔مسلمان اس یکی طرف مت کر کےنماز
پڑ جے تھ۔ یت ال مقر لتق یبودیوں سے بہت حی قر یب تھا یہودیبھی
ای طرف مت کرک نماز پڑت تھے ۔شعبان یکا داتعہد ےک مھنع نمازکی
عاات بل تی کے بد ل کا عم نال ہوا اور اب بیت انیل کے بد لے
کی ےکسلرانو ںکاقبلہقراردگیا۔ چنا ہآ حضرت صلی اطلعلیہ یلم نے عین
ما زی عالت ابا راغ بیت مقر لک طرف ے بد لک کی ےکی طرف
کرلیا۔ می وا یف رکیک اسلائ یکی تار یس بڑ ا۱ہم تھا ا سکی ابی تکا ذکرخود
اد تھی نے ان الفاظہ می فر مایا ےک جم نے جک ب کہا راقیلہ بنادیا ال
کی وج یہ ےکہ رمعلوم ہوجان ےکرکون مق رکا پیرو ے او رکون الٹا جچییے پھر
جانے والا ہے (البقرہ) ساتھ بی ساتجھ بیہاس اھ رکااعلا نگ تھاکہاب
کک دنا کی اخلاقی اور یماٹی رہنمائیکاجکام یہو دکوسو نایا تھا اب اتی اس
سے ایا جار پا ےکی ون ہُفخھوں نے ال کات ادا تہکیا اور ال نم تک قد رنہ
پپچالی۔ ان کے بد نے اب بیخدمت مت مس کوسو ھی جارجی ہے اوروتی
ہرکھاہواد
اس داق کاٹ یہ پڑ اک بہت سے لوگ ںا جن کے دولوں بی ایمان نے بل
نی پاک تی پردہفاش ہوکیا اور آخھوں نے رسول اڈ٥لی الیل علیہ یلم کے اس
کام رخف تککت جن یکا اور می دا ہوگیا کہا کا عقام اسلائی جماعت مل
کیاے؟ ال طر بت سے دود لے سلمان اسلائی جمااعت سے الک ہو گے
اور گی عدنک جما عت ا لے نا کارواوکوں سے پاک ہوگئیا-
++ہ
--ے سح 63ے سسصے
وال باب
تج یک امسلائ کی مرافعصت
کے میس جب عقبہ کے مقام پہ مد بین کے پجولوکوں نے آتضرت صلی الد
علی لم کے اھ پر یع تکای او رتحضرتسلی علیہ وس مکی غرصت می ہے
یک شکیاھ یک آپ اورآپ کے رای مد بیدتشریف لے تمیں ءاسی وقت بے
خط روک لکرسان ےآ گیا تھاکراس ہیعت اوراس پگ شک حیشیت دراصل مد ین
والو سک طرف سےسارےعر بکوای کش کی ہے چنا مع تکرنے والوں
یس سے ایک بذ درک ع با جن عبادہ کے بہالنفاظا جو نھوں نے اہپنے ساھیوںکو
مخقاط بک کے سیے تے ا بتک تا رز شتفوظط ہیں_' جات +ا لیٹس سے
مس تپ بیجع تکررے و؟ مہ تم اس کے پاتھ پر می کر کے دنا جھرے
ڑائی مول نے رے ہولپنرا اگ رتہاراخیال می کہ جب تچھارے مال تجای کے
اورنکھارے اشراف بلاکت کے خطرے میں پٹ جاتمیں تو تم اسے شمنوں کے
جوا مل ےگردو گے و تر ےکآ بی اس ےک وڑ دو کیپنکہ دا تم بدا اور
ٰٰ یہاں ریشب نہ+ونا جا ےک اسلام یس بن کچل عدافعت جیا کے لئے ہوئی ہے بلکہ جب دن
کا نتقاضہ ہوتا ہو نکوخود و کربھی پا لکاز ور نا جا ہے۔ ا ا مکی جنگ ںکا موقیت بک
اسلائ یکو بعد کے موتوں پر یآ یاش نکا ذک رآ کےا نےگا۔
آ خرس تک رسوائی ہے اوراگرنھاراارادوری جےکہ جو بلادا تم این کور ےر ہے
ہوا ںکذاپنے اموا لک تبای اور اپنے اشرا فک بلاکت کے پاوجودتا ہو کے
بے ئنک ا سک پاتحدققام لوک خدا یحم ردنا اورآخر تک بھلاکی ہے .اس
موق پرقام وفدر نے بالانفا قکہاتھاک یٹم اسے نےکراپنے اموا لکومای اور
اپے اشرا فک بلاکت کے خطرے میں ڈالے کے لے تار ہیں ۔اب وووقت
آگیات اک جب مھ ینددالوں کےا دلو کی جار ہو اتی
قریش کے لئے خطرہ:-
مرینہ میں مسلمانوں او رحضررت صلی اللر علیہ یلم کےبتفل ہو چان کا
مطلب بہت اک راب اسلامکویک وکا نمس رآ گیا تھا اور اب وو مسل مان ج نکی
صدافتءعب راو استتقاص ت کا بر بار امتقان ہو چکا تھا ایک مم ماع تک
صورت افقیارکر گے تھے۔ق لی کے لئ ایک شدیدخطرہ تھا اب انھیں
صاف دکھائی دےر پا تھاکراسلائی جماع تک اط رح مضظم ہو جانا دراصل ان
کے جاہیانظام کے لے موتکا پیام ہے۔اس کے علادہ ایک مخت خطرہ اورتھا
یجس نے انیس انچائی ے چا نکررکھ تھا۔ کے والو ںکی معاش کاڈ اوارویرار
کین اور شا مکی ارت پر تھا۔ شا مکوحجارت کا جوراستہ ہگراع رک ےکنارے
کنارے جاتا تھا مد بین مین اس راہ پر تھا۔ دی یں مسلمانوں کے طاقت
کپڑنے کا مطلب ب تھا کہ ملک شام سے تر لی يکی جار ت کا داروبدار یا ت
مسلرانوں کے سا تھایگھےتعلقا ت قائم ر کے پرتھا اراس رات سے تحار تکا
مال صرف ا صورت میں چا سنا تھ اہ بد نین میں ملمانو کی طاق تکوآخری
سے 32 29-ےس تس
لور پیل ڈالا جاے۔ می ون یکثرت سے پ یلق یٹ نے پور یکیشن کی
یعرز مد نے مرا سلمان 1کٹن ہہکیں کان جب ا نکی تر ییرناکام
ہوی و اب أخھوں نے ریت کیالک جن طرح بھی ہو کےاس أ جھرتے ہے
تا رےکوپییشہ کے لئے دباہی ڈالناجابے۔ تّ
قریش کی سازش:- ۱
بدا جن الیم سی ےکا ایگ سردارتھاججرت سے پلی نے دانے أے
نا بادشاہ یلان گا تار کر گے تھے کن مد نے کے لوگوں نے جب اسلام
قو لکن شرد کاو کے ےلان اور تحضر لی ال علے لم مر
تخریف لےآۓ تو اہ ٹھپ نی اورعبدالش ین اٹ کا امیروں رپا یھر
27 ۔اس موق پرککہوالوں نے سے ایک خ اک اک ' نتم لوگوکی نے ہار
دی یکواپنےیہاں پناددیی ہے ہم خدا کی مکھاتے ہی ںکہ بات خوائ ےلڑد
اور اسے اپے یہاں ے :کال دو سذ مسب تم پہبچڑھائ یک بس گ ھا رے
مکی گ اوھ افو ںکولنیان ہا ۴ میس گے ناراد
بن ال یٹوٹ ہوئی اُمیروں کے لئ پھوسہارا بنالین' آتفضرتی لی فلز
امو می ہس یسوم ہا مل
یں اور بھائیوں سے و گے“ چونکلہ افص راکشرمسلمان ہو گے تے اس لے
عبدالل یو راپ برے ارادول ے پاڑر/ا۔
ایا زمانے میس مذسیے کے ریش سعدین مواذعمرہ کے ل ےکک گئے۔حرم
کے درواڑز ے پرالٹنل سے طاقجات ہموگئی۔ الیل نے ان س ےکا کیم ۲
ہار رین کے مرنروں (مسلمانوں )کو پاہ دو اور بھ یں اظمینان جے
ساتھھ کے می ںاطوا فکمرنے دیں؟ اگ رم امیہ بن لف کے مہمائن نہ ہت تو
یہاں ہے نین جاسکت تھے یا نکزسغ نے جواب می کان خدایئم
گرم نے جھے اس چزسے روکا تو می س تھی اس چز سے روک دوںگا جھ
تھارے لئ اس سے (یادہەشد ید ہے ششک مھ ینہ پر سےنجھا را راستہ'' یگویا
اعلان تااں با تکاک ہاگ رق رٹیل ےکوی شرار تک انیس اپنے ا تارلی
زاس ؛کوج مد نے کے پااس سےگز رتا ہے اپنے لے بد ھن جا ہیے۔
قریش پر دباؤ:-
ان وق قررنیش مسلمانوں اوراسلائیئ ری ککومٹاڈا ل ےکی جومنصوبے بنا
ری خےان ہے یی ںا را نکو نی دکھانے او ریو رکرن ےکیلئے مسلرانوں کے
سا نان سے ؟ہترکوئی صورت نیش یکردہال رات پراپنافضک بک اورا نکیلئے ۱
شما مکی تارت بنکردیں۔ کی ایک دبا ایا تھاج٘س سے کے کے لوک مھبور
ہو سے تے۔ چناج اکہ پیل کر ہو کا ےآ حضرتسلی الیل علی یلم نے اس
راو کتقریب مین وانے بیبودی قریلوں ےکنا عم کے مار ےکر کے انان
کرلیا اب رقافکو ںکو کی دی کیل بح یھی مسلرانوں کے چو مچھو نے
دتے کیینا شرو خغکردبپے۔ان دستولں کےذرلیراگر چ دا بصھ یکوئی اکشت وخولن
ہوااور ٹن یکوئی قافلیلو گیا لن ا نکوگ ک رقف لکوصاف صا فآ گاءکردیاگیا
دہ اب ج گی فکرم اٹھا یں سو خکرالٹھا می کہ ہوا ار نکندھھر ےگ
وہمسلرانو ںکونککر میں گا انی بھی اپتیحھارت ے پاتحدحو نا پڑےگا۔
حضرمی کاقتل:-
اس درمیان آحضرت صلی الشدعلیہ ولم عالات سے برا باخم رت ےکی
کیشش فرماتے رج تھے اک یمعلوم ہوتار ےک یقر لی کم اعم کےمنصو ہے
نار ہے ہیں۔ رجب سیکا داققہ ےک ہآححضرت صلی ال علید لم نے
عبدابن ش کو ار ہآ دمیول کے سا تی نل کی طرف کیا مقام کے اور
طائئف کے درمیان داع تھا ۔آپ نے ححفرتعبد ال ہکایک خط د ےکرفرایا
خی اکہردوون بعدا ےکھولنا۔ححخر تعبدایر نے تصب ارادخ اکھولاث کیا 2
کے متقا مللہ میس قا مکرواورق میٹ کے عالا تکا پ لگا اور اطلا غ رو“
انقاتی ےکیٹ یش کے بآ دی شام سے جار تکا مال لیے تے تھے ۔حفرت
عبدائہ نے ان پتمکی اوران می سے ایکمٹ عم بین الحض می ماراگیاء دو
مگرفر ہوۓے اور ما ل نم گی اق ھآیا۔تنحخرت عپرالند ےُ دآگرے
واعہ با ف مایا او ریت کا ما لآحضرتم٥لی الل علیہ ال مکی خدمت یں نل
کیا ق آتحضرت صلی الل علیہ دسلم نے خہایت ناخونی کا اظہارفرماتے بہوئۓے
ارشادف راکش نےت مکو ہا جاز نیش د یی اوریمت کا مال قول
کمرنے سے انکارفرمادیا-
اں این کی ہونے وال اوراوو نگ رتار ہونے والے بڑۓے مزز
خمانلدان کے لوگ تے اوراس بنا یراس وا نے تر نون رشن ل را
اورخو نکا بدلہ لک کی ایک بذیا دقائم ہوگئی۔
مو 7
بیرعالات جےکمشان مس لفرددری ما مار ۳ ) یش ف رن کا ایک
بہت بڑا قافل ینس کے ساتھنر بآ اس ہنراراشرٹی کا مال تھا۔شام سے والیں
آتے ہو اس علاتے کے ری بآیا جومسلمانو کی زد میس تھا ا گے کے
ساتیزگیں چا لیس مافظوں سے زبادہ لوگ شہ اورا پا تکا ڈرتھا ہیں
مدسیے کےخریب دالے علاتے بی کے کے بحدرمسلمان اس تل تکردبیی۔
ناف کا سرداراپوسغیان تھا اس نے اس خر سو ںکرکے ایی کو کے دوڑا
7 کددەداں سے مددنےکرآے۔ چنا نچ نٹ نے کے می7 ایک وربا
دیاکہقا نے کالما ن لوٹ ےر ہے ہیں دوڈو مد دکیلنے دوڑو' وا نے میں جو
ای تھاااس ے بہت سےلوگوں تلق تر بر برای ک تو می مستلہ نگیا۔ چناغچاں
پار پٹرش کےتھام بڑے پڑےسردارلڑائی ے للئ گق لکھڑے ہو ۓے اور
قرب ایک ہزرار جھ لے جوانو لک ایک فوع تار ہوکئی۔ بیفون انائی جن اور
شمان وشوکت کے ساتجھھ کے سے اس ازادہ کے ساتم رواش ہوگ کراب ملرائوں
کا اتیک ڈالناجا ےت اک بروزروزیکشٹپیسٹ یامٹ جائے اک طرف :ال
کے پان کی خاش دوس ری طرف پرالی وشن او تحص بکاجوش ہرس میک یلیگ
انائی داواگی اورشان کے ساتحدھ بین بر ڑھائ یکیے روانہ ہوۓ_
قریش کی چڑھائی:-
اھ یسل الل علیہ وی مکیھی ان عالما تک اطلاعا تک رج یی ۔آپ
سرت چچ جج رت وہ جش-.-..-
ن یں فر مایا کراب دہ وق تآ گیا ےک ہگ راس وقت ت می کو اپ ارادوں
یس کا میا لی ہوگئی اور فھوں نے مسلمافو ںکی اس نئی بجسا لح تکوچادکھادیا ےھر
اسلائ یت بک کے یی کا سوال اخچائی مکل ہو جات ۓگا او وسکتا ےک اسلام
کیآواز یہ کے لے دب جائے مھ یرم سآ ۓ ہو ے ابھی دوسا لبھی نہ
ہو تھے۔گہاج رین اپناسب پٹ کے میں کیموڑ بچھا رک رآ ۓے تے اور خی اھ
تے۔ انصارلڑائی سے معا لے می ناحجر بکار تہ بیہودوں کےبھی بہت سے
تیلرخفالفت برآمادہ تے۔خودی ہن می منافقتوں اورمشرکو ںکی مو جودکی ایک
بہت بڑامتلہتھا۔ ا ی-ے عالات میں اس با ت کا اند می تھاک لگ رق ریش مد ینہ پہ
آنۓ نو ہوکنا ےکریمسلرانو ںکی شی بھرجماع تک ات ہوجائۓ اور اگ رود
عملہ نگگ کرس پکلہ اپنے زور سے تا نے ےکو یکر کال نے جامیں و بھی
مسلمانو ںکی اڑی ہوا اھ جا ۓگ کہ رآئندہ کس اکا کے کیو ںکو
ملمانوں کے وہا لیے می سکوئی اندبیشہ باقی شددہ جا ۓگا ادر دہ تربیٹی کے
اشماروں پرمسلمافو ںکو پر با نکرناش رو ع]کردبسی گے۔ اوھ رھ ین کے بہودگاء
شقن اورمش رکا بھی مر راٹھا یں کے اورمسلرانو کا ینا دوج رکرد میں گے۔
سی لے آتحضرتہصلی الل علیہ دیلم نے فیص لف ما اراس وقت جو طاق تی
مر ہے ان تن ےےکرمییران .اور فیصلہہجائۓے کب کات سے
ےاو رک یےئیں۔ ۱
مسلمانوں کی تیاری:۔
فص لرکر لیے کے بعد خی صلی ادعلیہ یلم نے مہا بین اوراا روم کیا
حر ن زرڈ۴غ غ ش7
اور پورے عالات الن کے سا سے صاف صاف رگود ےک ایک طرف مد ے
کے شال می تارقی قافلہ ہے اوردوسری طرف ججنوب می ق لی لکالفگ چل آر ہا
ہے۔ال رکا وعدہ ہےکہان دوفوں ٹل ےکوئی ای ک کیل جا ۓےگا۔ بات
میں کے مقاٹلے پر چلنا جات ہو۔جواب مس بہت سےسھاررنے بی خوابل
ا ہرکیکہقا نے پر لہکیا جا ےن نییسلی ال علیہ وسلم سے بی نظ رق جاور
تی تا اس لے آپ نے پر اپنا سال د ہرایا۔ ال نر مہاج بین ٹیش سے ایک
سحالی مقدادی ن نے اٹھکرف مایا نیارسول الا جدع رآ پکوآ پکاربگم
دےدہاہے ال ططرف نب مآپ کے سا ہیں ۔ ہم مت اسر ات لکی طرح
بیسکیندا لی می ںکہ جا تم اوھ راخدادووللڑ یں :ہم یہاں ٹیش ہیں ا“
گگ راس مسکلے می ںآ خری را ا مکرنے سے پل اص رکی راے معلو مکرنا
ضردری تھا اس لئ حضورنے ال لوگو ںکو براہ راست مخاط بک کے اپے
صوا لکودہرایا۔ ا پرحخرت سعدبن معاڈ اھ اورفر بایا۔' نیا رسول الا ہم
آپ پرایمالن لائے مو ںآ پک تع کے ہیں ۔اس با تک یگوا ی درے
گے نی ںکہآپ جو ولا ۓ یں دقن ہے ہآ پک اطاع تکا پت بد پاندھ
2 ڈإلء یں اے رول للا آپ ے جھ گے ارادہ فرمایا سے ےکر
گذر ے حم ہے اس ذا تک جس ن ےآ پکو کے سات کیا ےک اگر
آ پیل لے رحمندد پر جا یں اوراس مم اتر جا یں تذ ہمآپ کے ساتھ
کووزیں گے اور ہم میں 2ئ2 یچیے نر ےگا ۔۴م ي:] تدم
لے مہ جات با اسرائل نے رت وی علیہالسلام ےیگی۔
وھ سے
یں گے۔مقاٹے مم چگی جاں شا ری دکھاننیں کے اور یرہ ںک اللہ پک
ھم سےوہ جو وکھوارے جے دک وک رآ پکی ھی زی ہو جا ” ڑا لی الد
کی نرک ےجرد تے پآ ایی بی
ا نتق ربیوں کے بعد فیصلہ ہوگیاکہقانےے کے با کشر ہی کے متا لے
کے لئ چنا ےمان ىہ فیص ۔کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ مسلمانو ںکی ما عت
قرلیش کے مقا ٹل میں بہ تکنرورجیلائی کے قائل لوگو کی تحعدادجین سے
دی زیادہنگی جن مل سے دوین کے پا سکھوڑے تھے اور اون بھی سز
سے یادہ نہ تے۔لڑائی کا ساما نبھی نا کاٹی تھا صرف ساٹ ھآ میں کے پا
زرہیںشیں ابی لے مسلمانوں م تھویڑے سے لوکو ںکچھو کر لوک رلوں
ڈدر ہے تے اورأنجیں ایا معلوم ہورپا تھاگویا جا نے بوچھتے موت کے من
جار ہے ہیں سورۂ انفا لکی بیآیاٹ ای نکش لکل ہإں-
ما اَعرَجَکَ رَبُکَ بی ' بک بِالْحَق ” وَاَ فَرِیْقَامَنْ
المُؤبیْنَ لکرمُؤن٠ یُجَاِلوَُک فِی الْحَقبَعدمَا تََْنَ انم
فو إِلی المَوْتِ وَهمْيْظَرُوْيَ+* وَه يَمَِدکُم الله ٍغدی
الطٌء قَعیْن لها لم وتوقُوْنَ اي عَيْرَذَاتِ الشَرْكَةنَکر وُلكُمْ
وَْرِيالل ا بج الْحق بگلمیہ وََفْطمدَابرَالْکفِرِیَْ* لی
الْحَق وَبیطل الَاطِل وَلوکرۃ المُجْرِمُوْنَ ٠٥
ترجدا: یع رع( اے بی !تارب ےی کے اتک ہے کال
لاباادورمومنوں یش سےایکگردوکو یخقت ناگوارتھا۔دہاہ لتق کے موا لے میں
تھھ سے نز ر سے تھے ا لاکنہ و صاف صاف نا ہرہو چک تھاا نک حال یتھاکہ
گوبادہنگھموں د بے مو تکی رف ہاکے جار ہے ہیں-
ارکروو موق ء جب الڈقم سے وع وکرر ہا تھاکدونو ںگمروہوں یل ے
ایک ھیںل جا ۓےگائم جا جج ےک کزورکرو ہیں ےگ راو رکا اداد یتھا
کراپنے ارشادات ےت نک نکر دکھاۓ اورک فخرو کی جڑ کاٹ دے تک
تق ہوکرد اود ال (الھکئ ہوکر نا نے نی ہا ہگرنمو کنیا پی نا اگوار
کیوں مدہو۔ (سوردانقال رو غ(١)پار٭۹)
پاوجوداں بپےسروسامالی ے٢۲ ا دعفمان رما ےگ ٹیک رم مکی ایل علیہ یلم
کےوروسے پتت یپ۰ مسلمافو ںکو ات نےکر ید بین ےلگ لکوٹرے ہو ئے
او رأتھوں نے سی جنو بمخر بک رای چدھرےقرلی شکالشگ رآر تھا
ا ار فا نکو بد ر کےقر یب یی بد رای گا ول کا نام ہے جوم پیدمنورہ سے
وب مغ بکی رق ربا + ربیل کے فاسلے پر اٹ ہے۔ یہاں کے پہ
پٹ چلا اٹ شک شکروادگی کے ووسر۔ نز ےک کآ با ےب ذاآ رت گی
لی یلم کےعھم کے بموجب بیہاں بی پڑ ا کڈال دیاگیا-
اع رق لی کا عال نضنے۔ بلک بڑے سازوسامان سے لے تھے ایک
نزار سے زیادوسپاہی تھے اودلقر یبا س(٠۱۰سردارشریک تھے سپا ہیوں کے لئے
رسدکا ہت اسچھااتظا تھا ۔ تہ بن ر بت ہٹو کا سپ سالا رتھا-
بر کےقربک چکرقرلیش سےلش یی یمغلوم موک کہا نکا تال تا
بے لے
مصلمائو ںکی زدسے باہرہے۔اس پرقبیلہز ہرہ اورعری کے مرداروں ن کہا
کی اب لڑ :ا ضرورییں' ین الودشەل نہمانا۔ز رہ اور دکی کے لوگ انی بنا یہ
ایس چے گے اوربائی فو جع آکے بڑگی-
لڑائی کا میدان :-
لڑائی کے میدان میں جس صے پرقرلیش قابنل تھ دہ موشحع کےلبابط سے
ہت رما زین یی لکن جس برمسلمانوں نے پڑا وڈ الا تھا وہ رشی شی اور
سپازیوں کے پاوں دجختے تھ ۔دا تکوسب سپا ہیوں ن ےآ را مکیا ین نکمم
می ال علیہ مم قام رات دعا مصصروف ر ہے اور ےا ررمضیا نکوفماز ٹر کے
بعدآپ نے جہاد پر وخنا فر مایا اور اصول جک کے لحاط سے فوجو ںکی میں
وش کیننر دلو نے ای مال ش ہے تھے اور بجی بآ ماک اج کہ
ملمافو لکو پیل یر مضان مم اپنے ےج نگ ون کے مقافے ٹس نگ
کے لے تار ہوناپڑا۔امی را تکودو پا تی ایی ہوٗیں جواللد تھا یٰ ےنصبی
کر کا م تی ایی یلما نکونکون کے س اتید کی اودد ہم از ودم
ہوکراھے۔ دوسرے ای را کو بازش ہول۔ بارش جوجانے سے رش گی ز لن
سخت وئی اورسلمانوں کے لے ممیران ابچھا گیا اس کے برخلاف ای ہاش
سے اس صے می س پچ ہوگئی جس میں ق لی اشک ھا ان کے پا نوں نے گے۔
دوسرے بی کہملمافوں کے لے جالابوں میں بای بھی جع ہوگیا میں سے
آُھوں نے نکیا اور وضسووغیر ہکا آارام ہوگیا۔ د یکا راس اوہ ا ہٹ دور
وی اورسل مان و رے انان کے سساتحدمتقا لے کے لے ارہ سئے۔
جنگ کی ابتداء:۔-
جن وقت دو نفک ز ایگ دوہ رے کے متقاٹل ہو کے ق ای ک جیب منظرھا
ایک رف اللہ بر ایمان رک وانے او دای کےسوائسی دوس رس ےکی :گی اود
اطا معت قبول کر نے وا ل۳س مسلمان تے جن کے ا اڑا یکا ماما نگگی
26 س ےکی تھا اوردوسری طرف سازوسامان لان انت ار سے زا
کاذروں اشک رھ جواس نیللے کے ساج ھآۓ ےکن حیدک ا لآوازکو یش
کے لئے دہ اکر ہی دم لیس گے اس موقہ یرب یکر زسلی ال علیہ یلم نے خداکے
1 کے دعا کے لئ ات بچھیلا ے اوراضچائی ھا زی اورزارگی کے ساتحدعاف ای
کن اے الل دا پت رفیش ہیں اپنے ساما نف رود کے سا جآ ۓ ہیں ت اک ہتیرے
رسو لکوگھوٹا خا بر تکر میں اے الیداٹنس اب تتیرکی دہ مددآ جا مم سکا فو نے
بجھ سے وعدوفر مایا ے۔ اے اللر! اک رج یش یھ جماعت بلاک ہوکئی ف پھر
ردئے نز شن تی عباد تک ہیں شہوگی۔'“
انس نگ میں سب ے زیاد ٥جخت امتقان ۶ہاج ری نکا تھا۔ ان کے اپنے
بھائیء یے اورر مت دارنقا بے ٹس تھے کس یکابا پک یکابا سیکا چا یکا
اموں اورک یکا بھائی اس یکی موا رکی زدیٹش تھا اورا نکواپچنے پنتھوں سے اپے
جک سےکگڑو ںکوکا غا یٹ رہ تھا ال ںحخت امتقان یس ددی لو کتہر سے تھے
جخھوں نے واقتی ہے ول سے اللہ سے بیجہ کیا تھاک جن رشتو ںکواس نے
جوڑاے وویس ان ہیکوجوڑمیں گے اوج نیکواس ن کا ٹ اعم دیا ہے الکو
کا پچھنگیں کے چاسے وو رش ا نک کے ھی عمزمکیوں نہ ہولنان سات بی
سییٹ س رں ست ڈ7
انصارکا اما ن بھی بج کم خت نہتھا۔ ا ب کک و عرب کےکفار اود کے کے
مشرکی نکی نظ می ان کا“ جرم اس اتتاجی اک ہتھوں نے ان کے شمنوں
نی مسلمانو ںکو ہناد دی تھی ئیان اب کو لکراسلا مکی اعاخت می سکفارے
کگکرن ےکیلئ نل1 ۓ تے ا کا مطلب تھا کہأُخھوں نے انی تی
سے کےخلاف سمارےعر بکورشن ہنا لیا تھا۔ عالانکہ مد ہی ےک آبادی ایگ -
ڑرارۓ ڑیادہنال ای۔ بدجمت دئی لو کک ر سیت جھے من کےولوں ایڈراور
اس کے رسو لک عبت اورآخرت کے پت یمان نے پپورا راگ مک رلیاہوورشہ ۔
اس طرع اپ مال وجادادادر اپ بیدکی چو ںکوکون سان ےعر بک فی
کے خطرے میں ڈا لسکیاتھا۔
قریش کی شکست:-
ایما نک یی وہ مقام ہے جس کے عاصل ہو جانے کے بحدالش ری مددآنی
ے اورضرو رن ہۓے چنا نچ بدر کےمیران یی نبھی ا تھا نے ا گور
۳ مسلمانو ںکی ودردفر مائی اوران کے مقاثے بل ایک ہار سے راد کے
شک رکواڑسی قکست ہہوئ یک ہکو یا ق ری لکی سا ریقوت ىی ٹو ٹگئی۔ اس جنگ
ہیں فی کےلقر با ٭ ۸آ دی مارے گے اوراتے بی قید ہو ئے۔الن بارے
جانے والوں یل ان کے بڑے بڑے سردارنقر یا س بش ہو گے الن ٹل
شیب عتب الویت,ل ءزمحہ عاصص ٠ امبیہ وغیمرہ خمائ طور سے تقائل ذکم ہیں ان
سردارو ںکی موت نے ری شک یکمرنوڑ دی مسلمانوں میں سے چم ہاج اور
آ ھانصار نے شہادت پالی۔
بک میس جو لوک قید ہوک رآ ۓ دودودو ار چا رک کے مھاہ می اتی مکر دی
گے اور ای کرد یک کان کے سا تا چا سلو ککیاجائے ۔ چنا خ ساب نے
ا نکو انی ےآرام سے درکھا کہ کہت نے دانوں پش کی بفا نان نکر
تلحلیف نہ ہونے دی۔ اس اجیجھے سلوک نے ان لوگوں کے دلو ںکواسلاام کے
لے نر مکردیااو دہج یک ری کک سب سے بڑئیکامیالاجی ۔ بعدکدان قی رلوں شش
سے بہت سے لوگ فدری( بد لے می یھ الیک در ےگرر ہا ہئے۔ جوخریب
سا سور اریت یس
انا پڑھناسکھادیی-
جنگ بدر کے نتائج اور اثرات: ×5
دی لڑائی اپے تا او ارات کے اکٹ بہت اہ متھی۔ بیلڑال
ددائصل ا عزاب ای 7 کی یڈھی جواسلا مکی وت قبول شک رن ےک مزا
کفارکہ کے مل مقدرہو کات ال ائی نے پیا ہرکرداکہاسلام اورکفر
میں درائصل جیینے کال سے ے اور کتدہ عالان کا رکا ہوا ۔ اک اغتار
سے اسلائی تا رت کا ہام کیہ تیم الغان مرک یکا جات ہے۔قرآن
73/0 - 0
تا متھروں سے الک خقلف ہے جذددنیوی بادشاو اد جنز لی لڑائی کے یچ
کے بحدعا مور ہہ ےکی اھر تے ہیں۔
ات روکی تو یات ایی ہی ں کان پر ذرآشحیل سے ڈالتاضروربی ےا
سےا سا 2 یک کے مزا اوسلمافو کی ت یت کے پردکرام پردشنی لی ے۔
جنگ بدر پر تبصرہ اور مومنین کی تربیت:-
(۱) لی اکہ پے ذکہ ہو چکا ہے الام سے پپیلے جک عربو ںکا ہت دل
پنرخفلہتھا۔ چک می جھ مال اتآ تھا (ما ل نیت )اس ےانغجیں ہے
عددنپ یھی اور بسااوقات ای ما لک شش ا نکی لڑائ یکا سبب بین جات یی
ان اسلا کی نظ ریس ین ککا مققد مال ودوات سے برت بل رھ اوراس مقصر
کو پرےطور پر ولوں میں تھا ینا بہت ضروری تھا۔ بد رکیلڑائی دہ ہی لڑائی
ہے جس میں مسلمانو ںکوامخجان د ینا پڑ اک ہآیا ان کے ولوں بیس اسلائی جنگ
کے اصول اوراخلاقی پورےطور پہ بیٹھ گے ہیں یا ایی تک نی را سلائاڑائیں
کےنصورات ولوں مل سی 7 0
رکیل ائی میں جن لوکوں کے ات رکغا رکاج ما لآیادہاپنے پرانے ط ری
کے مطان انی لی تہ می اور جولو ککذا رکا اکر نے یا ححضرت لی
ا علیہ ول مکی فا تکر نے یل مصروف ر ہے ا نکو نہ ملا۔ ال رع آنیل
ٹس پاتھ بد رک یک پیدا ہو ےکی بجی موق تھاکہرا بت بک الا ئی کے داعیوں
کی مناسب ت بی تک جاے۔ چنا ہنی سب سے پیل صاف صاف یبا
د ہاگ یاکہما ل غیت دداصصل جن کک بدلنجیں ہے أ ےت ”'انفالی “بجھولڑنی آ
مال کک رف نے ایک عطیراورانعامء جو اصل أجرت کے علادہدیاجا تا ہے
ال دکی راہ یس جن کفکر نے کا اصل بدل ہن دہ ہے جو اللہ تھالی آخرت ٹں عطا
فرما ۓگ بیہاں جو پیل جانا ہے وہس یکا نیس ہے بکمہرا ہکا ایک عرید
جھشش ہہس لئ اس کشسش کے بارے می ا حمقا ی کاکوئی سوال ىی پیدا
نی ہوتا۔ ررسب پت الیشرادداس کے رو لکا ہے۔ وہ جن طط رح چا ےا سے
تی مکرے۔ چنا مگ ےچ لکرا سکی تی کا اصو لبھی بنادیا۔ اس رح جنگ
کے سللے می ایک بہت بڑکی اخلا تی اصلا کرد یی مسلما نکو یشہ کے لئ
بنادباگیاکرد ہدیا کے فائندے ہو رنے کے لپ یکوازییسں اھ ہے بللدیا
کے اغلابی بگا کوفھی ککر نے کے لے اوراڈد کے بندو کوخی دی خلائی سے
آزادکرانے کے لے ووبورااس وقت طاق تکااستعا لکرتا ہے جب وو دبا
ہےکخالف طاضستیں ا لک یآوازکودیا دہیے کے لئ طاقت استعا لکر نے پہ
اتکی ہیں اورأنھوں نے دکو من کے ذ رہ اصلا کو کن بنا دیا ہے ال
لئے مسلما نکی نظ رپمیشہ اس اصلا پ نی ای جس کے لے ال نے پچڑا
اٹھایا ہے نہکران مادئی ف اد پر جوااس مقصمد کے _ل جکوشن شک رنے میں واصل ہو
ناجاتے ہیں۔
۴۔اسلائ فظھام اطاعت ام رکی امیت ایی جیککھن چا ہے جی ےکم
یں رو ای 020 چون دبا اطاعت پر دلو ںکوآمادہکرنے 8
لے ار اتوج د گنی چنا یا جنگ کے موق ری ما لفنمت کے سللے میں
سب سے پیل اطاعتکامطالہکیاگااورکہردیگاکہ رسب بچھھدااور
اس کے سو لکا ہے۔ اس بارے میس دہ ج یھ فیصل رف بانمیں اس پر ولو ںکو
ر :×اچاے۔
۳ ھا مت ریو ںکا مارح بی ہوتا ےکسدہ اپنے چب روئوں اورکارکنولں ان
بڑھانے کے لئ ان کے کارناممو ںکا ذک کر تے ہیں اور اس طرح شہرت اور
نا مو رگ عاصل لککر نے کے جج بک پھارکرلوکو ںکوایاراورقربانیوں کے لے تار
"رق ہیں چنانہ بڑےمعروں با بڑےکارناموں کے پحر وہ ا چال
بازول اورکارکنو ںکوخطابات اور تھے دتے ہیں سم
مرح رح سے ا نکواومچااٹھان ےکا الما انا مکرتے ہی ںکہ ایک رف وہ
انی رکز یں کا بدلہپاکرممعئین ہوکیس اورآ تمدہ کے لے اورزیادەجابازی
اتل اوردہ سر طرف دورےلوکویں کے دلوں یں ان کی راونا
متام حاصم لکن ےکی آآرذد پیدرا ہو گے۔ الا یت یک٤ “اع اں کے پائل
خلاف ہے۔ باوجوداس کے کمسلمانوں کے ۳۱۳ ساہیوں نے ا ایگ بٹرارے
زا لک رکامض ید اور با جداپی یسر سال کےاپنے ےناد
متقائل قو ت کا نات لکردیا تھا لین ان سے ب کہاگ یا کردہاس واق اتی
پاددک یا پٹ یکارگزاری نہ بھیں ین اکنل تھا صرف ا کی رمت اور
ض یت رتھاکأکھوں نے اپنے دش نکو مار بہگایا نی بھی اپنے سال
وق تروس نکر چاےا نکا ال طاقت یی ےک دوالل پھر ورگ
اور پمیشہ ا سےنخ١ل کے سہارے میدران بی اترسسں عین لڑائی کے وتےی
آحضرت لی ال علیہ لم نے شی بجر ریت | تھی لے/ شاب الْوْجُوْهُ
(چرےجھڑ جا“ ٹیا فرماتے ہو ئے اس ےکفارکی طرف یھنا تھا اوراس کے بعر
لان پکبارگکافروں رٹ پا ےاوکافروں کے راک سے یلک
ایباواتعہ ہ ےکہ جے دوسرے لوگ اپنیمکرامت پت اکر جو وھ یت رکر تے رکھوڑا
تھا اور ووٹوزاییا ترکرتے تو ان کے چیب ومعلو یں اںی فیاد 7
ای بناتے من خودال تال یٰ نے ق رن پاک میں مصلمانو ںکو ہہت اک رک تم
نے انی یو سکیا بک ادشر نے ا نک کیا او رض رت لی الشمعلیہ
وللم سے پیفرما اک فق نےکیس یکا لکہاللد نے پیا ادر س ےکی
سب پجوااس لے تھا کہا ول دمومنو ںکوایک مت ری نز مکش سےکامیالی کے
سات گن اردۓ“۔ (سورو:انقا لآیتغا)
مسلرانو ںکوا ھی ط رع تاد کہ دراصل سار ےکامو ںکا ا تظام الد کے
اتیل ہے ج ید ہھتا ےا اں کے یم اورارادے ے ہت کے یکا کا اللد
یروس کرنا اور پرحال میس خدااوررسو لکی پر پیر اطاع تک/ :ا ے اکا
میا نکاامخقان٤ٛے۔ ۔
۴۔-اسلائ یت بک میں چہادی د ہآ خر امتمان ہے شحس میک یک کے ہر
عم بردادکی ایی پودیی جا ہوجاتی ے۔ ج بکف اود اسلا مکش اس
درج می سپ جا ۓکیمو نکودکوت وعان کےکامکو باقی رک کے لے یور
مدان می اترنائیڑ ےق بچرمیران سے وای اس کے ل جمکنکیس راتی۔
ایی راو ٹل چچن کفکرتے ہو ۓ میدرانع سے پھاگ کا مطلب اس کے سوا اور
کیا ہوسکتا ےک یاتو:-
۹ مز نکواپٹی ان اس متقصمد سے زیادازی: ہے جس کے لئے دولڑائی
لڑی چاری ے۔یا
ب۔اںکا پیاما نکر در کہ ددائ٥ل موت اور زنرگی الل کے پا ٹیل
ےاورج بک ا انم زہہومو تآنی گت او جب ا لکاعمآ جا ےت چھر
ہیسگوں---.
ی۔ااس کے دل می ایی ال دکی رضااورآخر تک یکیاصیالپی کےعلاوہ پچجواور
آمذ شی جیا پردرش پارجی ہیں اور دراصلا؟ ھی اس نے اپ آ پکوخدے
درین کے قائ مر نے کے لئ بالئل وق می سکردیاے۔
اہر ہ ےکس ایھان کے ساتحدان مس سےکوگی بات شال ہےاأ ےگس
رع پوداایما نکہا جا سکتاے ای لے ا کی جک کےموٹع رمسلرانو ںکو
صاف صاف با دیاکہ نگ تے منموڑنا مسلما نکاکام یں تحضر لی
اشرعلےہ لم نے ارشادفرمایا اک ہیل نگمناہ ا لیے نہیں جن کے سا تج کوئی یفاک رہ
نم ےکی ۔ ایک شرک: دوصسرے والدی نکیا نی او رتیسرے الدکی راہ
یں لٹڑکی جانے والیلڑ ائی سے م نمو زکر پھاگنا_
۵ال راو یش ڈیف کرنے می آ دی انی دقتبھی ست ہو جانا ے
جب ناوک تحلقات سے ا لک کپ ایپ جائزعد ےآگے دس ہال ے_
مال اوراول دا کی راو بی رکاش بن جات ؤں ۔ چنا نچراس موق بی
اتال نے ال اورادل کیک حییت سےمسلمافو ںکو اش کیا فرب ا 'جان
رھ یھارے مال اورھاری اوا یقت می کھاریآز با کا سامان میں
اورالل کے پا اج دسینے کے لے بہت یھ ہے ( سوہ انخا لآیت )٢۸ مال
ودوات د ےکم ال تھا ی می نکی ز ماک یکر ہےکہآیادہا کو مرف یں
لات ے پانئیں :اس اق الکمقل مز وڈ لف
کی راو ا لک با لگانے کاو تت؟ جائے تذ ولگ ہوجاے یا ا کی
اط رب یکی جدوجبد میں پچھرستی آجاے ۔ اىی رح اولادجھی انان کے
اما نکا دویعزایر چہ ے ایک طرف 9 می نکوان کے جائ توق اس ط رح ادا
کر ہی ںکہدہ یں اللکی بندگی اودال سکی اطاعح تکی راہ یہ لگان ےک پور
کش کر اوز ود رگ طرفت نجنا ےکیکہیں ا نکی ووفطرکی بت تواللّد
نے ہرانسان کے ول بیس رکودگی سے بے کرای حا وک نیس ہو جا ی ماد
راہ پر لے کے لے اس کے قی مو ںکو ہو لکردے۔ مال اور اولاد کے سس
میس بجی دوہراامتفان ےجس کے لے ہرمک نکوتیارر ہنا چا ہیے۔
(١)صبرہ بش ری کک جان سے اوراسلائ یت ریک کے لے و یعفت الکا
ہی ضردری ہے تی ےمم کے لے روح ضروری ہے۔ کے میں مسلمان جن
عالاٹ سےگنزرے تھے وہا ںچھی اس صف تکوزیادہ ے زیادہ پ دا ےگا
رف وج ریگ تی مان وہاں صورتعال پیش یکرسواۓے مم پرواشت
کر گے کے اورکوئ یصو رت مسلرائوں کےا و اپ گرسیک فو نے
خر لے میں واشل ہورہ تھی اب انس کا اندبیشکھی تک خودمسلمائوں کے
پاتھو ںی بہز بادتی ہوجائے۔ اس لئ ان بد لے ہوئے عالات ی بھی ال
کو برق ار رکے اور بڑھان ےکی تا کیرک یگئی ۔فرمایا: اے ابمان لا نے والو!
جب سیگروہ س نھھارامقا یہ ہونذ خابت قدم رہواورالڈرلوکشرزت سے پادکرو
امیر ےکسمحیںکامیا ایب موی اڈ راوراسں کےرسو لکی اطاع تکرواور
آ یں میں جھڑرویں کرنھارےاند رکتردری پدا ہو جا ےکی او نکھا ری ہوا اکٹ
جا ۓگی۔ععبرےکام لو یقینانڈصبرکر نے والوں کے ساتھھ ہے ۔“
)٢۲۱۴۵ یت آلافنا٤روس (
ال صب کے لوم میس مسب با ٹس شائل می ںکہ:-
ا۔اپے جذ بات ادرخواہشما تکوقابوں رکھا جاۓ_
۲ -جلر ہاڑی اور را بہثٹ اور ہراس سے بیچاجائۓے۔
٣یلاو ناسحا ہش کشیب ھ نے زا جاے رکا ماف
دل اور تج تن فیصلوں کے سا تج کیا جائۓ-
۳۔خطرے اورمت یس سا ۓآ یسرم ذگگانہ جا“ گت
۵۔اشتتوال اورخیظا وخض بکاشکا ہوک رکوئی خل طکام نکر ڈ اش _
۷- ما بکاتملہہواورعالا تکھڑ ت نظ رآ یں نو بے گنی اورکبراہ ٹکیا
و ےھ اس پ ینان نہ وجاتیں-
ے۔مقصمد کے حاصس لک یی ےکا شوق اتقانہ بڑھ جا ۓےکہجلد با زیی م می
افص نی ری لک ڈالاجاۓ۔
۸ دیاوئی فاکرے اور لا ینف سکوا تا نہ لھا لی سک اس کے متا بے میں
دی دککرالن فا دو ںکطر فک جانکیں اب الن بد نے ہوئے عالاتٰ
یں مومنو ںکواپنے برک امتان و دوس رےط ریقوں ےکھی د بینڑتھا۔
۹ کیب تا بھی شاب ان ےکراننان این ککے متا
تن اورانصبا فکا پودا پورال ھا ظنیس رکتا اورککتتا ےک مقص دک خاط ایا
07 و و یک جس راس رت نک یادون براٹھی
ہے اپنے پر وو کسی موق تج یکن اورانصاف سے قدم پان یں د 1
چا فراورا لا مکی۱١ اک امم مض کے موق پردوسری اخلاقی اورت شی بدایات
کے سا تج مخلغیین ے سی ای معاہروں کے کس میں بھی مسرانو ںکو ای
رایت دئیککیں جوم راس رانصاف اورآی پیفییں ۔لن ہدیا تک رو ہے
ملا کی عال ا خٌ اورگت اور ماوگی فاٌرو ںکومعیار نار
ماپرو ںکی خلاف ورزکی ترک ء الله ہفرہسی رن اور پر دیاخت ار
کے ساتجھ معاہدو ںکا پا لک بی چا سے ا سکیا وجہ ے انی خوداہے بھی
مسلمافو ںکی اعاخت سے یکیوں نہ اتاٹھانا پڑے۔
بی ہیں ال تصر ےکی چندموٹی موٹی خصوصیات جو ہدرکی لڑائی سے بعد
قرآن پاک می اس فیلیان نگ کے بارے می لک یاگاہے۔ان سے اندازہ
ہوا ےکا مسلائ یت یک دنا کی تام دوس ریت ریوں کے متا لے می سکس درجہ
متاز ہے اوردہ اپنے پیر وو لک تی تکس انداز پل ے۔
عزوآاصد
اسباب:-۔
برک لی یں اگ چمسلمانو ںکو بح حئل ہوئ یھی نین اس بن ککا
مطلب یق اکہگویامسلمانوں ن ہھٹڑوں کے چتے یس پچھمارے تھے بد دک
ائی ہی لڑائی تی جس میں مسلانوں تن ےکفارکا مقابلہڈ فک رکیا او رکا کو
لس تکھاکروائوں جانا پڑا۔ال واققیدنے سمارےعحر بکؤسلنانوں کے غلاف
کن اکرد ہا تھا اورجولوک ال نت سیک کے وشن تھے ووتذ اس واقعہ کے بعداور
زیادہئجیزک گئے تھ پھزادھ ربدرکیلٹڑائی بیس کے کے جوسردار مارے یئ جے
ان کے خو نک بدلہ سے کے لئے ہنراروں دل بے چیین ہو گئے تھے ۔عحرب میں
2 اکس خوعاکر بیو کک لزا یکا سبب بنار ”تا تھا اور یہاں تا سے
بہت خی لد از ےلگ جھے جن کے خو نکی بت مھڑوںلڑاتوں کی
ادانہ پوکتیشی. ہرطرف طوان کے خار دکھائی دتۓے تے۔ یہود کے وہ قیلے
2 سے اس سے پلەمعاہدے ہو یی نتھےاُفھوں ن بھی ان معاہروںکاکوئی
پا اورھاظئش لکیااود باوجودال کےکہائن لوگو ںکوشداء رسمالت ؛خرت اور
ان پرایمان رک ےکا 07 کے لوا بط سےمسلرائوں سخ(یادوقریب
ہنا جا ہےتھا کن ا نکی ہعدددیاں ایک دس ق ریش کے مش کین کے ساتھ داب 2
بوگئیں اورآھوں نز کھل لامش رکو ںکومسلمانوں کے خلاف نک کے لئے
أھارنا ش رو کردا تصوص] بی نضی رکا ایک سردارکحب بن انشرف و اس موا لے
مس انا سےذیاد کین پان اورانی وشن پا رآیا۔ چنا نچ باندازہ ہوگیا۔
بد نہ2 پڑی ہو نے کاکوئی لیا کر میں کے اور شہان محاہرو ںکاکوئی انل
یں کے جوأھوں ن ےآحضر تل او علیہ یلم سے سے جے۔
ان عالات ٹل مس ےکی تچوٹی فی تچاروں طرف سے خطرے میں
گھ یی نیز اندروی طوربربھی مسلرانو ںکی حالت اٹھی تھی ۔ ا نکی ما لی
عالت ایک نے یوں و کروی اب جنگ کے بحدنو اورکھی مشکا ت کا سرامنا
گنا پر ھا۔ 7
کے کے مش رین کے واوں میں ایک تو یوں دی مسلمانون سے بزلہ لی ےکی
آ گپھ رک ریگا چنانچ ان کے کت ہیا بڑے بڑےسردارون نے بدلہ لیے
کیچ سکھا یی ۔ پرقیلہ جو اور ضے س ےھر ہوا ٹاہ لن عالات یش
و دکی طرف سے کے والو ںکو نک پا بھارن ےک یکششوں ن غآگ پل
ڈان کا کا ممکیااوراجھی بررکی لاک یکوششئل ےسا لپ رج یگ راتھ اہم بیقمربکی
ھ بی لی س کہ کے کے ش کین ایک بہت ز بردستاگر نےگرھ ید بر مل
کے لئ بالل تیارہوہچے ہیں۔
قریش کی پیش قدمی:-
آتحضرتت مکی اللدعلیہ یلم نے شحوال راہ کے چیہ ہفنہش دوصاحبان
کو خ رلانے کے لئ روا ہکیا۔اخھوں نے ہک راطلا ع دک یکیق ریش کالفگر
وھ بین ےق ریب کی گیا ہے اور تی ےکا ایک تج اگاوان کےگھوڑوں نے
صافگگ یکر ڈا ١ے ۔اب نییصلی اللدعلی :یلم نے صسحابہ سے سور ہکیا کیا
شک رکا مقا ہہ مر نے مکش رک رکیا جا یا با نگ لکر بن گکا جا ےۓ؟ظیحض
صحا کا را ےش یک عقابلۂ نی میس ب کیا جائۓ لان نیجھنوجوان جو
شہادت کے شوق سے بے تاب تچ اورچتھیں بد رکیلڑائی میس لڑن کا موتح
نہملاتھا اس پرمص رت ےکینیس مقا مہ با ہرمیران می شش لک کیا جاۓ ۔آ خ رکا ۔
ان کے اصرارکو دیو یکر مکی ال حلی ایم نے بی فص فرما کہ با گل
کک جن کک جاۓے۔
منافقوں کا دھوکە:۔
قریش نے مین کے تر بک کراحدکی پہاڈڑی پراپنا ڑا کڈالا ۔آفضرت
صلی اللد علیہ وسلم اس کے ایک دن بعد جمعہکی نماز پک ایک بنرارسحا ہہ کے
ساتحدشہر سے روانہ ہے الن میلع بداول ان ال یھی تھا جار چہ ظا مسلمان
ہو ہکات لیکن دراصسل وہمسلرانو ںکا ش٢ ن تھا اورآخ وق تکک منا فی بی رپا ۔ سے
بھی مسلمانوں کے ساتھھتھا۔ ال ں کا اث مان وانے اورشھی بہت سے ناف
ملرافوں کے ساتھد لے بہوۓ تے بب ددور جاک رب داد رائن ال اپنے مات دجن
سولوگو ںکونو کر الیک ہوگیا اور اب صصرفت** مسا بہ باقی رہ گے ۔اےے ناک
مو پر ا لک یمک ت ایک مہ تخت فضیائی 7ا لین جن مسلمانوں کے
دل الل پرایمان۔آغرت کے ٹین اورراوقنٰ میں شید ہونے کے شوقی سے پر
ان پراس واق کاکوئی اگوارا نیس ہوا۔ اوراب ہہ چے ہہوئے مسلران ہی
اللد کےکپھرو سے پرآکے بڑھے۔
نوجوانوں کا جوش:-
ادن پآ حضرت ٥ی ال علی یلم نے اپنے ساقھیو ںکاجا تزولیااور جن
تھے نی وایں فربادیا۔ ان نوجوانوں می راع ا رحرہ نائی دوک ربھی تھے_
رو ںکوج اون سے ال ککیاجانے لگا راع اپن بوں کے م لکھٹرے: و گئے
رق یش پھواد چ دکھائی د ےگا اور نے لے جامیں۔ا نکی بی کیب تل
یئا نب رہکوشرک تکی اجازت نی تذ ال پرأنھوں ن ےکہاکہ جب دانع لیے گے
ہی ھی اجازت انا جا سے مم وا نکش مس چچچاڑ لیت ہوں چناغچران کے
وئی سو کیل دوفو میگ ش نکرا یی اورجب انتوں نے رائک لالہ
دوکھی فو میس نے لے گئے۔ بیای ک بچوطا ساواقعہ ےمان اس سے اندازہ متا
ےکی سلمانوں یس ال دکی راوس چہادکر ن اکس درب جذ بوجو دا
فوج کی ترتیب:-
احعدکا پپاڑھ ین ےق یپ ”انیل کے فا صلے بر سے آححضرتسلی اوٹرعلیہ
لم نے اپنی فو کو اس رح لگ کہ پہاڑ پشت برتھا اورق لی لکالشکر سا نے
پش تک رف صرف ایک وہ ایی تھا یٹس سے ج ےکی طرف ے تل ہو ےکا
ڈرتھا۔ دہا لآپ نے عبدال جن جم رکو پچاس تی انداز د ےک رمق رکردیا اور
ہرای تفر ماد یک یکواس دڑڑے کےراتے سےآنے شدد ینا ادرقم یہاں ے
کسی عال میس نہ ڈنا۔اگرقم دی کہ پرندے ہار بویا نو پچ لیے جاتے
ہیں ج بھی تم انی جن کوڑا۔“
قریش کا سازوسامان:-
قریش اس مو پ4 بڑے سازوسامان سےآۓ ےآقر یبا ہا ری
جمعیت اور جن ککا کاٹ سامان ساتحتھا۔عربوں یں ننس نک میس عورجیں
شال ہہوٹی تھی اس میں دہ جان پرکھی لکرلڑ تے تے۔ نین ری خیال ہوت تھا
کہاگکرلڑ ای یس بار ہوکئی نو عوروں یا بےعزتی ہوگی۔ اس لڑائی کے مو پر
پہ تکی مور بھی ون کے ساتھ نی ان مس سے بہت کی نذ یں جن کے
اورعز یز ہد کی لڑائی یس مارے گے تھے اورأتھوں نے الا
ان کے او ں کا خون پ کرد می سگی۔
لڑائی کی ابتدا:-
تقر لی نے انی فو خکوبہت ایت یت د یھی ۔ جب لڑائی رو ہوک
نب سے پییقر یٹ کی کودنوں نے دف پر جوش ادرغیرت دلا نے وا نے اشعار
سی جس اتا چو وج چچش۔۴
پڑھنا شروغع سی اک یلڑنے والوں میں بدر کےمقق لی نام اوران کے و نکا
لہ یی کا جو خوب اگ رآ ے۔ اس کے ببحدلڑائی روغ ہہوئی۔ رو یں
مسلمافو ںکا لہ پھارید پا ادرقر بن یک فو نج کے بہت سے لوک مارے گے ان
کی فو مم ایتر گی لکگئی اورملمان بی ھک ہاُغخھوں نے مییران مار لیا۔
چنا أنھوں 2 اس انقرائی ٹن کوآنری عدکک باچیانے کے بر نے مال
نیت لوفا شرو عکردیا۔ اوھ جولوگ دڑ ےکی طفاظت پر لگاۓ ئے تھے
أُخھوں نے جب دیکھالمسلمان مالی لوٹ یس گے ہو ہیں اوروشن کے
پچ کیہ گے ہیں و و ہج ھک لڑ ای کا امہ ہو چکا سے اور ھی ما لخاصت
لاٹ کے لے سے ان کے سردار ضر عبدال ین بجی نے أنجیں وکا
او رض رت لی او علیہ وی م اعم باددلا پامگرسوائۓ چندآ دمیوں کے اور
کولیتڑکا۔
قریش کا عقب سے حمل4:-
الد بن ولیر نے جوا وق تکاٹروں کےلشکر کے ایک رسا لک یکمان
کررہے تھ اس موںع سے فائحدہ اٹھایا اور پاڑی کا پچ رکا فکر ےچ سے
ملمائوں پہملکردیا۔سخرتیعہدای رین جیبراوران کے چندسرائی جو ڑ ےکی
طفاطت کے لے باقی رہ گے تھے اُخھوں نے مقاہلمدگ کیا لان وکا فروں کے
ال بی ےکوروک نہ گے ادرشید ہگن نیشن پیا کیک کی سے مسلمانوں پہ
ٹوٹ پڑے۔ اھ جو بھا گت ہوے لوگوں نے ات دیما و وکیا پٹ
پڑے اوراعب دوٹوں طرف سےمسلمانوں پرعملہہوگیا۔ اس صورتٹٰ 27
مسلمافو ںکوا یی پوکھطا د الک ایک دد ڑا یکا پان بل فگمیا الما ن تر بت رہ ور
دنع أدھر ھا گے گے۔ انتا کگجراہٹ میں خودمسلمانوں کے پاتھ سے
مسلمان شہید ہو گے اور یگھبراہٹ یس بفلط فا اک ایگ شع یم
شید ہوگئے ال خر سے صحابہ کے رسہے کے اوسان خطا ہو گے او رسکتے ہی
لوکوں نے ہمت پاردگی-
الله کی مدد اور فتح:-
اںوقت یہی علیہ وی مکووں باروسھاراپےکھیرے میں لے ہو ے
تھے ۔آحضرت زش بھی ہو ہے تھے ابآ پکو نےکرایک پہاڑ یک طرف
آگۓ اورعین وقت برمسلمافو ںکومعلوم ہوگیاکہ نی صلی اوڈ علیہ ومک اش/جت
دعافیتموجود میں چنا نچ دہ پل رس ٹک رآپ کےگ رشح ہو ےلین اس موق ہر
معلوم نو سکیا صورت بی لآ کی اورک طرعکافروں کے مت لڑائی سے م گے ”
اوروواپنی جی ت کنل کی اغیرمیدان پچھوذکروایں چے ۔
ج بکفارکئی مز ل دوچ ٤3ا یں ہو آیااورافھوں نہیں میں
کہاکہ یمن ےکیاپکش یک یکرملمانو ںکی طاقتکو ال لٹ مکرد ہی ےکا موتح
بات ھآیا تھا سے ار کھودیا اور بیوں ہی لو ٹآ ے ۔چنا نی ھوں نے ایک
ہلگ رکرمقور ءکیاکراب مر یے پردوپار ھل/نا جا یلکن پچگرہمتن پڑی
ادرک واپں ےئ ۔ وھ رٹ یکر یی سلی او علیہ وم مکیھی مہ خیال تھا ہیں
نپ رنہ لٹ بڑے چنا نپ ن بھی مسلمانو ںکوش کر کےفر مایا ہکفارکا
چاکرن چا یجیے۔ مہ بڑا نارک موٹع تھاھر جولوک جج من تے دہ ابر کے
سس لس سک ےہ سے ےے
رو سے پر رجا ن قربا نکرنے کے لے مار ہو گے او نی لی ال علیہ لم
ایک مظا ھراءالاسدکک رشن کے کیہ گئ۔ ىرعظام مدینے سےکوگی ایل
کے ذاش پر ےکن جب معلوم ہواکہقرلیش کے والیں ہو گے آ گنی
یدوائیک تخریف لے1 ے۔
احعدکیڑائی یل ست حا شجیدہوۓ ان مم زیاد وت اصار جتے مد سی ےکا ہر
گھ ریا مکمدہ نا ہواتھا۔ اس موتعپ آتخضرتملی اون علیہ ڑیلم نے مسلرانو ںکو
راتفر ماگ یککہ ماخ مکرنااورفو گر کے رونا نا مسلما نکی شمان یں ۱
ابتدائی شکست کے اسباب اور مسلمانوں کی تربیت:-
احدکیلڑاکی می مسلانو ںکوجھ پیل یلست ہوئی اس میں اکر چرمنافتو ںکی
تق یروں اور الو ںکوبھی بڑا ول تھو گر ساتھ بی ساقیامسلمانو ں کی اپ
مود یو ںکابھی حصہپہکم نہتھا تج بک انسلا نی نس مک زا بنا نا اوراپے
کارکنو ںک می تز بی تکرنا چا ہی ہے اس کے لے ابھی پور مو نیس ملا تھا
الدکی راہ جس جا نک بازکی لان ےکا بر دوسرای مو تھا اورائسل موق پر نہ
سپجےکٹرور یو ںکا اظہار ہوا لا ما لکی محبت می اتی ڈیو یکوسچھوڑ دنا اپ
ذمدداد کے اکا مکی ناف مال یکرناء ش نکی طاق تکوش مکمرنے سے پیل مال
یس کی طرف موجہ ہو جانا وغیبرہ۔ انس لے ال جنگ کے بعدکھی ارڈ دتھالی
نے جنگ کے عالات پر ایا تج روف مایا نس میس اسلا می نتطنظرسےم“لمانوں
کےاندد جکوتا یاں باقی رہکفی یں ان میس سے ایک ای ککوظھا ہرکیااوراس سے
متعلق ضروریی ہدایات دبیں۔ یہ ہدایاتسودر ہآ لعمران ےآ خرتی صے یسلت
ہیں۔الن بیس سے چندکا کر بیہا نکیا جا تا ہے ت اک ایک با رپ ریہانداز ٥ہو سے
کہ اسلائ یئ بک ٹیل جن ککا متقا مکیا ہے اور اس می نق نظ سے جنتک کے
واقعات ادرعالات بلط رح رون ڈالی جالٰ ے-
توکل:۔ .ٰ
ملمان جب مقا لے کے لے ےو ا نکی تعدادلیک جار ک ےرب بجی
ج بکہزش نکی تحعدادن برای اس بربھی ھدود اک رن سومنانقن ایک دم
الگ ہو گے اذداب مل ران ٭ ہے ہی رہ گے لال یکا سا ما نچھ یکم تھا اوراب ٠
ایک تھا فو نع بھ یکم ہوئی۔اسی ناک موتع پر پجھلوکوں کے ول ٹو ۓ گے۔
اس وقت ضرف اللہ پرایمان اودا کی مد جروس بی تھا جوسلمانو ںکوشن
کے ما بے کے لیے لےگیا ۔آخحضرت صلی لد علی ہبلم نے مس لماو ںکوائں
موق پر جڈلی دای ال کاذکراولدتھالی نے ار فرایاے۔ باوکرو بت
یس سے دوگردہ بذدکی دکھانے پرآمادہ ہو گئے تھے عالماکہ ادا کی ممدے
لئ موہ دتھااورمومنو ںکوق دی کرو سک نا جا ےآ خراس سے پیل بد دی
گی یس الدکھاری مددکر چکا ہے عالاسکیم بہ تکندر تھے۔ ابا مکو چا ہے
کہ ای دکی نا شکری سے پچ امیدد ےک اب تم شک رگز ار ہنوگےء یاذکرو ج بت
(ن یکر مکی ال علی یلم ) مومنوں سےکہرر ہے تھے ۔''کاتکھارے لئ یہ
بات کاٹ نی لک این رارف رشن اتارک یھ رکی بد دکرے ینک اگرتم ص کرو
اورخداسےڈرتے ہو ےکا مکروق جس وقت وش نکھارےادپر چک رآ یں
کےا دقن تھا ردارب باری زار فزشتوں سےشھا رکی مد دک ےکا مہ بات الد
سسہئہے-ےک٭ووممےسٌسے
ن یں ایس لی با دکی ےکم خوش ہو جا او تجھارے ول ملین
ہو جا میں ۔ رن ونضرت ج ای ہے ایفدکیطرف سے ہے چوک یقوت والا دنا
ویاے۔“ (آ گرا نآ ت۱۲۲٣۱۴۷)
مسلمافو ںکوآخری طوری ھا د اگ یاکہ می قوت پھر وس یلما نکا کم
نیس اا سک قو تکااصل س تشم اللہ پرایمان اودا کی مددبرجھروسرے۔
مال کی محبت:-
اعد میں لس تک با سبب بتاک مسلمان مین لڑائی کے موت پہ ما یکا
محبت می گرفارہو گے ادر وش نکو ری طرع مار نے سے پل ما لک طرف
معوجہہ وگ بیہاںتک کجننلوگوں ےو مع ون ےکی طا ظت 7 ےگا
اس اارے می کوتای ہوئی اورا رم فڑائ یکا پانسہ بی گیا۔ چناغال تھا
نے مسلمانوں کے ولوں سے ما لک محبت ثکالے کے لیے اس موق پہ ما لکی
محبت پی اکر نے والےایک سب سے بڑ ےسب بکوکھ یم فرماایشنی اسی مو
رس دکوترام شب رایا سود کےکاروبارکر نے والوں کے ولوں بیس ما کی عبت ای
ری ا الس ےکردہا نکی اد ےکام کے لایس جھوڑتی ۔ ای سے
ایک طلبقہمیش لاچ شی خو زی اور ما لکی عبت پیا ہو ے اور دومرے
لق میں افرت فصاو : وصر پرابرتاے-
کامیابی کی ضمانت:-
اگر ہمتوںکو بلد رک کے ١ ,1 اکائی کے بعد
متوں می کی1 آی انی ہے۔اعدیشملمانو ںکوقکست ہو یی ہوا تھا کہ
یوون سے ول ی ٹون گگت تاس موتقع پرلمانو ںکوضماعت دئ یگ مک مکونہ
کم جمت بون چا ہے اور مکنا چا ہے جی تھا ری ی ہوگی بشرطییت من
ہو تم ایمان پرقائم رہوادراس کے ا تھے پپبر ےکر تے رم ھا را تھا یکام
سےا کے بعدم مکوس جن دک رنا اور وم سے نات د بنا اللکا کام ہے۔ رہ
گئیس رق طور بر میں اورریقکست تو تمہارے متقائ لکرووکوکجی لاف
می س یکرت ہیں۔ جب ددہاطی پرہوتے ہوۓ ہلان ار ےت ن مکی
پرہوتے ہو ۓےکیوںگکرکرتے ہو تم تو جنت کےخواہاں ہو ت دکیاتم یریت ہو
یت جن میس بوں ہی لے جا وگے عا لان ہابھی ایند نے بی جانا یئن نت
ٹس سےکون ا کی راہ میس چان لڑانے وانے ہیں اورکونع ال کی خاطر
ناخوشگوارعالات بب رکرنے وانے ہیں۔ .- (آلکرا نآیت۷۲۲۱۳۹)
یں ت ہش رک می سکوئی کوئی مرکز یشخصیت ا لت ری کک جان ہوثی ے
ین اص وی تر یو نکی اق ایی گی ا یخخصیت پنکیں ہوتا بل۔ان
اصولو ںکی گی اورصداقت پ ہوا ہے جے دوج ربک نےکراشھی ہے۔اسلائی
ت یک کے لئ انم رکرا شیہم السلا مکی شصیتیں جنٹی ہم ہی ہیں اس کا
انداز :لان یشک یں کان چوکلہ ری کیک ایک اص ومن یک ہے اور کی
بقا اور تر قی کا عرار اص ان اصولو ںکی قوت پر ہوتا ہے جواسلام شی لکرتا سے
اس لئ مسلمانو ںکورہ بات بتانا بھی ضرورکی تھا ککہیں ان کے ذبنوں ےکی
گوے یں مہ بات نہ پیڑ گی دہ جا ۓےکہ ج بتک یکا مبارک وجودان کے
مم لے
درمیان موجود ہےاس وق ت کک دوائل کے دی نکاعلم بن رکریں ےلان اگ ری
وقتدوال ذات ا رک( صلی اشعلی یلم )کی براوداست ہمائی ےئریم
بوجا میں وہ اس راہ سے ہہ فک رکوگی اور راہ اختیارکرلیس گے چنانیراعرے
میران مل جب ب غلطب ھ شر پور وی کل آفضرت' ٥ک لعل ےل رشوید ہو گے
سپجینسلمانوں کے ول چھوٹ گی اور و ھوں نے سو چاکہ جج بححضو رب یکاسایہ
أ نگ یا نذا بل ڑکیا اک بی کےاں شیا لکی اصلا کے لے اس موق راو اگ
تمچھایاگیاکہ دیکھو( صلی ال علیہ لم )اس کےسوا نی سکس ایک رسول
ہیں۔ ان سے پل اور رسو لبھ گند یچے ہیں بی رکیا اکر دو مرجانئیں باقلی
کمردپے چا تی تو لوگ ا لے پا نوں پچ رجا کے یادریھو جوالٹا پھر ۓگاوہالل کا
وفتصان نہک ےگا۔ الہ جواللد کےۓ شک گار بندے ب نکر ہیں کےآتھجیں
دواجرد ےگا( آ لھا نآ بی ت۴٣۱ تم نے مس دی نکوسو نے بک راخقیا رکیا
ہے اس پر قائم رپنے اور سے ا مک نے کے لج بیضرور یں ےک ابد کے
1-7 پیش تکھارے ساتق موجودرہیں بل بی ھا ری اپلّفاں وو رکا سورا
ہے۔اس پرقائ رو کےنو خودقی بچھ پا گے اوراس دی نکی اص لقوت دہ اتی
ہے ے بجی لا ہے۔اا ںکیصربلند یکا عدار تھا رگۃ ںہ ےاودرندی
۳ ا نتخحی تپ
کمزوری کی جڑ:-
انسا نکی تما مکنزدر یو ںکی جڑ مو تک ڈر ہے۔ اس موتح پاش یادلایا
میاکشوت گار ہے اگ پا لئ ل نول ےکوی جان دارال وق ت تک مم
یں سنا۔ ج بتک ا سک مو تکا وت نآ جاۓ اد کے ال مظمرر بی ہو ۓے
وت سے پیل ندکوئی مکنا ہے اورنہاس کے بحدراپی لہ کے لئ بی مکنا ہے۔
را مکوموت سے :یی ےک یلرک ر ن ےکی ضرور تنج گل راس با تک ہونا چابے
کن کا جوعتہا گی ہوئی سے وہ کا سے میں صرف ہوری ہے دن اکمانے
یںآخرت اص لکرنے میں؟ ا لیے جوٹس دنا بھانے کے لے اپ یکنتیں
اگاد تا اذ جرأ سے ج ھا سے ای دنام ئل جا جا ہے جو خرت کے اواب
کے لگ ےکا مرکرتا ہے پھلرأ سے ارتا خر ت کا اب دےگا۔ جن لوگو ںکوالڈد
کا د تقو لکرنے ء اس پرقائم راودا سکوقا مک رن ےکی دوچ درک رن ےکا
نت عاصل ہوپگی ہے انھیں اس سب سے زیادہچق ند تک قد رکرنا چاہے
اورا لک طرف اپناسب پھگاد ینا چا بے ۔ ا لکا جیا پچھاعی ےگا آخرتکی
دا یکا میا لی ان کے جے می سآ ےکی اورال کی ا نش تکاشگ راد اکر نے والولں
کوانڈتھا لی انی مہرب نانمتوں سےنواز ےگا اوردہ اپ ما تک سے "بت بن جچڑا
ان نت
اعدکیہلت کے بعر
دو ای تیلو ںکوچھوڑکرعرب کے تقر با تام ہی انل اس نی اشھتی ہوئی
اسلائ یت ریک کے حخالف تے ا ںت ری کی زدان کےآہاکی رہپ اود رم
ورواج پ پڑ تی اکا تقاضا ماک انمان اغلائی اپاررے ہد ر ہو اور ان
او ںکوکچوڑے جوعرب میں عا طوربریچیکی ہوٹینجیں مشلا شراب جواءز نا اور
,۰,۰ 0) بتک سے پاپ بہت سے تی سوچ ر سے ےکس
طر ال نیف ری ککوٹ کیا جا ے نان بر یق لی لک یلست کے بعدا نکی
ھت ں بھی لہ بت ہو یں اود برای ط رح کے تر ودیل پٹ گے تھے کراب
کیاروا ختیا کیا جا نان اعدکیالڑ ای کے بقدعالمتت بد لکئی اورعرب کے
ببت سے قبائل اسلام کے خلافت أش ھکھڑے ہوئے۔ ایےے چندقمیلوں کے
واقعا ت تب ذیل ہیں- :
قبائل کی بدعھدی:- ۱
سح خ ۷ن٣ میں علق تن کےایک تل جوفیرنے مر نے پر تک اوہ
کیا ۔آتخحض رت لی اوقرعلیہ یلم نے رت ابو کو ای کخنقمرسی اعت کے
ساتھدان کے متقا ےکلنۓ روا نہذ مایا اور لکر نے والنے پھاگ فکھڑے ہو چئے_۔
۳- اس کے بحدامی میے می سکوہستا نع رنہ کےایک تیباعان نے مد ےب
چڑھالی کا اراد وکیا خر تعبدالظربن اس ان کے مق بے کے لئ یج نے
اوران کاسردارغیا ای ہوا او ملک نے وا نے والیں ہو گئ_
عفر جس ققیل کلا بکاسرداراب برا تحضر تملی ایل علیہ ایل مکی
خدمت یس حاض رہ وااورکہاہکہ چندلوک میرے سات جع دیجے۔ می ریقوم کے
لگ اسلا مکی دگوت نا لیا ہے ہیں ۔آ حر ت صلی علیہ وملم نے ستزسحابہ
ایا نات یز الن یی سے اناگ مٹفیاش ڈے خے۔ان
لے صفیرپی یس تہوتر ےکو کے ہیں۔ سحبنیوئی ک ےن می ایک چبوتر وہنا ہواتھا نس پر اییے
لن کقا مکرتۓ تے جوگھریاروانے نت ا نکاممول تک پھولکڑیاں خی رہکاٹ لاتے اور ای
س ےگ رکرتے ؛ یدوس رسای ا نکی مدوکر تے تھے ان لو کا ما صکام دی ن اعم یھنا اور
اد تک نا تھا-
۱
لو ںکو تی کے رکین بای ٹیل رن ےگ کن نکر ویای:ان واتیرے. '
آحضرت لی ا علیہ وع مکو بے انتا صدمہ ہوا ۔ ہی ہپ رنک نماز ٹچ مم ںآپ
نے ان ما کموں کے لے بددھا فرمائی ۔ ان نسحا رش س صرف ایک ععای
ححفرت عون أمت ہکا عاع نے ےکرک رچچھوڑ دی تھاک می ری ماں نے ایک فلام
آزرادکرن ےکی منت مال یتھی۔ چاییس سے اس مت می ںآزاوکرت ہوں_ جب
تفر گھمرو بن امب دائی لآ رس تھے رات میں انی عام ر کے تی کے دو
دی لے ۔آپ نے أُنحیںک کردیااود ی ےک ہم نے قویل“ عام کے لوگوں
گیا بےوفائ یک اپ راز اتا اجتب ج بآخضریتہلی الشعلیہ ول وا واق یکا
لم آپ نے مخت نالیمندف ما اونگ ہآ پ اس یل کے لوگو ںکوامان دے
گے تے۔ اور یہ بات اس اقرالد کے خلا تھی چنانچآپ نے الن دونوں کے
خوں بہااداکیرد سی نےکااعلا ؾفرمادیا-
ایر دواورٹیلوں ن بھی ای امک ضرم تک ۔آپ نے ان کے کینے سے
صحابکودی نینم مکیلے ان کے ات ۂحغ دیا ین ان طالموں نے ہد یکیا۔
ان یش سےسمات صحا بغار ےوک شجیدہوئے اورقی نگرفار ہو گے ان شی لحضرت
خیب اورحخرت زیڈ کھی تھے چنوں نے آنھیں کے میں نے چاکر پچ ڈالا۔
خضرت یب نے احدکیلڑائی میس ای ننس عارت بن عاع رکذ کیا تھا حمارٹ
کے بیٹوں نے محفرنتخیی بکوا لے خر یل یرد ہ انیل اپ پاپ کے بد نے
میا لکرمیں گے چنا خی چندروز کے بحدأتھوں ن ےآ پکوشہیدکرڈالا ای طرح
حظرت ز بایفوان رن ام کے نے کین خر بیدا اور ِکرش یرک رڈالا-۔
11
اس طرع ایک طط رفعرب سکقیلوں ے بابرا یٰمپچھٹ بچھاڑ چگی جاردی
یج میں زیادلی این ب یکی طرف سے ودج یھی اورملمان ان کم
برداشتکرر ہے تے۔سا تھی ساق دای ز مانے میس بہود کے سا تح ھی اییے
معا لات یی ۓ جوسلرانوں کے لن ےکا فی برای کاموجب بے۔
یھودی علماء اور پیروں کی مخالفت:-
آححضرتسلی اودعلیہوالم نے اکر چنرھ دش ریف لانے کے بعد یہودیوں
کےقیلیں ےمنن کم سے معاہرےکر لیے تھے اورا نکواشھینان دلا دی تھا کہ
ان کے جان ومال سےکوئ ی تعن تہکیا جات ۓگا ادا نکوہ رح مکی نرڑ یآزادی
حاصل ہہوگی لیکن ود کےغلا اورپ اس عو برا سلائ یچ ری کک ت تی سے بے
ین ر تج تاور یہ لاب تبتھاچنفداساب تب ذبیل ہیں :
(٠ ) اب کک نربی اعتبار سے بیہودکو ایح مکی جو ائی خاص تھی اورسب
لوگ ا نکوخدایتی اور دن دارکی کے اختبار سے قائلعز تکگنت ےکن اب
ااسلائی ا یک کے پیل سے ال نکی غلط نم ہبیت اور بش وراتغدا پک ڑل
تلق با ی تھی حخض رت سلی اوعل یلم کے موا عنی نکرلوگو ںکومعلوم ہوتاتوا
ککہواٹڑی پکی خذبیت سےککتے ہیں او نیقی خداب رت یکامفبو مکیا ے؟ اس طرح
ان عا موں اورپبرو ںکا”' کاروبا رمعم پڑحتاجا ا تھا-
٢ق رآ نکری میش بیو کےعوام او ما طود پران کے ابل عم اورد ین دار
تم کےلڑگوں کےاخلاق اورسعا لات رم٥ یم یتقید یں نازل ہودد یھی شا
”وو پھوٹ بانوں کے ضنے وائے اوتتقرام مال کے بڑ ےکھانے وا لے ہیں“ ۱
(ورۂ ماد ہآیت۴۲)” فقو ان یش سے اکشرو ںکود ےگ اک ہگناءاورزیادتی کی
رف تو زی ے مبٹ سے والے ہیں (مائد ہآ یت )٥۲ ”لہ سودکھانے وا لے
ہیں عالائکا نکوسود سے کرد یامگیا تھا اور بلدگو کا ما لکھا اڑا لیت ہں'“
(ناءآبیت۱۹۱) ای طر گی بہت تقید یں سور ٤ بقرء ماد ہاور ل ران
ویرو یش مو جود ہیں ان سن بکوک نکر سداۓ چند می شس لوگوں کے ان کے
اکٹرکیںک تراغ با ہوجاتے تھ اوراندھا دحند اسلائیت ری ککی خالقت پرا تر
آتتھ۔
۳ اسلام کے بڑ ھت ہوے اقتةرارکو دک ےک ہیں ٹخطرہ صاف دکعائی
درد ہاتھاکرایک ن ایک دن انی اس کےآ کےس جانا پڑےگا۔
چنا چان قی اسبا بک :فا بر بدا سلا یریک کے مخت وشن ہو گے جھے_
غزوۂ بنی قینقاع:-
سب سے پل بدرکی کے بعد یہود ن ےکا نمکیڑے بی او میں ہے
ند یشرصاف دکھائی د نے لاک راب اسلامایک طاقت بذجاتاہے چنا نچ بد رگ
لڑائی کےفورآبعد ی شوال س٣ ہیس ببود کے تیلے بی تریغ نے مسلماتوں
کےخلاف ڑا یکا اعلا نکردیااو رض تی ال علیہ یلم سے جومحاہر دکیاتھا
ا ںیکوتڑ ڈالا۔اس جن کا فورکی سبب مہو الک ایک بیچودئی نے ایک مسلمران
او نکیا بے تھت یکیا۔ ان کے و ہرنے تاب ہوک ایک بیپود یکو مار ڈالا-
اس پہ یپودیوں نے اس ملما نک کردیا ۔آتحضرت صلی ال علیہ یلم نے
مفاٹےکورٹے دٹ فرمان ےکیکوش کی یجان یودن ےہاک قری یں ہیں ٠
کہ جو بدر یش من ہبج رکر چلے و پڑات دکھادیی 22)
اسے کے ہیں۔ اس رع جب بیپودکی طرف سے معاہد ےکی پروا کے لبغیر
لڑائ یکا اعلان ہوان آححضرت لی ال علیہ یلم نے فڑ اٹ یکی تار قکی۔ بیہددنے
اپ ےآ پکواپنے فلعہمی ستفوظاکرلیا۔ پنددو دن کے محاصصرے کے بد بے
پا کہ یہووکوجلاؤ نکردیا جاۓ ۔ چنا نچر مات سو یہو دجلاش نکردپے گے .
کعب بن اشرف کاقتل:-
ود سکعب بین اشرف شہورشاع تھ۔ اس نے بد دک یلڑ کی کے بعد ایے
اشعا رک ےشن سےملافوں سےخلاف کے می ںپآن کک ککگئی۔اس ز مانے
میس شا عرو ںکابڑا اث تھا۔ اس نے بددکیلڑائی ال ہونے وا لن ےت لیشی کے
ایے پردردمیے اورپ یں اکر کے میں سنا اک جونتا تاس رتا تھا اور
روتانھا رہد ہی می ںسآنحض رت صلی اور علیہ وم مکی پچجو میس اشعار کے اوراوگوں
کوط رع ط رح ےآپ کےخلاف |اپھارا۔ ایک جار ایک دگات کے بہانے پلا
ک رآخحضرت لی الش علیہ ول مو کرد ےک یچھی سازش کی ۔ ان عاللات کے
رآ پ نے ححابہ سے مود ہک اککہکیاہونا جا ہیے۔ چنا مآ پک م شی سے
تفر یج بن لن ےکحب بن اش فکو رب الاو ل رسیم لا لکردیا 7
بنونضیر کا اخراج:-
بطشر کے بیہودییں ث گئی محاحلات ٹس بدع دی کی او رکئی مرتبرالی خفیہ
ماش کی ن کا مقصرآتخحض تل الف حایس کر تھا۔ اس مقص رکیل ا نکو
کے ککیق ریش نےبھی أففا را اجب ا نکی حوکتیں خر ے ڈنو یس آفضرت
صلی اٹ لی ےلم نے ان کے تلل کا ماصر ہکرلیا۔ رحاصرہ۵ ارد نتک جارگدہا-
۱ آخرکا یو وکر :یراس شرطپررائشی ہگ ےکرددابنا تن نی واسباب اونوں پر
اررت پان لابا میں اوراب ےگھرو ںکویھوزکرنکل جا میں اس متا ہر ےکی
روسےاان کے سککتے بی صردا تر لے من لاگ اپ سات بہت سامازوسامان
لے تصرف ددی سا مان مکی ےگیھوڑاصے بی نے اہی سکتے تے۔
اب مسلمانوں کے دوفوں وشن لی مش رین حر ب توب کے کے ہر مین اود
بیہودیی لکریمسلرانو ںکا مات کر ڈا لن ےکی ت کی ہیں سوینے گے او رتا قائلی نے
لکمرع یبن پیتملکرن ےکی تا یاں شرو کرد یں ابتداءٹ لج بگ گیآفضرت
صلی ال علیہ وی مکو پیمعلوم ہوا کال مریھ پتاکر ےکی تیاریا ںگررے
بے آپمسلمانو لک جحجیت نےکر ان کے مقا ےکیلئے کیئان وشن نے
شا لہ کیا ادد پھا گککھا ہدا۔ ایک با حر رش یٹ شآپ ذات الرقا ]تک
تشریف لے گے اوزدوس رک بار رم الاولی ہے یرٹ دومتتالجھد لکک-
عم زوا تز ابا
بط ری ےگ لک رخیبر ینیچ ُھوں نے اسلام کے خلاف ایک بڑگی
اٹل شرو کس پا کقیلو ںکوسلمانوں کےخلا ف بج ڑکیا کے ش
۱ ے اکفزد وکا زوش بھی کیک اس مس خندق رابج وکیا کیھا الب
مر مرف جو ںکرکیے ہیں چوک اس م کفارک یں ایک اتھدامن ہیں اس لئ اس خزود
کوفزدہاز ا بگگ یککتے ہیں
اکرقر فی لکوفڑائی کے لے تیارکیا او ہکہا کہ اکر سب ؟ لک رتمک مس و اس نی
تحری ککوبل ڈالا جاے۔ قرلیش تو اس بات کے لے اہی تھے۔ چنا نچ
یبودیوں کے ببت سےکیلوں نے اور کے کے ق لی نے۳ لک ر ایک بہت بڑا
شک جیا رکیا ت سکی تدادکااندازہ ول بزارکیا جا ے۔
ج بآححضرت لی الشعلیہ ول مکوسعلوم ہواکرات بڑے پیانے بعد یی یہ
نڑ ھا کی تار یاں ہودجی ہیں ے آپ نے ماب سے مور کیا ۔تضرت سلران
فارسی یھی الد عنہ نے مشورہ د یک کن میدران بیس اتی ہنڑئی تعدادے مقابلہ
ماس ب نہیں ہے۔ جعارالشک رس تفوظ مقام جس رہے اور ای و
کھودٹی جاۓ ت کہ وشن براوراستتملہ ترک کے بیرائے ند گی اورخنرق
کھودن کی تیاریاں ہونےگیں_
خندق کی تیاری:۔
دی فی ن طرف ے مکانات اورخفکتان ےگھرا ہوا تھا صصرف ایک رخ
کھا ہوا تھا حض صلی ا علیہ وملم نے تین ہنرارسھا کو ساتھھ نےکر ای رخ
برخند قکھورن کاعم دیا۔ ےکام ۸ذوقیرہ ےی اشرو) ہوا ضرم ی
ا علیہ یلم نے خووخند قکی داغ کیل ڈالی اوردسں دز زین و و لآرمیوں
پٹ مکردبی۔ضندق ۵گ گپر یکھودناتھا یں دن کے اندر رارسلماوں نے
بی خققی تیارک ری خند ق چھودنے کے درمیا نآ تحضر ت صلی اوڈرعلیہ لم خورقام
لوکوں کے سا جح کام یس مصروف ر ہے۔ ایک مقام پ انفاقی سے ایک چان
گئی وواسی طرع ٹون میس ن1ی تھی رسول ائڈ ٥ی الل علیہ ول تش ریف
لا اورای ککالی ایب مار سارک چان چو راچ دا ہوگئی ۔ یدانب یک رب لی
الشعلی لم کے ججزات میس سےایک ہجزہہے۔
کفارکا حملة:۔
کفار اکر نے تین تسوں می ٹیم موکر بر ینے جن طرف سے لکیا۔
پیملرانچائی شد یدٹھاا کا قش ہق رن پاک می ان الفاظ م سن چاگیا ے-
”جب وشن او کی طرف (مطرقی سے ) اورخشی بک طرف
(مخرب سے 6 تم پرٹوٹ پڑسے اور ج بآمکھییں بپچٹ کی کپچٹی
نویس او کین گے اورقم خداکے پارے میں طرح
ط رح ما نکر نے گے اس وقتمسلمانو ںکی جا کاوقت
آگیا اور وہ ری طرع جھنوڑ زی گے۔
(سر:اظابآیت*ا-ا١)
یوقت بڑ ےی سخت امتفا نکا تھا۔ ایک طرف سردٹ یکا ا نکی مخت موی م٠
کھانے پٹ کےساما نک گیا سس لک یکئی دقت کے فا تے ءندا تق نکی نیند
شدد نکا آرامء جروقت جا نکاخطردہ مال ادراولا دسب پش نکی زد یرہ
مقا بے یل بے پناشگ رکا جوم ء رسب واقعات ایی تھےکہائں حالت مل
دی لوگ خابت قدم رہ سے تھے ہجن کے ایمان جچ اورمبوط تھے ؛کرور
مان دالےاورم نشین ان عالا کا ما بنا سکر سے تے چنا میمسلرانوں
کی افو ج یس جومنافن کس ہوۓ تھے دداس موق بر صافکگح لکرسا سن ےآ گے
ان لوگوں ن ےکہنا رو ع۲ رد کین ٹنم ےاللد نے اورا ھ2
وضضرت کے )جووعدرے کے تھے دوسب دموکاجی تھا (ا لا بآ بیت۱۴) ان
لوکوں نے ای جان بچانے کے لے پہانے ڈعوظ نا رو حعکردثے او رک
ےک اے یرب والوں وائیں گے ہا یک1 تھا راکوکی وکا ننڑیں ے“ ان
لڑکوں نۓے ٹب یکر مکی ال علیہ ویلم کے سسات ےک رکہنا رو ںاکیام ینمی تر
اجازت دے دگا جاۓ اک ہم اپ ےگھروں پر بی روک رتفاظق تکر بیی۔
مار ےگھریالل تفوظط ہیں (ا مزا بآیت٤۱) لین جن لوگوں کے رلوں
مس ایمان مو جودتھا اور جو اپنے ایمان کے دوکوے مس بے تھے ا نکی حاات
اس موت پر بالئل دو رؤتی۔ ۔أفھوں نے جب کافروں کےا پشگرکوویکھا تو
دہ پول اھ بت (حالات ) ہیں ج نکا وعدہ جھم سے اد اوراس کے رسول
ن ےکی تھا۔ اوران عالما تکودکیکران کے اندرایما کا جذ ہہتاز ہہ وگیااوروہ
زیادہ اطاعت أورفرماں بردارئی کے لے تیار ہو گئے۔ ان مخت عالات نے
ان کےانددذڑہبرابرکیتبد بی پیرانہہونے دی _'“
(7۱اب۲۳۲۲)
تقر الیک یهت ککیراڈانے بڑےر ہے۔ بیحھاصرہاتقائخت تک
مسلمافو کون نین وفقت ککھا نا مسر ہآ تا تھا محاصروانائی ش یداو رخ ناک
ہکا تھا۔ اص ہکرنے والے خند قکو پانی کر کت تھے ۔اس لے دہ دوسری
طرف یکھہرے ہوۓ تھے ۔آحضرتتسلی ال لی یلم نے افو عےکوخندرق کے
نل فتسوں پر لگا دیا تھا ۔کفار باہرسے پٹھراورتر برساتے تھے۔اود اد ر ےبھی
تواب دیا جات تھا۔ ال درمیان مس اکا وکا تھی ہہوجاتے تھے بح یب یکذا رکا
دبا واتقابڑت جات تھاکہاا نکوخقدق کےا پادرو کے کے لئ پوری مستحدریے
مکر مق بلک نا پڑت تھایہا ںت کک ددایک پاراییا بھی ہوا یما زنک قضاموئی-
الله کی مدد:-
حاصرہ چنال اہو جا تھا حملکرنے والو ںکیپمتی سکم ہوتی جات ںتجیں-
دس ہرارآدمیوں کےکھانے پیٹ ےکا اتنظا مک رنا کوئیآسا نکام نہتھا۔ چم رانچائی
سردی۔ ای دورالن ایک ہار لیخت طوفالٰٰ ہوا یککافروں کے ہے اھر
گئ ۔ساری فوج جنز بت رہوگئی ہوالک یھی دا کا عاب تھا اوز و ای فان الد
تی نے مسلرائوں کے لج رحمت اورکاروں لطاب بن اکر بھی کیا
تھا۔اس واقکو ا تھا لی نے اپناا ان فرمایا ے۔
لاف ! خداکے اس احما نکویادکروج بک فو جا لغم پرنڈٹ
پپاہیں فو ہم نے ان برطونالی آڑٹ می اورالسی فو جک گی
(فرشتو ںی فوج) جن سکوقم دیس سیت تے۔
(7۱اب٤)
چنا غکافران عالا تکا مق بلہن شک کےا نکیقوتٹو ٹکگنی۔ یہودنے بس
کن کاٹ اود جب تق ریش تھا زوا و امرف واا بَا ے کازانقٌ
صورت نظ نی ںآئی ور سس طر مض اللد ےل اورا کی خی اعداد سے
دی بج یادل بچھا گے تے دہآپ سےآ پجییٹ سے ۔ اس غزدہ کا ؤکر
ق رن پک میں جس انداز شآیا سے اور اس میں مسلمانو ںکی تربیت اور
ت کی رکے جو پپپلوغمایاں سے گے ہیں ۔ان یں سے ند ہہ ہیں۔
الله کے فضل پر بھروسە:-
مک ن کا ایمان ےکر اصل طاقت اش کے پاس ہے جو ہوتا ہے ال سکیا
مخیبت اوراس کےعلم ے ہوتا ہے۔ دہ اپ یکا میا یکواٹی تمروں پاٹ
ثو کا یں ھت با أے اث اخ ل متا ے جیا کہ واتتاً وہ١ے۔
اتزا کل ائ می دی بارہجزارکاشگ رن زار لاو ںکا بن گا جاور
اسے پریان ہہوکر دایں جانا پڑا۔ ہی موق ایا تھاکہ ہوسکنا تھا یسل ران اس
رح سو پچنے مگ کبیا نک١ نی تر کان تھا۔ یی خند قکھودنا) اس لے"
اس تیرب نا زکرنے کا ایچھا غاص موتع تھا لن اللدتوالی نے بروقت اس
رود سے بچانے کے لے ارشادف ما اک اے ایمان دالو! اد کے ا
اما نک یاوکر وک جسفو شی تق پیٹ پڑت ہم نے ان پطوفانی نکی
اورایی فرع یق دیس سک تھے
)٥تآبا7ا(
اطائی ٤ یک ک یلم برداروں کے لے ذہ نکی بی تر یت طلوب ہے کہ
ا نکا جروس تصرف الد کے نل پرہواورصرف خر الوکارساز ۴ اک ہو وہ
اقامت دی نکی جدوججدری سمل قدم بڑھاتے ر ہیں ۔پاہے مقائ لک یقت
اورطاقت یلو ییوں ہو-
دعویٰ ایمان کی جانچ:-۔
مصااب کے وقت انسان کے ایما کی جای ہو ای ےا سے خودکھی معلوم
ہچاتا ےگوہ کت پاش سے اوردوسرۓگھی انداز وک لیت ہی ںکاس راہ
لکو نمس عدکک بمسکنا ہے ج بکک عالات مو بہوتے ہیں بہت سے
لوگوں کے بارے ٹم اندازہ بیکنیں ہہوسکتا کہ وافتی نصب اتی نکی محبت اور
زندگ یک بازی لاد ۓ کا فیس درے میں کے بسااوقات خودوچننش
اپ لی بے جوکے میں لا رتا لکن لیخت دق آتا سے
کھ را اورخوقا صا ف نظ رآجاتا ہے۔ از ا بک لڑائی نے بی کا مکیا۔ مد تے
ین مسلمائوں کےس ات اکھی نخائصی تعدادییس مزا فی اورکھوٹے ائمان کے لوگ
3 شال تاور در تج یکرعام ملمانو ںکوا نک پوزشع معلوم ہوجاۓ_
چنا نا لک کے وقت ا نکابرد: فا ہوگیا سمل خند قکھودنےکا کا مکھانے
پٹ اودآرام سے بے پروا ہوک رات دلن ای کک دیناء اتی بڑیی جحجیت کے
اٹ کے لے کیب جن رکوکر تما جو جانا او شی ہاش د نیک کن
خوف اوران یٹ ےکی عالت ٹل دن کا آرام اور را تکی نین رترا مکر ین کوئی
آسا نکام تھا ۔ ہین کے ولوں میں جا ایمان تھا دہ ان خیو ںکی تاب نہ
لاگے اوران ش سے بہت لے تو بول ا ےک اچھا رسول نے ہم سے تن
ونصر تکاوعد کیا تھا ابق پانسہ پا دکھائی د ےد ہا ہے۔ ہم جان گ ےک
”ال نے اورائ کےرسول نے ہم سے جووعد ہکیاتھاد ہس ایک دوک تھا وو اس
ایک ددلوکا تھا( سور ااب؟۱) اور بکھونے بہانے با زیشرو عکی اوراۓ
گھرو ںکی اط تکابہا نرک کے میدان ےکک گے نین ا کے پالتقائل
من انیٹ کے پنروں کے ولوں یسپ ایمان مو جو د ,أ۶ کھوں ے الع عالات
سے دوسرا تی اٹ لیا۔أخھوں نے جبٹو جو ںکوامنڈک رآ تے دیکات کننے گے
1
”فیک ہے بھی عالات ہیں ج ناخ راللدادراس کے رسول نے بیس پیل ىی
دے د نی بجی ےج کا وقدہاللداورائس کے رسول ن ےکیاتھا_ الڈاور
اس کےرسول نے کہا تھا۔ الن عالات سے الن کے انددایما نکی قات اور
زیادہ ہو اوردہزیادہاطانعت اورغرماں برداری کے لےآبادوہوگۓ _“
(سورو:ا7ابآیت۲۴)
کمزوری کی جڑ:-
جالن اور مال کےنقصاا نک خوف انسا نکی سب سے بڑ یکندری بلتقام
کور یو کی جڑ ہے۔اسلامالشرکی ذات اورا کی صفات پرج ط رب ایمان
لا ےکا مطالہکرتا سے اس میں بذیادی طور پر میہعقیدد شال ےک موت اور
زندگی صرف اللہ کے تج مل اع او رنتصان سب یھ اللہ کے پاتھ ہےکوگی
دوسرااییانئیں جومو تکوثال کے کسی طرع نٹ عکونتصان میں با نتصا لح
بدل کے بھی قیدرہ اور بی این مسلما نکی طا تک بفیاد ہے۔ بی نیاد
جن یور ہی اتب یکزرودری مسلران کے رکام مس صاف دکھائی د ےگیا۔
چناغچ ا ںکزرورب یکودورکر نے کے لج صاف فر ماد یامگ اک أامے نی !ان سے
کہدد جک ہاگرقم موت باقلی کے ڈرے پھاکو گےقو پھاگ نا تھی کوک ی فائکد و نہ
دےگااور ریش بتاد جیےکہ(دہ ریت ویش مک اگ اللد یف لکر ےک یں
کوئی نتصا نت جات ذو کون ہے جو أنجیں اللہ سے با لگا بارہوالز
الیل کا فیصلہ ہے ہ٭کہ ) ای ںک لق جپنےڈوولرزنٰ خایا سا رورات
دے؟ (أنیں یاد رگا اتا اللہ کےا ند انا ما
پبسہے۔'ْتوھریووممسہسم
پائہیں کے اورن در گار“ (سوقرزب ے٤
اکر تقد سی دل میس موجود ہل گر یی قدم پڑن کا کیا مطلب؟
انسا نک ہرنازک موق پراپنے ایا نک جا کے ءہناچاہے۔ بساادقات
اسان خوداپے بارے میں وھ کے میں ملا رتا ے اور انداز ا وقت ہوتا
سے ج بکوکی امخا نکادقتآ جا ے۔
رسول کا قابل تقلید نمونے:-
ای جنگ کے تکرے کے درمیان مسلمانو ںکو ہدای تکیگئی کہ
تھارے لیے رسولی انڈیصلی او علیہ یل مکی ذ مدکی ایک قام لتقلیدنمو تہ ےمان
اس سے فا دہ اٹھانے کے لے وپی لوک موزوں ہو سک تتھیں ای
طاقمات او رآخرت یں سے وانے انھا ما کی امید ہواور جوالْرتعا ٰکو بہت
زیادہ یادکرتے رج ہوں۔ اس موق پر ائل اسلا مکی جھتو ںکو بلند رکھئےە
انائیشد برعالات می ان کے ولو ںکومضبوطبانے اورپ رے انال کے
مات الل کنل پرپھروسہ رن کے لے رسول ؛دفرسلی ال علہ لم کے
استتقاال+ع زم نوک لعلی اوشداورصب رکا جنمونہسما سن ےآیادہ قیام تکک ان تام
بنرگان خدا کے لئے قاع لتقلی نوہ ہے جو الد کے دی نکوقائمکرنے کے لے
آمادہ ہو اورا راہ یم بڑھاگیں۔ ینموضدایا سے سےا یں زی ے
ہوڑیہسامتنے دنا اچ بچی ان کے لئ اصسل این اوت
بنوقریظه کا خاتمهہ:- ۱
اد پر مان ہو چنا ےک تل ال علیہ ریلم نے مریے می تش رہ یفلاۓے
- سے ل47 سس
تی مود ککیلویں سے معاہرے سیے تھے بپجدد نک نو کہوداپنے معاہروں برقا 21
ر ہکن پل راھوں نے ا نکوق نا شرو حکردیاچتا اہی فیا بر رکون ے
شن سے کال دیاگیاین ہخقریظہ نے پچھرسے معاہ ہکرلیا او رآخضرر یی انل
علی بل ےا نی این کےساتدان کےلتول میں رہ ےک ا جات دےدیی۔
جنگ ا زاب کے مو پر یودیی تال نے ہنوق رف کوسلرانوں کے غلاف
أکسایااورونگی جنگ از اب میں ش ربک ہو گے اوران معاہرو ںکاکوگی ال
او رفا ہکیاجودہتحضررت صلی ال علیہ یلم ےکر چے تھے ۔ جب ازاب کے
ال جھچٹ ےت آححضرت صلی ایشعل ےلم نے سب سے لیے ہنوق ری کیا
طرففوجفرمائی۔اود فی ہک یانکہا نکاس بدجہد کی مزاضروردگ چاۓ_
یہ بدگہدیی أنھوں نے اپیے ارک مورک یی ج بکرملمانوں پرقا معرب
امن ھآی تھا اور ظا ہرعالات یل مسلمائوں کے :یچ ےک یکوکی صورت بات ددری
تا :فرظ نے اپ ےگل سے غابم تکردیاکہ ووملراتوں کےکقی یئ اس
کے ہوۓ وشن سےکہیں زیادوخطرناک ہیں جہوکھ لک رحؤالف یکرت نت
اُنھوں نے سلرانوں سے معاہدہکر کےانھیں اپینے سے لمت نپھ کردیااویچھر
وت آنے پر صاف امیس دکھا گے اور سهمانو ںکوغیست ونا لو دکرن ےکی
کیٹ میں دوسروں کے ساتھول ھئے۔ چنا یر ان کےتلہوں کا محاص ہکریا
گیا ۔ ما ر+کوئی ایک مین ےکک جاریی رہ ادرآخرکارجور ہوک موقر کو ہتیار
ڈالنے پڑے۔ ا موںع برخودقة ریت کےا ام کے مطابق ان کےٹتلق بے
فی ایام یاکان کے تال جنگ لوٹ سیے جا میں با گرا رکر لے جانمیں
اوران کا مال واساب ض ماک رلیا جااۓے _س موقع پفقر ا ٭٭ اف رائنگی سے
0 یی لور گی جوا جم ماک کک راس نے تھکتک دیوار
بر سے پھر راک ایک لیا نکو ما ڈالاتھا۔
کحبہ اسلا مک اصسل مرکز ھا ا ے حظرت ابرائیم علیہ السلام اور ان کے
صاجزارۓحفرت اس احیلٰ نے الد ےمم خی رکیاتھامسلمانو ںکواسلام
کے اس مرکز سے لے ہوۓ اب بچرسال ہوچے تے۔ پچ راسلام کے اہم
کان بھی ایک اہ کن را لئے اب سلانو ںکی شید خاش تی
دہ خمانکعب یکا گر یی۔
خانه کعبه کی زیارت کے لئے سفر:-
وت عرب دالےسا لگکرلڑتے رج تھے تا مر کے م وت پ چا رینوں
مس وہاس ل ای بنرکرد ہے تےکہلوگو نکوکع بتک جانے اور وائی ںآ نے
کے لے الکن میس رآ جاۓ اوراس ط رح دہ انان کے ساق کی ےکی زیارت
میں ذوقعدہ ےب یم سآ تحضر تم٥لی اللعلیہ یلم نے مج ےک زیار تکا
ارادوفرمایا۔ بہت سے۳ ہا جرمن اورانصمارال سعادت کےہخنظر ج ےک کی ےکی
زیارت ہو چنانخ٭ ما سلمان ساتھ سے کے لے تیا ہو گئے ۔مقام ذو ایوہ
م رپ کرق ا یکیاتائی ری ادا ینیں۔ ا ط رح اس بات کااعلان ہوگیا
کیمسلمانو ں کا ارادوصرف نان ہکعب کی زیار تکا ےلڑائٗ یا لکل امکان
نہیں پھربھی ہخضر لی ال علیہ یلم نے ایک صاح بکو کے بھیچا کہ
ا رقر میٹ کے ادادو ںکی ا رلاکیں دو خرف ۓےک رق ریش نے تما قب کو اکٹی
کرک ےکہدد یا ےک یج( صلی العلی یلم ) کے نمی ںآ سے اور ےکر ووسب
مال کے لے از ہیں ۔ان لوکوں نے کے سے جاہرانیک مقام پر ابی یں
ناک نا رد غکردری اورمتقا بے کے لے الیل تیا ہو گئ۔ ٰ
قریش سے بات چیت:-
تحضر تل الف علیہ یلم اس اطلا کے باوجود گے بڑ ھت رے اورعد ہے
کےقام یک تام مکیا۔ کے سےایک من ل کے فا لے بعد یمن ای ککنواں
ہے اود ہبی نام ا لگا ں کا بھی پ کیا ہے یہاں تی اعد کے سردارحضر کی
خدمت یس حاض ہو ۓ اورتایا اٹ میٹ نےلڑائ یک جاری ار ہےاورد ہآ پکو
کےئیل ندجانے دی گآ پ نےفر ماکان سے جاک کرد وک ضر فعرہ
کے خیال ےآ ہیں ۔لڑائ یکر نا موی ہے میس خانہکعہہ کےطواف اور
زا تک مون دا جاہے۔ جب بہ پیا رش کے پا چا پیش ریلووں
نے کہ اکن میم کا پیا سن ےک ضرور نیس ےلین جید:لوگیں می
2ھ 0 ا یق مر ےاد پیک رو لکرواورشن چا اکر الد
علی کم سے با تکرت ہوں۔'چنا یرد واحضرت صلی ای علیہ یل مکی خرمت
حا ہوائین محائلہ تی 2ہو کا ال درمیا نتر شی نے ایک دس تمسلانوں پھل
کرن ےک یلیج دیا لگ ارک یے میلک نحضرت صلی ال علی پیم نے
انا ہر ای سےا نکومحا فکردیااور یھو دی گے ۔اب بر لے لاک اک
بات چی کرت ےکسا رت عخثان زشی ارح کو کے کیہیاجاے ۔ حر تع ان
کتریف سے تن ق ریش کسی طرح راضی نہ ہو ۓکرمسلمافو ںک وکس ےکی
زیارتکا موق دیاجاۓ بل أخھوں نے حخرتعناغ یھی روک لیا
بیعت الرضوان:-
یہاں لرانوں می کسی ط رح یق راز یک تفر تنا نشی رکردپ ئے۔
ار خرنے لاو ںکو ہے یی نکردیا ۔آ مض رت صلی او علیہ یلم نے ا تجرکو
نکرف ماب اکہ اب نے عثاغ کے خو نکا بدلہ ینا ضروری سے ممکہک رآپ ایک
ببول کے پٹ کے یچ یھ گے اور یہا ںآپ نے سا ہکرام رش القد مم این
سے اس بات پر ہت لک ہن مرجانمیں انان اڑائی سے منہنہموڑ میں کے اور
قرلیشی ےحفرتعثااغ کے خو نکا بد لاس گے۔ اس قول وقرارنے سلرانوں
کے اند تیب جو پیداکردیا اوران یل سے ہرایک شوق شہادت یں سرشار
کفار سے بدلہ لیے کے لے تار ہوگیا۔ اس :یع تکانام جییعت الرمواان ہے۔
اس کا ذکرقرآن پک می فرب گیا ہے اورجن خوش نھیبوں نے اس وت پہ
فضریلی الظعلی یلم کے دست مبارک پ ص تک ان کے جن میں الد
تھی گے انی خوشفودی یکا اظھارفربایاے۔
صلح کا ما مدہ:-
مسلمائوں کے اس جش زرل کی اطلا عق فی قکوکھی ہوئی اوھربیگی
معلوم ہوگ اک رت عثااع کے لکی اطلا انی ریش نے کیل بن روک
'نایر اک ربا کرو کے بارے می بات چچی کم یی لن سے دک
1
مجیجچجےمسےڑڑڑوچیمِم ےچ
کے بارے می بات چیت ہوئی ری اور خرکا مر ا کیاشرکیس نے ہوائی .سح
نا کی کے لے حضرت لی رش الشدعنہ بلاتئۓ گل ےر نا ٹس جب بی اگیا
کہ یہ محاہدشھررسول الل( صلی ال علیہ ےلم )کی رف سے ےت قرلیش کے
ممائندر سکیل نے اعت راف کیا لفظ 2 رسول ال “فی سککھنا جا ہے اسی پر
“ہیں اختلاف ہے۔ ناخ یآ حضرت لی الدعلیہ یلم نے ا لک بات مان لا۔-
اوراپے دست مارک سے رسول ال کے الفاظ ماد پے او رف مایق منھیں
بات کیا ہوالین میں خداکیشم اکا رسول ہی ہوں جن شرطوں پک
0
٭ ملمان اس سال واچں چے جامیں۔
٭٭ ےسا لآ میں او رصر ف تن دنہ رکروائیں لے جاتہیں-
تار اکر میں صر فو ارس تو رکھ سکتے ہی ںگرد بھی نیام یٹس ر سے
گیا با پر نال جا ۓگی۔
٭ کے میں جوملمان باقی دہ گے ہیں ان ٹس ےس کو اپنے ات نہ لے
جانہیں اوراگرکوئی مسلران کے میں والی ںآ نا چاےا أ بھی تہ روک -
2 کافروں پامسلمائوں میں سے اگرکوگی ننس مد ینیچ لا جاے وا دالی ںکردیا
جانےمیانکرکوی مسلمان کے مس جات ۓےتذوووای جو سکیا جا ۓگا-
پل پا ل حر بکواخقیا رہ اک وہمسلمانوں یالکافروں یں سے جس کے ساتھ
چا یں معاہدوکرین۔
٭ بیمماہدددس سا لکک تام رےگا۔
بقا ٹیس بظاہرمسلمانوں کے خلا فیتحی اوران ےصاف ظاہرہوتا تھا
. کیمسلمافوں نے د بکریاکی ے۔
مفضرت ابوہشل کا ضشزافلہغۃ
انفا کی با تکہ امھ ام نامہککھا ہی جار تھا کیل کے سے حضرت
جندلع کے ےکی طرع بھا کر یہاں تچ گے اور بیڑیاں پٹ ہوتے
ملمانوں کے سان ےآ کرک پڑےس بکواپئیبتاستائی اور جایا ضرف اسلام
قو لکرن کی مزا میں ا نکوکس یکس یں دی ارد یی ابوجند نے
آ رت ے ورخواس تکی”*ضضور! شھےکافروں کے بے سے پچ ر اکر اپنے
راہ نے پلییں۔' ہیل نے کوک رک ہ اک کے محاہر کیاکی لکامیہ پہلا
وٹ ہس نام کارە ےآپ اوجل کواپنے ساتڑایں نے جات ۔ ىہ
بڑا ارک موقح تا لیک طرف معاہر ےکا اہ دوسریی طرف ایک مظلوم
لان جس میم وّتم اس لۓ نوڑا جار ہا تھا کہ دہ اسلامقو لک چکا تھا اور
جوفر یا کرد پا تھاکراے سلمان چھا تی کیا غم شھے رکاذ روں کے پاتھ ٹیل درے
دنا جات ہوقمام مان ریصورت عال د کوک رتپ اھ ۔حضر تک شی انڈر
عنرنےق ریت لی العلیہدیلم سے یہ ںک ککہرد کہ ج بآ پ الل کے
نی ہیں ت2 رم یذلا تکیو ںگواراک یبا نآ ضر نے فر ماکز نس
خمداکا ٹر ہوں اوراس سک ےعمکی ناف مال ی نی سکرسکتا۔ خدامی ری دوک ےگا“
خر پیک سس نا ریکل ہوا۔ابوجند یکو نا ہکیشرط کے مطابی والئیں ہوناپڑا
اوراسلام کے فداکاروں نے اطاعحعت رسو لکای کت امتمان پا سک رلیا۔ایک
مرف بظاہراسلا مکی تذ نی ۔حضرت ابوجند لن کی عالت زاڑی اوردوسری
رف سو لک بے چون بر ااطاعتتی-
7حضرے صلی ال علی لم نے ححخرت الوجندل سے فر مایا: الوجندلٌ!
صبرادرضط ےکا م لوہ خدانھوارے لے اورمظاوموں کے سل ےکوئی راہ زا نے
گ۔ ا بک ہویچگی اور ھم ان لوگوں سے بدپ دی تھی سر ستے ے“ حضرت
اوجند لع کوایعل رب چیڑیاں نے ہودے الیل جانابڑا۔
صلع حدیبیە کے اثرات:-
تن نیل ہوچانے سے بعد حضرت صلی ال علیہ یلم نیعم دا کرلوگ
یں قربا یکریں۔ پیل ہآحضرت صلی اد علیہ یلم نے خودقر بای کی اود بای
منڈوائے ال کے بعد مان ےعھ مکی لکی کے بحدآ پجین و نتک
عیب شر تھہرےرہے۔ والپی مٹ سودہ من نازل ہوئی۔ جس می اس کے
واققطہکی رف اشارہکرتے ہو ۓ ا ے نہیں یی ہوک کھاکیاے
7 :9ٰ۶ یی
007 کان بعد کے عالاتانے صافطود پ دا
کرد اکر دی عدیٹ ےکی اسلائ یت ری ککی تار یش ایک مکی نے کاجٹی
تی 101 0090
ا بتک مسلراوں اورکاڈٹروں کے درمیان جن کک ییفیت ہاش اور
دوفو ف رگ کو ایک دوسرے سے لے مان کاکوتی موتع 07 مو
معاہرے نے ا لکیفی تکیپنخ کردا اود اب مسلمان اور خی سلم ایک دوسرے
.)۸ جلے عللد اورناپی کن اندائی اورقارلٰ قاواھع بوننا لو
ف سم بے ددع رک مع یآ او رہیوں وہاں رہکرسلماوں سے لت جتے
تھ اس طرع أشجیں اس نی اسلائی جماعت کے لوگو ںکوقریب سے دی ےکا
موقح ممتا تھا۔ یہا ںآکر وہ جیب رخ مان ہوتے تھے مجن لوگوں کے غلاف
ان ے ولوں میں لفرت او رخحص مرا ہوا تھا انمیں وو اخلاقیء معاملات اور
عادات یل اپنے لوگوں ےکہیں زیادہبلند پاتے تھ پھرو٤د کے ےکن
ال کے بندوں سے ہھ نے لڑرائی مول ل ےکی ہے ان کے دلوں بیس ان کے
خلا فکوئی نفرت اور وشن ی نیس سے بل ہآخھیس جو پچوخرت ہے دو ان کے فاط
عقاد اور ان کے اط طریقوں ے ے۔ملمان جو با ت کت جرد اور
انساخیت گور ہوگی ہوئی ۔ باوج داش ڑائی ےمان ان کے ساتح انال
ہھدردیی اورنن ساوک می ںکوٹ کی شدکر تے۔ پچ راس ط رع لے جل کی دم سے
خی رسلمو ںکواسلام کے بارے میں جو پچ شکوک اوراعتزاضات تے الن کے
متحل قبھی ہیں میں جات چی تک رن کا خوب موقع متا تھا او خی کو ںکو
معلوم ہو جا اھکر +اسلامم کے ارے یں مس درج انیو می بتاکر دے
جمئے تن کہ اس صورت حال نے مھ ا رےے عالات پیداک ردب کہ
خی سلموں سے ول خودہنو واسلا مکی طرف مچے گے او لی کی خاطیوں کے
جھہدےان کےلیڈروں نے ان کے ولوں پڈال رکے تے وہ سب اٹھنا
روغ ہو گے چنا خجراس معاہرے کے بحدصرف ڈ یڑ دو ری میس ات لوگوں
نے اسلام و لکیاکراس سے چیہ جو لی سکیاتھا۔ سی دوران ق لی کے
تح بڑے نا مورسردارتک اسلام سے متاث ہو ۓ اورغی سلموں ےک ٹفکر
مسلرانوں کے مرای بین گے ۔حضرت خالمد بن وید او رتحخرت عم بن الحاص
ایز مانے می اسلام لا اور اب اسلا مکا دائر واشر ای سکیا اور ا کی
طا قت اتی ز بردست موک کراب رای جا ہی تکوارنی مو ت صاف نظ رآ نےگی-
کفار کےلیٹ راس صصورت عا لکاانداز ہکر کے لوکھطا ےر لکوصافنظر
نے اگاکردہاسلام کے متقا بل ٹس نیقی با زی مار جانکیں گے۔ اب امیس ال
کےسواکوئی چارہنظر ہآ یاککردہ معاہر ےکوجلد سے جل دق ڑڈالیش اور اسلائی
ت رک کےخلاف ایک ہار پچھ رڈ فکرقحعم تآز میں اور اس بت ہہوئۓے
یلا بکو شس طرب ہوروکیں ۔ اس ماپ ہکون ڑن ےکا ذک رآنتندہ رن کہ کے
سللے میں اپنے مناسب مو پر ےگا۔
++
صواں ہاب
طاشن کے نا قطوط
حیلم سے پھواطمینان ہوا آححض ریت صلی الل علیہ یلم نے دقوت
ےکا پراوزیادہقفربائی ۔ ایک د نآپ نے اپنے اب وخطاب فیا
کا لوگو الیل تھا لی نے تام دنیا کے لے رصت بناک ربھیجا ےہ (میرا
ام مارکا دنا کیل ہےء اور بیس بکیے رمعت ہے )دیکھوشکی کےجوارییں
کی طراختلاف ت کرجا می ری طرف سے پا می سبکا پا“
القتتااش گن لات کےآف ما جرد مےیمی سآپ نے بدے
ک5 ے بادشاہوں کے ام وکوٹی خع می یت یرف ماۓ۔ جن نکو نےک راف عمابہ
ملف مال ککوییچے یئ ۔ جن دکوئی خلو کینفصیل تار سلتی ہے ,ان میں
سے چہ یہ ٹیی:
ٹریم -نکہے 8 م ضط عرت وک نے کر ےہ
فسرد پروپز اہ ابران کے نام خطا حضرتکمبداویری نٹ :اذ نے رگئے۔
زی مر ہے م عرت عاحب می الی تم
جائی باشاہ مجشی سے م رت عریںی لأ می
قیصر روم کے نام:-
قیصرروم کے نام جوخطا کی امیا ء٤دہریتھا۔
مکی ططرف سے جو خرا ما بئرہ اور کا ول ہے ہام ہمقل چورو مکا
رس کم ے۔
جوی رای تکی پیرو کر ےأ پر سلاتی ہوء اس کے بعد می ںت مکواسلام
کی دو کی طرف بلاتاہوں۔
الد تھا کی اطاععت وفرماں برداری قبو لکراوتة سلاممت رہو گے الل تق ٰیٰ
خ مکودوگا اھ دےگا۔ لین اگرم ے لئ دکی فرماں پرداری سے من موڑا و
تھھارے ملک کےلوگو یکا مگنا بھی تہارے او یر ہوگا کی ون نما رے انارک
وجرےاُ نکی اما می دکوت تل گیگی۔
اے ائ لکتاب! 37 ایک ایی با تک طرف جھ ہمارے او رحھارے
ددرمان کماں ہے۔ کہم الد کے سو الس یکا بنلدگی ضر یں۔ اس کے ساتھ
کک کش ریک ینہ میں اور ہم ٹس ےکوی الیل کے سوا کواپنارب نہ بنائۓے
مین اگرق اس باتک ماتۓ سےمنموڑ و( م صا تکہددتے ہی سک مگواہ
رہوکیہ و مسلم ہیں( می صرف خداکی اط عت اور بندگ یکر نے وا نے ')
ابوسفیان سے مکالمە:-
رت وح کی نے یخط ابص رکی میس حارتث خختا یکو جاکردیاجوال وقتت
قیصردو مکی طرف سے شام میس معلومستگرر پا ان اورال نے ا سے قیصر کے
پا لح دیا۔قیصرکوخی طاتة ال ن عم دیا ایر بکاکو ین نے أے نل
کیا جائۓ۔ اک زمانے ٹیل الوسفیان پر سمل حجارت اس علاتے ٹیس گے
ہو تے۔قیص رکےلوکوں نے ا نکودر با رٹ جن نکیا ان سے جو بات یت
ہویش ودےے۔
.ك0
7
۳
3
7 دجو تکاخاندا نکساے؟
وش ا نا ران لق رک ہوںں
- اس نادان می لی اور ن بھی خبوتکا دوک کیا تا ؟
ن:- کر
ج کیااس نخاندان ش لبج کو پادشاہگزراے؟
ن.۔ ھیہیں۔
٠ ہجناوکوں نے فرب تو لکیا ےد وکددلوک ہیں یاددات دانے؟
ن :- کترورلول یں >
ال کے چچردبڑھد ہے ہیں اکھلت جارے ہیں؟
:- برابرپڑے جارے ؟
:- کر ت0
0
بے کیادوعہ رداق ارکی خلاف ورزییجگ یکرت ے؟
ئت۔ اھ یکک اس نے بھی عبداوراقرار کے خلا فکوئی با تی ںکی
ہے۔اب ایک نا معاہدہ ہوا ہے ( سح ود یی )اس د کنا ہے
کو وعبدپرقائمر جتاہ پاکییں-
فیصز ۰ کاترن ےگا ےب تگکڑے؟
ابوسفیان :- پإگاے۔ ---
قیصر :۔ جک ا نج یارا؟
ابوسفیان :- ھی ہم یت ایی ا سکم وئی۔ ٠
قیصر :- ووکیاکھا تا ے؟
ابوسفتان :۔ و تکتا ہ ےکمیصرف ایک دا کی ینگ کرو کی دوصرےکو
کی طر بھی ا ںککا سابھی نہ بنا2۔ نمازپڑعون پک دامنی اقیارکرو۔
پولو۔آ یں ٹیل ایک دوسرے کے سا تم بای اودرمت سے یی ل51
اس بات جنیت کے بعلراس ن کہ اک ٹم پیش اجیھ ہی خاندان مل پیا
ہوتے ہیں ۔اگ رکوئی دوسرااس کے نا نان میں خبو تکادکوٹ کرجا ہوسکتا ھک
ا ںکا دگوٹیبھی خاندا نکا اش ھا جات اور اگر اس کے ناندان می سکوئی بادشاہ
ہوت مھا چاسکتا تھ اک شایدحلوص تکی ہیں می دہ برسب بکھکرد باہو ہاور
جب بجر باہو چک ےک راک ن ےآ دمیوں کے موا لے میں یگھو ٹیس بولاتذ
کی ےہا چاسکا کال نے خداکے موا لے میس اتنب امجھو کٹ لیا ہو کہ
ا سے خدانے اپنارسول بنایا سے )اود ہیی واقع ےکپ ہروں کے ابتڈراگی رد
پھیشفر جب لوک بی ہہوتے ہیں او رجا رہب ھیشہبڑھتاعی دنا ہے اور ینگ
کے ےکن سی سے وھک با فرب نم سکرتے ارم بی کے ہدکردہ
فمازہ پاک دای او رق ٹ کی ہرای تکرتا ہے۔ اکر یسب پچند پچ سز بے لقن
ےک کی کی دن ال ل کا قضہ میریی علوم تب کبھی ہو جا ۓےگا۔ یھ بر
معلو ق ھک ایک کٹ ہر نے والا کان می خیالی ندتھاکہد ہع رب شل پیداہوگا۔
ماگ راس جاسکن نو خودااس کے 2.00
قیھرے برخیالا تک نآراں کے در پارکیء پادرکی اور خلا نت نارائ ہو ۓے
اور پان لیشہ بیدا گیا ہیں تھر کےخلاف بفاوٹ نداٹ کھڑیی بای ان نے
یش دورٗنی جوتیص کے دل میس پیداہوردی اد بکردوکئی۔ ج ےی کول
کمن ےکی دیس دولت اوراق رئیا سب سے بڑیارکاوٹ نات ہوتے ہیں
شاہ ایران کے نام :-
ابران کشا رو رویز کے نام جوخعالکھادد تھا
”سم الله الرحمن الرحیم
حاون کے رسو لکی طرف ے بنا مکس ری رئیش انم فارں۔سلام ہس
ٹس پر جھ رای تکاپیردہواورخدااورال کے رسول پرایمان لاے اور پوگوائی
دےکہ الد کےسواکوئی دوسا الیل ہے۔ اود یرک ہمٹ تام انماوں کے لے
خداکی طرف سے پیا ہوا نم رہوں مک برنف سکو میں (ایشرک نافر مان )کے
برے انام ے ڈرا دوں تم بھی شی اطاعت وف ماں برداری قبو لکرو نم
امت رہو گے ) ورن نیو ںکاو با لھا ری رون یرہوگا۔
تسرد پرویز وی شان وشوک تک باد شا تھا۔ اس کے نز دکیک خ کک ےکا ہے
. انداز یقت نیف دوتھا۔ نس بی پیل خداکا نامء بل رخ کے وا لک نام
اور پھر پا دشا ہکا نامک گیا تھا وروی لکل ساد وط ر سیق سے۔ وہ القاب
وآداب اورنہوداندا رنہ جوا کے بیہاں راغ تھا۔فسروپرو یزاس خیاکو دچچےکر
چھلا اٹھا اور بولا۔' می الام ہوکر شھ یو ںککھتا ہے ےکہ۔کرنامہمبارک بھاڑ
ڈاا اوراپے مھکن کےگورن رگم بھی کہا نبوت کے دگوٹ یکر نے وا نوہ ڑکر
بعارے سا عاض کیا جاۓ-
ین ک ےکور نے دوآ ید ںکوخدصت مبارک می کیچ اک آ پک بل لائیں۔ اس
درمیاا ن ضر وروی کے بے نے ے لکردیا اوخ تکا ٦ الک بن ٹٹا۔ تب گور
ک کے ہو دفو ںآدی خدمتہ ارک می ح اض ہو ےت نی اپ بادشاہ کل
کاحال پمعلوم تھا تحضر سکیا علیہ یل موی بات انڈتھالی عم سےمعلوم
بھی چنا نے ان دفو ںآ یو ں وا وک داوف ایق لیس جا
اورگوٹر سے ہرد وکیا سلا مکی عکوم تن رو کے وا ال سلطن تک گی جب یلگ
کن والی ںآ ۓقےمعلوم ہواکہ واققی نسرو پروی کے کی الا درس تتتجی-
نجاشی اور عزیز مصر کے نام:-
تقر بای مو نکاخئشس کے بادشاومجا یکو ی ایا تاس کے جواب
بی ان ےکھا تک ننش ای دیتاہو لک ہآپ غخداکے جچ ہیں ای
نے حر ت تفر کے پاتھ پر اسلا قو لکیا تھا۔ جو ججر تکر ےش چلے یئ
ے اور نکاذکرال سے پیل ہر تک کے ذیل ی سآ یھی چھاے۔
عزیز مھ راگ چرخط ڑ ھکر اسلا مکجیں لایا لن أس نے خط لے جانے
والو کی مز تکی اورآنیں نے در ےگ رذالی ںکیا۔
++
گیارہوال باب
علومت اسسڑئ یکا ا شلام
دیندسے جب :لیر کے لوک کا نے گے فو دہ نہ می ںآک رآ باد ہو ئے۔
ایک مقام ہے جو بیدمنورہ ےآق رما ایل شال مخر بک جاب دا
ہے یہاںں کہودت ےکئی بڑےمضبو ط لت بناۓ تھے۔
یراس وقت اسلا یت ری کک مخا لف تکا سب سے ڑا ع رکز اود اسلام کے
لئ ایک سقفل خطرردتھا ج :کے بہودٹی ای مد یہ راس شد بد تم کا سب سے
بواسبب ہے ےج کا ذکرا زا بکیلڑاکی کے تحت ہو کا ہے کھمرجب ان
کی ىہ ال اللتعالی نے ناکام فمادی تذ اس کے بعد بھی سس ایی ریش
دوائیا ںکرتے رد ےکی ٗی ط رح اسلائ یت ری ککا نع تع ہوجاے ۔ ال
مقر کے لئ عرب یت قیلوں او رتوص ا قربیش کے سا تح ساز با کر نے
کے سراتجھ مات ُفھوں نے پر بی کے مناففتو ںکوکھی یدارا او رآ ٹین جزابر اکن
بات ےچ لئ جیارکرتے رےک گر ووسلمانوں کے انددر وک ال کا من
کاٹ کا کام تیزکردیں نے پچ رپاہر کے این مل کر کے اسلام کے خطرےکو
پھیش کے لئ مٹاڈالیں۔ بیو دکی بیسارل یششیںآحفحضرتمل ال علیہ لم
یٹلم س1ت رہتقتیں .1 ضر ت لی ال علیہ ےمم نٹ ےکوش ک یی رح
یہو ےکوئی مناسب معاہدہ ہوجاے اوروہاپقی ھرکقوں سے بازآ جا میں چناغج
اس مقعمد کے ل 1ض رت صلی اف علی لم نے خوچج رک بھی فرمائی کن ود
انی سمازشوں سے بازنہآۓ بیہاںک کک أھوں ن ملف تیلو ںکو بے پام دیا
ناک ما نی یا کر نر بر مرو بھمسھیں اپ خلستا نکی آبڑی
پیرادار پبییشہ دی اکر یں کے نت کہ یہو دکی سازشوں کے نج بیس بہت سے
قیلوں کےارارے نی ہونے سور اوس رت
2 ینہ پھلکریں۔
خودبڑھ کر وار کرنے کی پالیسی:-
اب کک سلمان اپنے ہیا کے ل ےر تے جے وشن ا نکش مککرنے کے
لئ ان پر چڑ ےکر اور انیس اپنی حفاظت میں ہتھیاراٹھانا بڑے ال تھا
کی مدان کے شال عا ہوک اور وھ کاپان اٹ مال تن ئے
دوس راغ اخقیارکرلاتھا اب ا با تکی ض رد تٹ یک ہا سلائ یت بک کے لیے
چہاں خطرہ أ رتا دکھائی دےذ ال سے پیلک دوخ ہی ککوٹ مکردہیے کے
لئ پوری ط رع مم ہوجاۓ اس پہ بط دکرخودوارکیا جاۓ اور ےش حمکردیا
جا اسلائ یئ یک کے قیاماودبچا کے لئ جہاں مدافعانہ جن کک ضردرت
ہے دہاں وق تآ نے پرخود بڈ ےک تم ہک نا بھی مات ضردریی ہے ۔ اسلا میک
ظا زندگی ہے بل تو رحیات۔ ا نظام او ستوکوقائمکرنے کے لئے
صرف اتقایکام میس ہ ےک خی اسلائی زنلدگی اورخیراسلائی دستورحیات ک ےم
بمدارو کی طرف سے ج بکوئی لہ ہوتو صرف ا کا چا 5کیا جا بکہال
دستورحیا تکوقائ مر نے کے لے دو وق تکھ ی7٠ سے جب دوسرےآظا مو ںکو
اکھاڑنے کے لئ خود ہہ کوجدوچھدکرا ہوثی ہے۔
نگ از اب کے بعد اسلائ یپ یک اس دورمٹش داشل ہوی یت یک ہ اپ
صرف دفا گا مکی لڑائیاں بی کاٹی ٹیس بلہ اب وق تآ گیا تھا کہ جب
ضرورت پڑ ےت خود ہو وکرخطرےکودورکیاجاۓ چنانچہ جک از اب کے
ہونے کے بعد تحضر صلی او علیہ یلم نے بی ارشادف مایا ھک ”اب ایبا
ناو اکرلو گ جم پچ کر تتیں گے بی اب ؟ خ وذ لکرتملیکر سی گے۔ ا
خیبرپرحملہ:-
اب وق تآ گیا تھ اک ہت رکے ببودلوں کے بڑ ھت ہوۓ لے کو بروقت
روکا جاۓ ناخ آحضرتلی الطرعلیہ یلم نے نیب بہت کی تیاریاں شروں
کردیسں ۔اور بہودگی جاٗب سے ہج نمو لکااند یش تھا ا نکورو کۓ کے لے خود
دی سے گے یرداق ہےہچکا ہے۔اس لے کے لئ جوفوج سات نی
اں 1 ۔ ٹن میں دوسوسواراور پا 1 پیرل تے۔
تی ریش چ یع اوران میں ہیں ہزارسپابی موجود تھے ۔ تھب نے یھی
ج بآحضرتی٥لی الل علیہ ول مکو یلقن ہوک یک داقتی یہود پک بی کے لئے
آمادہ ہیں اوددسیمنوان پر معاہرے یا کے لے شیازکیس ہی آپ نے سحابہ
کے سام جہاد پر ایک خطبددیااورآنیں الد کے دی نکی اط رجا نکی بازگ
لان کی تیب دی ۔آقر یا ہادن کے محاصرے کے بعد اللہ تما ی نے
لہ موضح القرآن۔ شا وبدالتقادرصاحب .سور اتزاب- ۱
لاو ںکور دی اس نگ مل ۹۳ یبودکی بارے گے اور ۵ ارلمان شبید
ہدےء یبودکا ایک بڑا پپہلوان مرحب ححضر تک کے پاتھ ےج ہوا اس
یلوا نکاماراجان ای کیم الشمان دا ھا یڈہ ا يک طاقت پرپڑااڑھا۔
کے بعد یپودییں نے درخواس تک کہ جھ ھت ابکگ ان کے پان
تی دہ اگ ران بی کے چیہ میں پچھوڑ دىی یا میسو وم لاو ںکو1 گی پیراوار :
سے ٹن گے احضرت صلی اش علیہ لم نے ا نکی ىہ ورشواست منظور
فرمالی ۔آنندہ سالوں بیس اس نصف پیدراوا کو حاص لکرنے کے سللے شس
ملمان عاکھوں نے خوانصا فکاطر یق یہودے تاس نے رفت: رفتان کے
دلو ںکڑی جحیت لیا ملا نگم پیراوار کے دوڈ ع رلگادتنے تے اورکا شکارکو باقن
دے دہش ڈ ھی رکا چا پندکر نے-
مسلم معاشرے کی تربیت:-
بک اعد کے بعد اسلائ یت ہیک کے لئ بیردنی خطرات جس پیانے بپہ
بڑھ گے تھے ا لکااندازہ نگ از اب اوراس کے بعد کے واتات سے ای
طر ہوکتا ہے یز مانہبڑئی لکش کا مان تھا ین اس کے باد ہش یک اسلائی
کے دائی ( صلی ان علیہ لم ) جن طر ایک ہوشیار جز لک حثیت سے ان
وافعات سے نٹ ر ہے تھے ای ط رح دہ ایک متام اخلاقی اورم بی ورک یکی
حیقیت ہرک 7 بردارو لکی تھ ہی تکنی فرمارے جے اوران لے
اسلائی معاشرے کے لے جن ضوااورقوائی کی ضرور یھی ا نک تھی بھی
ا عم صصورتوں مڑی سور) نما اورسور٤ ماکدہ
ْ
کے مطالعہ سے انداز و ہوتا ےک از مانے میں اسلائیکرداراو سکم مجاشرہکی
تق سے لن ےکی ےکیے!برقو این او روا کی الیم دیگئی۔
سو ر٤ ضاء چواد رش وش مخلف اوقات یس نازل ہوگی ہے۔ اس ے
اندازہ ہوتا نک اس وقت نکر لی ول علیہ سم اس نی اسلائی سو اک یکو
مسططر پرانے جاہلی یح درواع سے پک فر اکراخطاقی :دن ءمحاشرتء
میقت, کے تۓ اصول برح رفمار سے تے الد تا یکا طرف سے ال
الما نو ںکودائ پا بات دئی جار ام سںکذواپ شی زدگی کے ساط
مات اپنی اہی زندگ یکوکس طرع اسلام کے ط ربنقوں بر درس تک بی۔
انی نا ندرا نکی تیعم کے اصول بتاۓ گے .مکاح ادرطلاقی کے بارے ش
دا ہدایات ری یں ار موق سے موق تی نکر کے سا کی
بہ کی خرابیو ںکو دو رکیاگیا۔ چیمول او رکھزوروں کے تقو قکی خفاط تکی
5 دک یئ وراخ تک یم کے اصول ہناۓ سے شع دجن کے معالا تک
اصلاع کے لئ ہدایات وٹ یگئیں ۔گھریلو نزو ںکی اصلاح کے ری
اسیو رو طہارت اور اکن گی کے
ام دے سے _ سلمافو کو اۂگیاک ایک تک انسان انی درا
کے بندوں کے ساتح کیسا ہونا چا بیے۔ ساتھ ہی ساتھ اب لکتاب کے خلط
رویوں اور نا منا سب ط رز زندگی پہتقی دک کے ایکطرف ا لکتاب پرا نک
فللیاں واش جک گنیس اوردوسری طرف خودملمافو ںکو یہ مچھایاگیاکہ دہ ال
تع کی فلطیؤں سے نے رہیں۔
اسلائ یت یک کا سی دہ پپہلو سے جم سکو درست ینکش سے پاظن ہے
ما لے می ںکامیا لی حاص٥ لنییس ہوکتی۔ اسلا یریک کےعلم بردارو ںکو نہ
صرف اپنی ذائی حیثیت میں اخلاّی اغبار سے باشل پرستوں کے مقا ےش
اونچاہدن جا بے بللہبیںگی ضردرکی کرد ہ ایک مشالی موا شر ٹیک میں جوقود
زہان عالل سے غبراسلای محاشرے کے مقاٹےے میس اپیا بر کی بت
کر کے اس متصدد کے تصول کے لن کسی امام مور بناو فکی ضرورت
نیس تی بلہ جبکئ یک ک ےلم برداروں می تق کی اوراصا نک یگیفیت پیدا
ہوئی تب ربجی صاع بآم ہونے مگتے ہیں۔ ایک نیک اصلائی اورانظا ی
ت یک ای اختبار سے دوس ری تھا مج رککوں سےمتازہوٹی ہ ےکی اپ نے پچرووں
کیتلیم مت بیت اود کیک رف ال سےکیں زیاد تعفر مات ےء اوہ
اپ مالین می دگحوتکاعن اداکرنے کے لے بے ین ہوتا ہے۔ نی
اتا زیی خوصییت خودسورۃٗ نما کے مضا مین می بھی موجود سے خورہ یں
چہآں اخلاقی تن اور محاشرت کے بارے میں تو این بیان بہورہے ہیں
وہاں ساتھھ ہی ساتھ ذکوت و ک پہلوگی سیا سے اورمش کین اور اہی
کتابکو برابر دن ن تق کی طرف دیوت دی جاری ے-
سی حد یی کے بحدتقر با من بے“ یی سودہ ماندہ نازل بوگی۔عدیبے
کے سی نام ہک روسے ملمان اس سال موی لک کے تھے بللہ یہ بات لے
ہو یک ہآ پآ تندو سال کی ےکی ذیارت کے لے آ میں کے چناغچ اس
مر لے سے پیل کیج کی زیارت کے سللے مٹش بت سےآداب بتائے گے
اورآئجیں پیم دئ یگ کیا فرو کی زیادقی کے باوج دملمان اتی طرف
ےکوی ز یادتی شک ی- :
شس ز مانے میس سورہ ما تدہنازل ہوئی ان وق تک ضلانوں یاعالت
کا بد لگ یھی اب دو وقتنئیس تھا اسلا مکوچاروں طرف سے قطرے ہی
خر ےکھیرے ہوۓ ون ینا کہ بنگ اعد کے بح رکیفی تی بالہ اپ
صورت عالی بن یکہاسلا مک اپ ایک طاقتتی اور اسلائی ریا ست کان گنِل
12 ی۔ مہ بیندکے ارد طرف ڈیڈ ڈیڈ جو دودو سز لک تا ماف تیلوں
کا زورٹوٹ کا تھا اور ہی ۓکوبیہودلوں سے جو ہروفن تکا خطرہ تھا ا سکاکھی
ماقم و کا ا- جا ںہیں یبودیی بای کی تو سب مد نی ےکی ریاس تکی
انی قو لکر گے تھے۔ خرس بیےکہ اب صاف نظ رآنے لگا تھا کہ اسلا جض
چنارقا کا وص بینیس ہے جے عام اصطلاع “رہب کہا چاے اور
جس کاعل تصرف انسانوں کے ول اوردماغ سے ہی بد بن دہ ای مل نظام
زم ےن سکیاتلق انان کول اودد ما کےعطادہال لک پودکی زندگی ے
ہے۔ نس می علومت اورسیاست ہم اور جک بب مو شائل ہے پل ربیگھی
واج تھ کراب مسلمان ات طاقذا ہو گے تھےکہانھوں نے جس نام زندگی
یی دی نکونو نب وکرقجو لکیاتھااں پر دای بلاسی روک ٹوک کے زنرگی یم
کریں۔اورکوئی دوس افظام زخدگی یا اون ا نکاراست نہ روک کے اورساتھ دی
ساتھاپنے ا دی نکی طرف دوسرو ںکودکو بھی و ےگیں _
ان و ق کک مسلمانو ںکی اپئی ایک تہذ جب بن پگ تی جودویروں سے
متاز ہوئی جار میتی ۔ان کےا خلا :ان کے ر نے سے کےعل ر بی ان کے
معا لات نٹ م کہا نکیا زندگی کا پورا ڑھچ اسلائی اصولوں کےکحت ڈھاتا
0ا بڈپڈ, ,- ص - )]
اخقیارکر گے تھے۔ ان کے اپنے داوالی اور جداری کےتوانمین تے۔ اتی
عداتںتیں لی ون اورخویفززت کےا ین رپ تھےں وزاھٹ'
ایک تل تانون تھا۔طلاقی 00 02 ےمعاططات کے
لیے ان کے اپنے قوا نین اورضا لیے تے۔ انا یہکران کے امضے نیٹ رکھانے
ہین ء سے جکے کےآ داب کے بارے می بھی وا مغ ہدابات موج دیس اوران
تام چزوں نے لک اسلائی مع شرے اور اسلا ئی لر بقۂ زندگ یکو دوس رےتام
خی راسلائی معانشروں سےمتاز ہناد اھ اور رسب اس تز بیلت انی مکا نی تھا
جن سکی طرف رسول ای٥کی ال علیہ لم پر قیفر مارسے تھے اورنس کے
جم سلمانو کا ذنرکیاں پاکیزدے اوت دق جارتتیں-۔
سودہ مائکدہ می سفرں ک ےآ داب ہکھانے پیٹ کی چیززوں یں حرام اور
علا کی قیٹرہ وضو نل اورھم کے اعرے ہخراب اور ہجوت ےکی طضتء
قافدن شہادت کے بارے مس بدایات اورعدل وانصاف پرقائم رٹ ےکی
تاکیدروغیرہ ےم وضو لت ہیں جواسلا می معا شر ےکی فمیہر کے لی انزس
ضروری تھے اوران س بکی طرف پوریقجردئی جار تی -
ادائے عمرہ:-
کا ارک ایک شر پش ی کہ مسلمان ا کے انال آک رعمزہ
نی چنانی اگ سال شی ےچ سآتحضرت لی الطدعلی لم نے
ملائتوںکی نک بت گی تن داد کے مات کک زیاز تک ۔ ایم وت حا
سرت او رج لک ای کف جیب ککیذیت طاریینھی اس منفظرت ےکفارق ریش کےولوں
مود ہوئی <سدا تحص بک یآ گکوادرکڑکادیاودراب انیس اناد اجس
!فھوں نے اپنی خوا بل کے مطا ا اپنا لہ ھا رکھاتھا :نظ رآ آے لگا۔
رن
حدیبیە کی خلاف ورزی:-
نا مکی درو سےعرب کےقیلو کا یقت لی مکیاگیا تھا وہ
با ای کرای ۔ چنان ای شر کی نا
قب خزاعر نے ملمانوں کے ساتحھ محاہر کرای ھا اورقیلہ نوک رق ری کا ای
می نکیا تھا تقر ڈ یوما لک نت یں معاہرے پربپدطر مل ہوتاز ان
اس کے بح دایک نیا واقہ ین لآیاکیخمزاع اور نوکر کے قیلے جوع رص ےآئیل
یں لڑتے رسے تھے ان کے درمیان پل رلڑ گی مچٹرگئی جم سکی ابتقداء الس رح
ہوئ یک جنوبکر نے نخزاعہ پر چڑھال یکردیی اورقرلیش نے ہنوب کی امدادک یکین دہ
پل ی اس بات پر فقذاعہ سے نارائ ےک أخھوں نے ا نکی مرشی کے خلاف
ملرانوں سےکیوں معابد کیا تھا غش کہ دطول نے لک فی لہ فاص کے
لوک ںا لکرن جرد عکردیایہاںک کک جن نھوں نے باج ےکپ نا و2
وا ںجھی ا نکوتچھوڑ اادرترم می ںپھی نز ا ےکا خون بہایاگیا-
خزای نے جبور ہوک تحضر تس٥لی الد علیہ وم مُوعالات سے اخ رکیااورال
معاہرےکی ذیاد یر جوأنھوں نے ضر لی اللرعلیےب یلم کیا تھا بدد کے
طلبگار ہو ےپ نے جب نز اعدکی مو یکا حال سنا نے آ پکوخت صدمہ
ہوااورآپ نے ق ریش کے پاس ایک قاص مھا ردہاپنی کت سے با ز ”یں
اوران شریوں یس ےکی ای ککوقو لکرلیں۔
اسنمزا کے ججولوک مارے گے ہیں اا نکاخون بہاادائکیاجاے یا
۴ق رلیش موب کی ایت شدکر بیی۔ یا ئچھر
۳- اس جا تکااعلا نکر دیاجا ۓےکرحد یکل نات ہوگیا_
ادا کے ذ رید پیا نکرقریش میس سے ای نٹ لق ط× حر کہا
کی میں صر فتےری ش امنور ہے اص دکے لے جانے کے بحدنھحیں
افنیں ہوا اور أخھوں نے پھراپنی طرف سے ااوسفیا نکوسغی بنا ربھیا کہ دہ
عد یدن ک ےنا کاچ وک را میں ۔لیا نآ حضرتت لی ا علیہ مل رکوجوحالات
معلوم ہو گے تا نکی جفیاد رق رین کے ابکک کے رو بے کے ٹی را نکی
ال بات پرامونالن نہہوااورآپ نے ابوسفیا نکی بات ور نف الی-
مکے پر حملے کی تیاری:-
ما کت نے حید ملع کاو ہم رکز تھا شےحضرت ابراڈیم علی السلام نے لئ
خداکی عبادت کے ےی فر ما یاتھلیان وہاچ یک شرکوں کے تی میس تھا اور
شر ککاسب سے بڑاگڑ ہن بنا ہواتھا ضر لی ال علیہ ےمم حضرت ابرائیم
علیرالسلام کے دین کے دای جھاور نال حر سے م بردار۔الاغپارے
لا زم تاکن حید کے اس مقدس عم کونشر کک تھا مگندرگیوں ے جلر _ےجلر
با کیا جائے کان انجھی کک عالات نے ا لک اجاز تنہس دب یھی گر اب
آحضرت لی ال علیہ یلم نے ببانداز فر ال اکراب وف تآ گیا ےکر الد کے
اس مققد لگ رکوصرف ا کی عبادت کے ل فصو سکرلیا جائے اور ہت پہقّا
کاتام نا پاکیوں سےا ںگھ کو پا ککردیاجاتے۔ چنا مآ حضرت صلی اللعلیہ
لم نے ان تھا قیگوں کے پاس پیا مکی جن سے معاہرے تے اوراس بات
گی اعقیا طف مال کہ کے دالو ںکو اس تار یکا خمرنہ ہونے یاۓ جب سب
تاریاںںیھل موی آحضرتس٥یالعلی یلم نے *اررمضان کن ۸۹ کو کے
کی طر فکوج فما اق دس برارجاں شارو کا خہایت شان دا شک رات تا
اورراتے ممل عرب کے دوسرے تیلدچھ یکرت جاتے تھے۔
ابوسفیان کی گرفتاری:۔
اسلائینشکر جب کے کے پا پا اوسغیان جوجچ پکرشگ رکا ندازہ
کر ہے تےکر فا رکر کےتتحضرت صلی ول علیہ ول مکی خدمت می بی سے
گئے دی ابوسغیان ہیں جوا بتک اسلا مکی مخالفت ٹس بہت ٹیش بی سے
ُنھوں نے ہی با بارھدتے پر تل کی سانگی ںکیھیں یہا ںک کک آحضرت
می ال علیہ یکو لکران ےکی خخیہغ ایی کیاکی ۔ یسب بات الیکھیں
کہابوسفیا نکوفو رأ میق لکراد بنا چا ہے ھا لک نآفحضرے نے ان پہعبربا یکا
رڈالی اورف رما اک جا ہآ تم سےگوئی باز یں نکیا جا گی ۔انڈرشھیں
محا فکر ے وہ سب رآ کن والوں ے پڑ کر رق مکمر نے والا 9
ااوسغیان کے سا سے محاملہ پالنگل بی انوکھا محاملہتھا۔ رحمت ملعال نکی اس
ررقت نے ابوسفیان کے و لکی ہنی کھول میں اور نحھیں یمعلوم ہوگیا
کہ کے پرفو نع لےکرآنے دالا نہ اپنے دشمنوں سے بدلہ لیے کے لے
ان کے خو نکا پیا سا ہے اور شدد نیا دک بادشا ہو ںکی ط رح مفرور وشگیرے
بجی ویش یک اکچ فضزنت نے ابوسفیا نکوآز ا کرد یلین دہ کے والیں
نہ گے بہ اسلام قبو لکر کےآ تحضرت صلی الد علیہ وسلم کے جال ثثاروں
یس شال ہو گے ۔
مکے میں داخلة:۔
ا بآفحضرت لی ال علیہ یلم نے حضرت خالد بن ولیدکوگم د کت کے
کیا ایک جانب سے دائل ہو نس یکذ زہکرنہاں اک رکوئی تم پر ہاتحھکچھوڑے
و اپنے پیا لح بھی ات ُٹھان ےکی اجازت ے اورخودآخض رت لی
ان علیہ لم دوسرکی جانب سے داخل ہوۓے ۔حضرت خاللدکی فور کے ما لے
ٹس پچھوق ری یکقیلوں نے تیر برساۓ اورمسلرافوں کےتین اغراوکوشہیدکردیا۔
ای لج حضرت خال واھی مق کر نا یڑا او ملک نے والوں کے ۱۳ ءرافر ال
ہہوۓے ادر باقی پھا گکھڑے ہو ے۔ آتحضرت صلی الد علیہ ول مکو جب
صطرت خالد کے مج ےکی خجرہوکی آپ نے الع سے باز یپ کیا ۔لین جب
ال واق معلوم ہوا تو فرمایا۔” قضاۓ ای بج اتی دوسری طرف سے
آحضرت لی اللہ علیہ ؤعلم کے بس بلاسی عزانت کے دائل ہو او رآپ
کلک کے پاتھو ںکو یل تہ ہوا۔
200
مکے میں امن گا اعلان:-
/فضرےصلی ایل علیہ لم نے کے میں داخل ہو تے جس اعلان ریا
ا وت
اس جوکوئی اپ لان کے اندرکوا نکر کے یر ہا سے اصع ہے۔
۳ جوالوسغیان کے مکان یس دائل ہو جا ۓ ا ےھ الکن ہے۔
۳۔ اور جوکوگی انکیٹ پناو نے ا ےکچھی اکن ے-
لین اس عام اکن کے اعلاع سے ایے جچھ یا سا تآدمیو کسی ف رما
دا تھا جو اسلا مکی عخالفت میں بہت پیش ہیی تے او رج ن کات نکر ینا ہی
ضرو ری تھا۔ :
ٹیک را لی ال علیہ لم کے یس اس شان سے دائل ہو ےکی پکاعلم
سغید رن ککاتھااور پر چم ساد رن ککا۔م رب رمغفراوڑ ھھ ہو ئۓ تے اراس پرسیاہ
عمامہ بنزھاتھا۔ سور ”انسافصحضابلنرآواز سےجاو تفر مار ہے کے اورالر
تال یکی جناب میس ضتو وضو عکا ری عا لک تھاکیٹس اوٹف پرآپ سوارت ال
پآ پ اس فر نے ہدئے ےکم چچرٗ مبارک اون فک پیٹ برل کلک جات تھا۔
خانۂ کعبه میں داخل4:-
آتحضرتے٥لی اول علیہ یلم جب مو دجام ( کی ) می داخل ہو تو
سب سے پیل آپ ن عم دک رتام بت ٹا لک ھنک دی ایی ال
وق ت کے مش ۳۷۰ بت موجور تد اواروں توب بی ہو اتیں
بھی سب مٹائ یگکیں اور اس طرح الد کے ان لگ کشر فک یکن دی سے
پا ککیاگیا اس کے بعد آپ ن گی ری ہیں ما نہکع کا طوا ففر مایا اور
عظقام 1برا ئیم بر چاکرنمازاداکی یس برتھا جن کاجشن ہے د ےکر کے والوں
کی ہیھمی ںکھ لگگیں۔ أُفھوں نے دیکھا کہ ایک ای خفی اور ای
ز بروست کے مو تع بھی ان لوگوں میں ندشمان وشوک تکا ا ظہار ے اور
مرو وگب رکی اق بللہ انچاکی عاز می اور شر کے ساتھ یا اپنے خدا کے
سان جککہ جاتے ہیں اور ال کیج او گب ری مست ہیں ۔کو ن تھا جوایں
منظرکو دج ےکر بی ہک راٹھتا کتقیقت ٹس مہ نہ بادشاجی ہے اود نہ کگیرنا
بللہ بی یچگواوردی ے۔ ۱
فتح کے بعد خطب4:-
کرک یتیل کے بعدآپ نے ایک ایت انم تارینی خطبہارشادفر مایا
ا ا اک رر ۲
”ایک اللہ کےسواکوئی االننیس ہے ۔کوگی ا سک ش ری ک ہیں جے
اں ے اپناوعدہچاکیا ای نے اپے کر ےک دوگ اورقام
جتھو ںکتھا تو ڑدیا۔ ہا رن لوقام مفا خر ہخمام پران ےش او رخ
کے بد نے اورتمام خوں بہا سب میرے فلرموں کے یچ ہیں
صر فکی کی قولیت اورتوا کو بای ا ا اس سے سی ہیں اے
ال قریل! اب خدانے جاہلی تک خروراورنسب پبظ ررناخٹادیا
ما لو گآ دش رکیل سے ہیں اور ڈنٹی سے بے تھے“
رف رن پاکس یک یا مت پڑی:-
”وو ہیس نے مکوانک مر داورورت ے پیداگیااورنسا رنے
تل اور خاندان بنا تاکتم نیل مج ایک دوسرے سے
پان لیے جا نیشن خدا کے نز دیک شریف دہ ے ج زیادہ
یرہ زگارہو۔الشجاثٹۓ دالا اود باقھرے۔“
(ثجرات٣)
ان کےساتحدىی چنددوسرےضروری مسا لک یپھ یلق نکی۔
بے ہے ان تق رمرکاانداز جوا سلام کے فا اعم نے اپنی سب سے بین
کے ببععدکی۔ اس میں مخالفوں کے غلاف نہکوئی فصہ سے شافرتء ناپ
کانا مو ںکاذکر ہےاورن اپ چاارو ںک یتر لیف .ریف جو گے وواں
ایک ال کے لے ہے جوبھوادوسب ای کےا لکا نج ے۔
عرب می لک لکابدلہ سی ےکی بی ابی تیگ نخاندا نکاکوئی شک سی کے ہاتحد
ےکی ہوجا تا نذا ادا نکی یادداشت مس اس واق افو کردیا چا جا اور
برسوں کے بعدیگھی نے والیتسلیں جب کک انل کے خاندانع سے منقت ل کا
بلہنہ لے یں .یں چشن نآ ۔اسل مو پآ پ نے ای تام خون کے
بداو ںؤ خمکردیا۔ یں کی ےکر بکو موں ایک ان اورجی نکی زنرگی
عحنابیت فربادی پگ رع یوں ٹیس خائجران اونشل پٹ رکرن ایک بہت انی بیارل
تھی۔اسلام کےےنزدیک انان اود اسان می کوئی اشازاس کےسوادرستنش
ےک کون الد کے اجکا ماس دیچ ٹل اطاع تل ار ہے جج جقتنا اش کے
اکا مک پابند اور ال لک خوگی سے ڈرنے والا ہے دہ اتا ھی بز رگ اورشریف
ہے شس لک شرافت اسلام مہ لکوئی یش ے نانداوں تلق صرف ایک
دوسرے کے تارف کے لئے ہے۔الل کے رو نے اس مو راس مار یکو
بھ یٹ پر مادیاادرتمامانسافوں کے درمیان ال مساوا تک اعلا نف مادیا جآ
تک اسلام کے سو ای دوسرے نہب نے انس فو لکویس دکی ہے_۔
عام معافی:۔
02 کےسا ٹن ےآححضرتۂلی ال علیہ لم خطبرارشادفر ارہ تےاں
ریش کے بڑے بڑے مرن موجود تھے۔ وی تھے جنھوں نے اسلا مرکو
مان کا ڑا ٹھایا ھا و وجھی تھے جنھوں نے مسلمانو ںکوا تا ستایا تھا وہ اینا
ین کچھ وڑنے پرھبورہوگئۓ تہ ووکھی تھے جنصوں نے مسلمانو ںکی چانناووں
پر قضرکرلیاتھااوردواھی تھے جخھوں نےآحضرت صلی الل علیہ ول مکوگالیاں دکی
تن ات پ کے رات یں کامۓ چا جے۔1 پ پرکوڑے کے لوکرے
ڈانے تےاورائچ وکیآپ کی لک ۴ون مان یم آفضرں
٥لا الع لم کے پچ کے دقات بھی ھے جوا نکا کا نوا لکر چنا سے سے
اورووگھی تھے ہجنھوں نے بہت سےمسلمانو ںوصرف ای لی لکیا تھاکہ وہ
ایک دا کی بند یکا اعلا نکر تے ےآ رتہصکی العلیہ یلم نے انسب
کی طرفدیکھاادد یو ھا کہوہ نج تم جا نے کراب می ںکھا رے سا تج وکیا
معامہکر نے والا ہوں؟' لوک د کیہ گے ےکہائش کے رسول نے کے میں
مم سط رف مرکھا ہے ادرا نکاا بک ککاردمیکیار پا ہے ۔فوراہول ا ٹھ:-
آ پ شریف بھائی ہیں اورشریف بھاکی کے بے ۔“
بی نک رخف تی٥ ای علی ےل نے ارشافر ایا:-
”جا ٥آ تم برکوگی ار امنیس بقم س بآ زادہو۔“
جن لوکوں نے سلمانوں کےپچھوڑے ہو نے مکانات برق ضکرلیاتھا-آپ
نے ا نکیھی وائی ںی ںکرایا۔ بل ہا جروں سےفرمایاککرد و ای نے سے وست
پروا رہوج ” یک ۱
ن یکر مسلی الل علیہ یلم کے اس خی مو برتا کا اٹ ہواکہ بڑے بڑے
عرش قرموں میں تےاورا ھویں نے اعطا کرد رون یآ پ ال کے ول ٹیں۔
کت کرنے والے ہادشا یل ہیں اورپ جو وت دتے ہیں دیق ے-
یقاً کک کانقضہ۔ ین زین جاحدادادد مال بر نت لاس کے ذرلجہ
دلو ںکوجی تل گیا نوز یی بی ی۔
زوء مین
فتح مکە کا اثر:-
)خضزت کی ال علی ےم کے رحمانہ بتا نو اورمسلرانوں کےکیل جو
سے ایک طرف 9 ا یں وت رق درجوق اسلا قول ان گے اور دوس ؟ 1
طر فک ہے ہن کا تا عربیقیلوں پر پک افھوں ن ےبھولیاکہ دای
اسلا مکی طرف دکوت د ہے وا کو یعکومت اور ول تکا انیس سے بل ال کا
ری ےپ راس وقتکک اسلاماورا سک یتوص یا تکوئی ڈع یچڑی چ زنہ
رڑتیں بن ربا تا معحرب جا نگیا تھاکہبہدگو تکیا سے اورجنن لوگوں کے
ولوں میس صلاحیتشی دہ جا تےکیقن میا ہے چنا کہ ہوتے می عرب
ےکور ےکوۓے ےےمتل فتییاوں کے وثود نے گے اور اسلام قبو لکمرنے
گے۔ بیصورت عال ای یکہابھی جن لوکوں کے ولوں میں اسلائ یت بک
کےخلا فنخرت اورخصموجودتھاوہ ا سکیف تکو دک یدک اجکی نے ین ہو گے
ان کے اندزتتصب اورخا لف تک ین ک بن رک بشھی۔ اس اتہار سے ہوازن اور
ٹتیت ا می دو تیلے نٹ ہنی تے۔ بیو ےکی بہت لڑرنے وا لے لوک تجے اور
اعلا مکی تر کی دکیرکرانچاکی بے ین تھے ۔أھوں نے پل کہ کے کے بعد
اب ا نکی ار ہے۔ ددٹو قلوں کے سرداروں نے لکرمشور وکیا اور یر نے
پا اکچ پچجوگھی ہہومسلمافو کا ڈ کر ممقاللہکرنا ای اوراس بڑ ھت ہہوئۓے
خطرےکور وکنا چا ورن پھر ہار ٹل ہے ۔أکھوں نے اپ ایک سردار
ماک ای نو ضف رک یکواپنابادشاہبنایا اورملمائوں سے من کے لے تیاریاں
رو خکردمیںأُنھوں نے اورکھی بببت تیالو ںکوا نا سی بنالیا۔
2 لی لعل یش مکو جب ہی عال معلوم ہوا آپ ن بھی صا ہکرام
سے سور وف مایاادرہی لے پا اکراس مڑ ھت ہوۓ مھ ےکوی بروقت دبادسی ےکا
کش ضردری ہے چنا نیہ ٭ارشوال ڈ۸ لاتق ۲ ام ہزرارمملماوں س گر
کےساتھآ پ دن کے متقا لی ےکیے روانہ ہو ے اس وقت اسلائیاشگ رای زیادہ
تاد یی تھا اورسروسامان اتا 007 کر الین ہوتا خر اکرش
ما ےکی تاب نہ لا گا اورفو رآ ہی مبیران جو ھک پا ککھ ٹا ہوگا۔ چناج
یض مسلانو ںکی زبان سے ہے الف طاجھی لکل ج ےک آ من ہم پرکون غااب
ەسکتا ہے لین بییخیال ملما نک شان سے بعید ےا ےکی موت یھی ابی
طاقت پرلروسنجی کراب اہ کی طاقت اور ںکا بھروس حرف ال تا یکا
نل کی ہو ا ےق رآن پاک می ال تی نے ارشاففرمایاے: 2
شی ن کا دن بادکرو جب تم اٹ یکثزت پہ نازاں ےلین وہ
تھارے پکھکام نہآ کی اورز ۲ن باوجودوسحت کے اس دن
تھھارے لیے تک ہی اورم ٹہ ھی کر بھاگ کپڑے
ہو مھ رالشد نے اپنے رسول پر اورملمافوں پر انی طرف
سے سی اور ینا نکی کیفیت نازل فرماکی اور ای فےجییں
کیچییں جوتم ن ےنیس دلھیں او رکافرو ںکوعزاب دیا اور
کافروںکی می مزاے۔
(سور6 وآ یت )۲٦۷۲۵
شین کےاورطائئف کے درمیان ایک وادی یکا نام ہے؛ائی مقام ہہ نہ نگ
ہوئی۔ جب اسلائیلشگریشن کے سان یا أنھوں نے اروکردکی پھاڑیوں
سے بے تخاش تیر برسمانے رو کرد ےمسلمانع اس کے لے بالنل تا زنر
تھ۔ان تیرو نکی وجہ سےا نکیمفی نجلڑککیں اوزٹھوڈی در کے لئ ان کے
قدم اکٹ گے بہت سے بدوی قپال بھا ککھڑے ہوئے ان ٹس بہت
سے اوک وہ جذالگی ائمائن لے تھے او رای ا نکی تر ہی یگ ل نہیں ہوئی
تی ۔اس کی حالت س7آ تحضر تگہایت الھدنان کے ساتومیران جنگ
میں ےر ہےاور برابرمسلمانو ںکو پکارتے ر ےک وش نکا مقابلہکر بس اور
میران سے من نم ولڑ یں ۔آپ کے استقلال اور آپ کال رز یمن
سحا کی خابت قد یکو ےکس رانوں کے غدم پچمرسے ناش رو ہو گئ او رپچھر
ہرایگ نے پو گی جوا مدکی اور بیادری کے اج دش نکامقالیشرو عکیا۔ ال
تی نے کر او دمحا بکرا مکی ای خابت قد کو اپٹی طرف ے از لکی
کی سکییت (انمینان اورکو نک یکیفیت فرماا ہے۔ ال سکامت ہوا ایڈ
کال سےتھوڑی ہی دش لڑائی کا پانہ با کیا اورصلرانوںککھمل خ
عائصل ہوئیکافروں ےر آستآ روا ای "یئ اود پچرازوں قیرہوۓ_
دشمن کا تعاقب اور دعائے خیر:۔'
کافرو ںکی باقی فوجوںنے بو ا ککرطائف جھ سا پناہلی۔ ریا ککفویامتا کی
جات تا ۔ حضررن_لی ال علی >لم ےشن تایاور طان فک اص ہکریا_
طائف می ایک شب وراورمضبو بقل یھی تھا جس می سکافروں نے نال تھی حاصرہ
انداذہہوگاک روش نکیا ل طاقتڈوٹ چگی ےاوداب ا کی طرف ےکی شی
کاائدیٹڈکیس ےا آپ نے محاصرہاٹھالیااودان کے بٹس بیدعاغماکی اے الا
تی فک ہدای تکراوقنقی دےوەیر ے پا" عا ض رہوج ہیں .اض ور کے
نی کے بج دی نکی اتک مد پا ہو .کون اتقا تم اور ہوسکتا ےک رایپ
و تر ہیں اق یہ زی
صل پر ای ما عون کے مخ وجار نے۔
عو تویک
سلطنت روم سے کشمکش:-
عرب کشا می رو مکی بی ساط تی ۔ اس سلعدت کے سراش شش و
ہے ہونے سے پیل ہی شروغ ہوک تھی ۔ نی صلی الطعلیہویلم نے ایک دفد
اسلا مکی دگوت نےکرشا لکی رف ان قیائل کے پا بھی با تھا دشا مکی
سرد کےتر یب آباد تے پیلک زیادہت عیساکی تے اورروی سلطنت کے زمرائڑ
تے۔۔ ان لوکوں نے اسسلا ہی وفد کے چدررہآدمیو ںکْ کرد یاتھ اورصرف وفد
کے ریمس ححضری کحب ین عرخفارگی کر والی ےت اس زمانے مل
1حضرنیل اول علیہ ےیل نے بصرکی کے رحس ش ربیل کے نا تھی ذحوت الام
کا پا مات مگراس ن بھ یپ کے اسپئی حضرت حارث می نکمی رو کردیا
تھا بر رٗ بھی قیص رروم کے ا ہام کے ماحت تھا۔ الن دی اسبا بک ناپ
آفحضرتملی اللرعلیہ یلم نے جمادیالادٹی۔ ۸م تن نرارملمانو ںکی
ایک وج شا مکی حد کی طرفشباھی تکاس علاتے مج اب گی رمسلمانو ںکو
الک لکنزروربھوک رک ت کیاجاے جب ال فوت کی می اطلا شرت لکول
دورما ایک ااکوفوج ساتھھ نےکر مق لے کے لے للا کن مسلرمان ای
الا سے باوجودآگے بڑ ھت رہے۔ قیص رروم اس وقت ہتس کے مقام پہ
مو وتھا اہن بھی اہی بھا تھی وڈ ورکےساتق ایک لاکوم یوفخو سج دی
گرضدائ برابرآگے بڑ ھت رے او رآ رکارموع کے مقام پر یقن ار
سرفر وش اتی بڑی روئ فوع ےکم راگ ۔ بظاہرعالات اس اقل ا کامع لو ہونا
اپ تھا مسلمانو ںکی برتھوڑ یىی مجراعت اہ ےکی رمشکر کے مق لے میں
ال نتم ہوجانی یکن او رکافضل ابیا ہواکہردومیو ںکی اتی بڑیی فو جکھی ان
ملمانو ںکا گن بکا گی ۔ بی داقرای تا کہ ای ن ےس پا کےترامقیلوں
پرمسلمافو ںکی ای کک مکی دھاک مٹھادیی اوردوردورکک من وانے ق یی
اسلا مکی طرف متوجہ: و گے اوران یل ے پرارو ںآ دی ملمان ہو گئ_
سب سےزیادہ اث الس والا داققعہ بی ہو اکم خوددوٹ فو رع کے ای کانڈر
فرو وب ن داز ابی نے اسلا مکی تلعمات پربو کی اورومسلرمان ہو گئے اور پھر
أنھوں نے اپ ایما نکاالیماز بردستجدت دیاکہ جب قضرے انھیںگر ار
رو سا اکہ مان اسلا مھ و ڑکپ رآ پنے عہہرے پر بھال ہو جا نیس تو
تی کے لے جار وو ُنھوں نے عہمرے اود منصب پر لات مار دی او رکہدیا
کرد ہآ خر تک یکا میا لی کے ماب ٹمس دنیا کی سرداری قو لکرنے کے لئے
تا ریش ہیں چنان ا نحیںٹل کرد یا گیا۔ يہ واقعہ ایما تھا کہ ال ے پہراروں
دیو ںکواسلا مکی اخلاتی طافت اوران کی داش اچھی تکاانرازہوااورا نھوں
نے جالنال کہا نا کی ککا جوسیلاب ا نکی طرف بڑھد پاے ا کا مقابلہ
تن نکوئی مو با ت بل ے۔
قیصر کی طرف سے حملے کی تیاری:-
دوس رے بی سال قیصرنے مسلمانو ںکوغز و مورک مزاد نے کے لے شام
کیا سرعد فی تار یا شرد کرد اوراپنے ما تع بقیلوں ےٹو میں
اھ یکرنے لگا۔ ن یرم مکی اش علیہ موی ان مار ہیں ئ مال معلوم ہوا_
یرم وش اسلائی پت بک کے لئ بڑا نزک تھا اس وقت کر ذرائگ یستی دکھائی
جائی فذ سارا کم خراب ہو جاتا۔ ایک طرف نو عرب کے دو سب تی چھرسر
اٹا تےٛخعیں ابھی ابھی کےاورتی نکی نک می ںقلست'اٹھاا پٹ اگیا۔دوسریی
طرف مدینے کے منافی جو برابراسلام کے شھنوں سے سز باز رکیتے جھےمیکن
رت براسائا جماعت کے انور ایا فماد اکر ےکپچ رخ بک او تی 1
سنبالنا بڑادشوار ہوجاتا۔ اییے عالات ٹیس رو مکی سلطنت کے بجھ پور تم ےکا
متقا ہکم کوک یآ سمان بات نہ ہولی اوداس با تکااند بی اکا نت نتھلو ںی
اب ند لاک راسلایج ری تکف رکے متا لے می لس تکھا اتی بی وج ونھیں
06 ہے پٹ نظ مآحفضرت لی ال علیہ لم نے اتی ہے شال خداداداصیرت
سےکام نےکر بلاتائل می فیص فرب راس موب قیص ری شیم الشان طاقت
ےکر لزا ہی مناسب ےکیوکلہ اس موق بر ذ راس یپھ یکر در دکھانے سے
سب بنامتایا کامکھڑچاتا۔
مقابله کرنے کا فیصلة:-۔
ملانوں کے لئ اس و تی گی تیاری کے ل ۓآیا دہ ہوچانا ایل بڑا
سخت امتمان ھا ء کلک می قا سا یی رخ تگ ری یکا مو تا رفلیں نے کے
تر تیں اورجگی سا نبھوکل نقا: دور درا ڑکا سفرتھا اور متا بلہٹتی ای
بہت زدضت اش نت قفا خلت کے پا جو دش یکر ععل ال لی کم
نے موق کی نز اک کا انداز وف مانے کے بعد نک کا اعلان عا مکردیا اور
چشیچی وشچہ ات ہش شش
صاف صاف تاد اک ہکہاں جانا ہے اورک لے جانا ے۔
یہاں بی بات ین نررکھنا چا ےراس وف ت کک اسلا یئ ری ککامقابل
نلرب ون شنوں سے نہورہا تھا اور کے اورتطی نکی لڑائی کے بعد اس
الف تکازورٹاٹ چکا تاجن اس وق تکک اندرولی وشن چنی مزافتوں کے
ساتزیادوتر معاممدرگز رکا برتامگیاتھا اور یراس لے تھا ائھ یک کت بک ات
تک نیس ہوئ کک ایک ہی وقت می اہر کے اوھ رکے بشمنوں سے لڑائی
مو ل لی جانی دوسرے یکر منافقوں یں سب ایک بیط رح کے لوک نہ تے۔
ان بس ایی بھی تھے جو یا کنرورکیاایمان یبنلا تھے پا پیش کوک اورشہات
رک تھ ایےےلوگو لکو ایک مناسب مد تک کمبلت د ینا ضمروریی تھا جاک وہ
اپ مکروری اوراپنے شلوک وشمہات دو رک ریس اورآخر می صرف وبی لوگ
اتی رہ جانتیں جھ چان بو چک اورسو بج وک اسلا مکی ڑم کاٹ کے لے
ملمانوں کےاندرش سآ تھے چنا مج یک کرک ای لوگو ںکونزم اورگرم
جرانداز مس مچھان ےک وش ہوٹی ر ہیں اوراس کے نج میں تن لوکوں کے
اندر تنج صلاحیت نی دہ سید ھھ راتے پ ہآتے لے گے اب برسب
مرمے نے ہے تے۔مسلمانوں نے ملک کے اندراہپے مفالخو کو بٹڑکی عد
تک زکرلیا تھا اور اب ا نکا منقا ہہ مل فک باہ رکی طاقاں سے شرور ہور پا
تھا۔ ا سے ناک موقعوں پبکع کے اندر کے بشمنو ںکا کنا بہت ض روری تھا
ور ندائد لی ہتھاککہ ہلوگ باہ رکے دشھتتوں سےساز با زکر کے معلو میکس وقت
کیا فقصان پہنیادیں۔
نیت ٭لسّویبجپجپ-پ7 4 ٔ
منافقت کا پردہ فاش:-
منافتوں سے نے کے لے پہلا مرعلہ اہ رسب لو گکگح لکرسا نے
آجائئیں اورأھوں نے جھاپے چچروں پرایمان اوراسلا مکی نقاب کڈ ل ری
ہے دہ ہٹ جا اور ا نکی ئل حیشیت پودیی اسلائی سوسائ یکومعلوم
ہوجاے۔ اع کے لے پھر بی وش باقی شر ےکہ بیمسلمافوں کے معاملات
می مسلمان ب نکر ول دن ہیں اورأشھیں مسلمانوں میں وی مقام اورورچ
حاضصل رے جڑفلیص مسلدانو ںکوخاصل ہے۔ چنا نچہ جک تو ک کا بی اعلان
منا فقو ںکو بے نقا بکرنے ٹیل ہبی تکارک رایت ہوا۔ ا مہو بر ووسب
لک جواپنے ایمان کے دکوے می ریل٘ص تھے دل وجان سے جہاد کے لے تیار
ہو گئ رما ےکی ضرورت سا ھنےآنے بران کے پا چپ وتھا لاک حاضرکردیا
اور چپ سوار یکا انظامعگل نر ہو ےکی وجہ سے ان ٹل سے یھ کو ںکو
آتحضرت لی الڈرحلیہویلم کے ساتھ جان ےکا وع نہذ دہ ال مھروٹی پر دو
دپے اور ال رح صاف معلوم ہ وکیا کہ اسلائی جراعت میس سکنتے لی حایس
ہین ان کے برخلاف جن لوکوں کے ولوں می این یں تماء جن کا اعلات
نک کو یا ا نکی ان بی لگ لکگئی۔ ان لوگوں نے طرح طر کے تیلے بہانے
بنانے روغ سیے اود بک پر نہ جانے کے ل ےآصحض تل الد علیہ ؤیلم سے
رخصیت خاص لکرنڈغ گے۔ تحضر تل ال علیےبیلم ن بھی اس موتع پنم
رویاخیارفر مایا اورایےتمام لوگو ںکورخصت دے وگی۔ پچ ران منافقتوں نے
انتا یی سکیا فود جنگ پر جانے سے جان جچرائی بکسہ یر دوسرو لکوگھی رو کت
ییچیمچکجڑواییجمس_۔ژسُٛھھسے
اورو زا تے ر ےھ ی ےکی ہہت ہے انیپ طنن نک کے لی اکر
کیا جالند ینا ےی کی ےک ہبھلارو مکی سلطنت کے مقا بے مس ریچھوڈے سے
ملا نکیاک رکیل گے۔ می جان لوہ ےکر اپ آ پکو بلاکت یس ڈالنا ے۔
خرن میکہ یراعلان جنگ ایک ایی امتان خابت ہواجتس م نکی مین اور
مزا کک لکر سا ےآ میۓ اور اب ریکن ہوگیاکہ اییےےلوگوں کے غلاف جھ
مناس بکارددائی ہودہکی جاے۔ چناخ آحضرتملی اللعلی یلم نوک
سے والی برا لکاجوا ظا عفر مابا ا کا ذک رآ تندہموّم پر ۓگا۔
تبوك کے لئے روانگی:۔
غن لپ رجب ۔ ڈیم ل نمی بمارفد نع کے ساتھ مدینے سے لے لن
و برارسوار تھے اونڈ کی یھ ی٤ک ایک اونف پر یک یآ دی باری باری
سوارہوتے تھے۔اس پہگگر یک شرت اود پا یک یی مگرمومنوں نے ااس موق
پراپے ایمان کے نوہ ٹ کی اطاعت اوراہکی راہ یش مر فردگی کے جس
شوکاشبوت دیاتھاالتوالی نے أےقول فربابااورایاانھامف اد انی
لڑائی سے بی وومقصدحاصل وکیا شس کے لئے نیک ری مکی ازشرعلیہ یلم نے
می س ےکور ف یا تھا جو کک جک رمعلوم ہواکہ قصر نے سرحد سے اپ
فو بیس بای میں اورا بکوگی تا لے کے لے موجودای یں ہے ہوا ےک جب
قیص کو یمعلوم ہواکہ ا سک اتی ز بردست تیارگی کیا اطلا غً پانے کے پاوجود
مصلمان اس بپےےوثی کے ساتحھمقا لے کے لے خود مر یے لئ پڑ مے ہیں
اور برابر پڑت ہآ ر سے ہیں تق اس نے بھی ماس بک اہ انی ف جس
ہنالنے وہای ے پل دک کا تھاغزدة مویہ کے موتح بنیں ہچرارچاہروں
نے ذو لکوفورخ کے متقا بے ی سکیسی شیاعت دکھائی تھی اس لئے جب أ سے
معلوم ہ اود یک ری ٗ٥ی ادف علیہ نہیں برا رکی جححیت کے ساتمھتش ریف لا
رہے ہی ںای نے بجی فیم ہکا کرای یلا بکامقابلہ نکیا ا ےکمیل ایبانہ
ہکہ پا مہ یٹ جاۓ اورا کا س اخ ہو جائۓے-
تبوك پر قیام:-
ٹھر کےا طرع میران سے ہہٹ چان کون یکر مکی علیہ یلم نے
کاٹ ی ھا اور کا اکر نے کے ہجائۓ اس علاتے پراپے اشر ا تکومضبویط
کرنا مناسب خیال رما آپ وہاں شی روز کتہرے اوراس ددمیان بہت
سی یوئی چھوٹی ریا ستو ںکوجوسالنت روماوراسلا ئیکومت کے درمیان ول
تی اورا بتک رومیوں کےز یا تحیں ۔ الا یعلوم تکا مع او بای عگذ ار
بنا لیا اور اس ط رح ا بتک جوعرب لے قیصررومکا ساتھ دتے تے اب وہ
الا ئیعلومت کے بددگاراورماون بن گ۰ۓ _
منافقوں کی چال:-
نس وق تآحضرتہلی ار علیہ وم جو ککی ہم پ مھ ینہ سے روانہ ہو ۓے
ایح وفت وہ سب لوک جو دراصل مسلرا نکییں تھ کان اسلائی جماحت میں
ےکی ےی فا کے اس آائے ےھ یزنندجیں یا یچ رہ گے سےان
لو ںکو برا لین تھا مسلمان ١ اہم سے مت ریت داب ں :یں ےھ
میتی اورسف کی مصیتقوںکاشکار ہو جا نہیں گے اویل تیص کی بے پنا وف
مججو'_ے 'بہہہچوووومصجیخج ہہ
کے متا بے میں ا نکاقلع تع ہو جات گا۔ ان منانفتوں نے ایک سرک بنالی
(مسچدفرار) جہاں بہہماز کے بہانے عام مسلمافنوں سے الک مع ہوتے تے
اورخفی مور ےک یاکرتے تھے ان لوگوں نے اس م شع بی اسلائ یج ری ککو
انا نقتصان پان کے ل ضس مکی انی لکیس اور بیہا ںکک ےک رلیا
تھا وہمسلمافو ںک یلست بج یکی صصورت میں کک ےگا :مدان جن ال کوید ی کا
بادشاہ:نالیا جا ۓگا-
لن اوڈہتقال یکی خی تکافیصلہ بدادرجی تھااوراب دراکل وووقت پالگل
قری بآر ہاتھا جب اسلا مک یلست کے بارے میں ائ لکفرکی جرآمید گھل
پا چھرنے والاتھا۔ چنا نو کک ال بلاجنگ کے عالات جب اسلام کے
شنو ںکوسعلوم ہو ۓ نذا نک کرٹ ٹگئی اور نیس ایا معلوم ہو کاب ا نکی
امیدرو ں کا آخرکی سہاراچھی ان کے پاتھ سےگچھو ٹگیا_
تبوك سے واپسی کے بعد:-
وک سے والپھی کے برض رت صلی الل علیہ یلم کےسا من تین ام
کام تجے۔
- منافتوں کے بارے مل وا تی پالڑسی پیل اورا نکی ر شردوانیوں ے
اسلائی ری ککونفوظاک رن کاپورالرانترواست۔ ٠
٢ .مان ضماوشی نکی ت یت اوران کے اط بی ںکردا ضا زگ شگ ان
گوشو ںک یکل جن کے بغیرصا خی نکاہوگر دہ جن یسل ای علیہ یل میگ رای یش
تار ہور ہا تھا۔شماد تن کے ائس پا یں اُٹھا سک تھا جوخنقریب ان کے
کا ندموں پآ نے والاتھا۔
۳ دارالاسلا مکی لاق سای پاٹ یکا اعلان جٹں پر اس خی اسلاٰ
ملک تکی نکیل ہوناتی_ :
منافتوں کۓ سائع فازلح:-
بھی رت مصلی اللدحلیہ ول مت وک سے مین والی نش ری نیس لا ے
تھےکہراتت میں بی سوہ ہنا زل ہوگی اورالل تھالی نے اپنے میعلی الد علیہ
ومک کہ تک امک ہدایات سےسرفرازفرمایاجشن پرآ پکوند بینروائیک نے کے
بعد لکرنا تھا۔ ا بکن منافقتوں کے ساتھجس زم پاٹسی برک لکیاگیا تھا اور
ننس کے ماتجت ان کے وہ عفذرات قو ليکر لیے یئ تے جوانھوں نے لڑائی
سے جائن بچانے کے لے تب وک کےسفرکے وق تحضر تکی خدمت میں پیل
کے تھ اہ کو الیل بدل دی ےک ہدام تک ادرصاف صا فک دی اگیاکہ
ان کےساتق مھا میتی کا اکیاجائۓے۔ رراگراپے بھو نے دتوقی اما نکوق خابت
کر نے کے لے مالی احعدادجی یکر مس و ووقبول شی ا نے ء ان مین ےکوی 1
مز جا ذ یی٥لی اللرعلیہ لم اس کے جناز ےکی نما ز نہب اتی مسلمان ان
نشی اود خائدائی نار تکی تہ لو اوردؤ کا مال گل _
ابوعامرکی سازشیں:-
آتحضرتملی الطدعلیہ یلم کے م بین ریف لانے سے پیل ایک عیسائی
راہب ا دع مکی ددویٹی وع مکامد ینیل بڈ اج چا تھا لوگ ا کو بہت مان
ےمم 32( 96172)..۔سےس سے
تے۔ج بآتحضرت لی افر علیہ یلم مر نشیف لا ےا کی ددویی اور
خدا کی کا نیل لکنا جا تھا کہ دہ برای تکی روک سے فائدہ اٹھاتا اور
ابی ےکی تضو روس ہے بج پڑ کرقو لکرتا جن جس اور
تک کا خلط پندارادر ری اور رواہگی دین داری کا مظاہرہ عام ورپ انا نکو
ہرابی تک پر وگی سے روک د با ہے ای ط رح الوعامر بھی اسسلائی ذگو تک الٹا
اث پڑا۔ا لکن راپ دن دادبی کےکارو بار پک ورای نےگحسو کیک
اب اس نا یک کے متقا بے میں ا سک ددو یی اور پر یکا سمکنئیس پل س ےگا
اورای لیے دا یک اسلائ یکا سب سخ تتخالف ب نگیا-
چپ اسے پیأمیدریکہچارد نکا انی ہے پھ لی ات مک خدابہق
اوردین دار کی تو وولو کو لکیاک تے ہیں جن جب بد رک لی می ق ریش
نے لس تکھائی وھ ٹا اوراس نےقرریش اوروس ےکر یکیو ںکواسلام
کےخلا فبھکانے بیس ایڑی وٹ کا زورلگای اور أحدکیلڑائی او اط اب کے
جے میس جو پھسلمانوں کے سان ےآیا اس می اس درولی لک یکوششو کو بہت
کٹل تھا۔ اس عیسائی ا لیکتاب نے مسلمانوں کےخلاف ۰ش رکوں سےسازباز
کڑڑّنے اورت حید کے برا کو بھان ےکیلے تر کی آندھیاں اٹھانے می سکوئی
کت نراھاری مان جب ال تھالی کا فی یح لکر۔ا ےآ نے لاک نچھوکوں
سے می تراغ بھایانہ جا ےگا اود ےکہاسیلام بی تما عر بکاخالب دیع موک
رگ ت2 ا“ خدابرست درویش کی ب ےچین یک کوک انا ضدرہی اوراب ال
نے رو مکا خخراقیا کیا لوان چاکرووخطر ےک گی بیچاۓ اور قیص رکومتوج
کر ےک ہو واس اھت ہو ۓطوفا نکورو ک کیل جو بٹوکر ےکر ے۔
مسجدضرار:۔-
الوعام ری ان تما مکوشخوں ٹیش پریند سے منافقو ں کا ای کرو ا ںکا
ش ری ککارتھااوز ہاب مشوروں سے میلک اسلائ یئ ری ککومٹان ےکی تھ ہی ری نکیا
کرتے تھ چنا وٹ شک جو :کے مطابق مدینے کے ومن فتوں نے اپ
ایک الک سد با ےکا فقملکیا جن س کا ذکر پیل ہآ کا ہے۔ اس مہ بیلیگ نماز
کے بہانے سے تع ہوتے اورلمانوں کےخلاف سائشی سک اکر تے-
اس وقت مد پینے جس دو سج میں ۔ ایک رتبا جوش کے ای کفکنارے
تھی اوردوسربی سروک جودرمیان شب رداق شیا نکی مو جودگی م کسی تسری
مدکی واضی ضرورت پیش مین ان منافقول نے مہ ہا نرک کےکہ پچ بوڑ ھے
اورموزوراوگو لوان رون" ارول تک جانے می بہت نیف ہوئی اک
تیسری مسچد بنائی ۔ او سح رتیلی الڈعلی وملم سے درخواس تک یکہاس ٹل
آپ ایگ بار نماز پڑھادیں تاکہ اس مس رکا افقتاح جربرکت کے ساتھ
ہوا ےآ تحضرتت سی اللعلیہ ےمم نے فر ما اراس دفقت اذ مج جو کک ام پ
جا ےکا چاری ٹواشغزلن ہوں وائچی پر دیھا جا گا۔ دای کے وقت
ران ملس تقی ہآ یا گل یں جن یس اتی نے وا طوری رآ پکو
ایر میں ما زیڑ ھن سی ےگمانح تفر مادکی۔اؤز بہہتادیاکہبیدداگل ایل الک
: ہے جومسلرانوں کےغخلاف مور ےکر نے کے لے بطو رکعات کےکام
یش ماگی جال ی سے با ںاہ گی ںآ پٹ ایس یں ماز میس چنا خ آفضرت
می اش عی۔ کم نے پھولوگو ںکوکم دیا کرد ین ج اکر ال سج دکوآپ کے وہال
کے سے پیلہ ڈھادیں۔ اس رح اس مس کا ڈھانا درصل منافتقوں کے
خلافمسلائوں کے1 ند وط رز لکا ای ککھطا ہوا اعلان تھا اورامی پآ رہل
یاگیاے
اعل لومان کی ترپیے کی تکریلق+>
اب اسلائ یت یک ایک عالیبرجدوجہدی منزل می داشل ہونے وا تی
اوروہ وق ت تر یب تھا جب۶ رب کے یسل قمام خی سلم دن اکو ارد کے دی نکا
پیام پان ےکی ہم پر نل وانے تے۔ اپےے مر سے یس مونیشن کے اند کوگی
معمول یب یکروری بھی بڑئی رکاوٹکا سبب می نع تھی ای لئ اس م رم پہ
مو شی نکی تر می تل کیل پہ ری 9وج ائی۔اوران کے اندرایما نک یکنردری
کی ایک ایک حلاص کین نکرڈیالاگیا ادا سکودورکرث ےکی کید یگ
تنو کک جک کے موتع پر جہاں دولوگ رہ سے تے جن کےاندرواتی
یمان اور اسلام موجودنکی تھا وہال پکھ ایی مونی نکھی چیہ رہ سے ےجو
اکر چ عے مسلمان تھ ےجا نمی و کنزدری یا ست یک باج ان سے بیکوتادی
سرزدہ کٹ یھی ۔ اییےاوکو کی اصلاح کے ل ےکاٹی سخت روما یا رکیاگیا کہ
آحمدہ ای یکنردرکی مھا رنہ ہو گے ۔ اس مل یل تن صا کرام مرا تکعب
جن ما کلک ءپلای من امیء اورمرارہبین رع شی الل تھا یج ما دا ایت جقی
آموز سے گن سک رشن میس مہ اندازہ ہن لی ہوسکنا ےکہاس وقت می نکی
تر بی تکس انداز پرکی جار یھی بر جیوں صھالی اکر چہ ہی مؤسن تے اوراں
. سے پل ان کے الا ایما نکا گر بھی ہو نک تھا لان چون ست یک وج
ہن وج ام مے و ہآحضرتملی اوفرعلیہ ول مکا ساتج ضردے کے
تھے اس لئ ا نکیا حخ تکرش ٹک یگئی او زی سلی اللدعلیہ لم نے موک سے
وای شر نیف لا نے کے بعدیسلمانو ںکوعم دے د اک وی ان سے سلا لام تہ
کرےاور ایس دن کے بحعدا نکی بیو یو نکوھی ان سے الگ ری ےکی کید
کرد یگئی۔ پا دن کے بعد اد تھاٹی نے ا نکی تو بقول ف می اورا نکی
محائی کاعکم نازل فر مایا جوسورہ تق پرٹس کور ہے ائن ٹیل ایک صاحب حظطرت
کعپ بن مالک کا واق نیل کے ساتهھخودا نکی بای منقول ہوا ے چھ
ہابت ئیکو لآ موز ہے ووفر مات ہی ںک:۔-
حضرت کعب کا واقعہ:-۔
”جب آحضرتہلی اللد علیہ ول مسلافو ںکوو کک مہم کے لے تیار
کرد ہے تھے تو یی بھی مہ اراد ہک لیا تک ہاب دی تیارکیکروںگر پھر
سست یکر جا اورک ھا *ایھ یکیا سے وپ قالخا زم کپ گن
ہےء ای طر با تی ردق اناگ یک( گیا اورٹل ارد
تھا۔میل نے ول می سکہا یشک رکو نے دوہ بی دو ایک روز بھی چلوںگا ۲
قا لم ے جا مو ںگا رف یک ای سستی یس وق تل لگیا او ریا جا تکا-
جب میس می د تا تھاک جن لوگوں کے ساتھ یس جیچیے ر وکیا ہوں دہ یا ت
من 5 ہیں نےکر وراؤزیچورلول ہیس شک نکو الد نے معزوررکھا ےل مراول
ےا اکڑہتا تھا اور بے انی حالت پر بڑاافسوس ہوا تھا۔
وھ سے
جب یی ال علیہ یلم سط سے وائی تش ریف لا نے فو حصبمعمو لآپ
نے پیل سد می ںآ کر دورکحت نماز ادافرماگی۔ بچلرلوگوں سے ملاتجات کے لئے
ٹیٹھے۔اب منافقوں نے1 کر اپنے عذدات می لکر اش روغ سیےاو کسی ںکعا
ک یک رتحضرت لی ال علیہ ول مکواتی ور یکا لقن دلا نے گے۔ ایی لک
اٹ یآریوں سے جو زیادہ تھے ۔آحضرتم٥لی اوقدعلیہ یلم نے ا نکی بنادٹیٰ
پا ٹیش میں اوران کے نظ ہربی عفرقبوگل خر ماکان کے با نکوخدا رکھوڑ دیا۔
اورأنئیں معا فکردیا .اب میرگ باریآگی۔ یس ن ےآ کے بڑ وک رسلا عرض
کیا ۔آحضرت میرئی طرف دوک رس رائے اورفرمایا۔ ' یآ پکاکس جیزنے
روکاتھا یس نے مت کیا خد ایام 1گ ری شی ابلي دنا کے سا نے حاضرہو مات
رو رکوئی نہکوئی بات ہار أ سے را یکر لیم رآپ کے بارے یی تو مرا
ایمان ےک اراس وف تکوگی بات نک رآ پکوراض یھ کرو لے ال ضرورآپ
کوجھ سے نار لکردےگا۔ الب ہاگ کہردوں و چا ےپ نارائض دی
کیوں ے ہوںء ھے امیر ےک الف تھا ی مهرے لل ےکوی تکوئی معائی کی
صورت پیدافرماد ےگا - نیہ ہ ےکہمیرے پا لکوکی عذرنٹیں ہے جو یں
ٹپ یمک رسھوں۔ یں جانے پر دی ق رت رکتا تھا “اس بنتضورنے فرمایا نے
٢ی ہے جس نے گگ با تک اچھالٹھ جاواوداتظارکرد۔ ہا ںکک الد
تا یھارے معالے می کوئی فیصفرباۓ می اھ اوراپنے تیلے کے لوکوں
بس جا یٹھا۔ می رکی ط رع دواورآدمیوں ( زار ہ جن ری اور پلال بن امیہ )نے
ادج پگ با تی جو ن ےینھی۔
سص-سص سس 3 ۲7ےے سے
اس کے بعد لی علیہ یلم ن عم دے دک ہم نو ںآ دمیوں سے
کوئی بات کرے۔ دودوو ں تگھ میں یہ ےگ رمیس دک تھا۔ بضا عت کے
ساتج مز پڑ تا تھاء بازاروں میس چا رج تھا او رکوکی بھ سے بات ہکرت تھا۔
ایپ معلوم ہوتا تھاکہ یس ززین بالل بد لگئی ہے میں یہاں ای ہوں اور
یہاں می راکوئی جاتۓ والائیل سے مسوب میں نماز کے لے جا تا یسل ی علیہ
ول مکوسلا مکرت اورامنظار یکرتارہ جا کہ جواب کے لے ےپ کے ہونٹف لت
ہیس انیس .نماز می فظریں جاک رتضو رکود بنا تو پ کیا یں جھے کسی
پڑکی ہیں کھروہاں عال بی تھاکہ جب کک میں نماز پڑہتا آپ میری طرف
د یھت ر اور جہاں میس نے سلا مگیب را آپ نے میرک طرف سےنظریں
پٹایس۔ ایک روز می کھب راک اپنے پچازاد بھائی اد کین کے یارالوقادہ کے
پا لگیا اوران کے با کی دلوار یڑ کر یں سلا مکیاجمر اس الد کے
بنلرے نے ملا کا جوا بتک نددیا۔ می ت ےکہا۔' ابو د ہایس مکوخدا یمم
د ےکر پو چنا ہو ںکیائٹش غدا اور اس کے رسول سے محب تی رگتا ؟ وہ
امیر ہے۔ یس نے پچ رہ چھاء راوس ر ہے ۔تیس کی راس ات اکہا۔
الشاوراا س کا رسول می مہتر جات ہے اس پھر یآگھوں سے1 نسوفھل
آے اور ٹل دلوارےا زآیا-
ان ہی ول ایک دفعہ بازار ےگ ز رر ہاتھاک ام کےایکینس نے شاہ
سا نکا ایک یت میس لٹا ہوا جے دہا۔ بیس ن جو کر بڑ ھن اس می سکیا
تاکز نم نے سنا ہے تھارے صاحب ن مرتحم ڑ رکھا ےت مکوی ذیل
سسگسشت یٹ
رئینیس ہو راس لالکتی ہوک عیل ضا کیا جائۓ ۔ ہمارے پا ںآ جو ہم
تجھارکی ف رک سی گے یش ن ےکہا۔ ”ىہ اور بلا گی اور ای وفقت خی کو
چو می ں ھٹک دیا۔
چالاس دن اس حالت سلگمذر گے ےک ہنیصسلی اون علیہ ول مکاح مآ یا کہ
انی :یی گج ملبحدہہوجا2۔ ٹل نے ھا کیا طلاقی دےدوں؟ جوا پ
ملا ۔ یں اس الک رہو۔
مم نے انی بیو یکوان کے ہے دیااورکہا۔ ان رکرو یہا ں کان
تما لی اس مھا کافیصلفارے۔“ ٰ
پچاسومیں دن کی ماز کے بحدمس اپنے مکا نکی جیمت پر ٹیڑھا تھا ادراتی
ان سے پڑرارہؤد ھاکہ کا بک ٹین نے پاکک ال وک بن
الک ای یسلت بی یرے می لگ گیا اور نے جالنال امیر معائ کا
عم ہوکی پچ ر_ذ فوع درفو لوگ بھاگے چی ےآ ر ہے تھے اور ہرایگ دوسرے سے
لیت کمجموکو ارک باددےر پاتھاک ترک نو رقول موی مل اٹھا اورسیرعا
مرو کی طرف چلا۔ دی اکب یمسلی ال علیہ ول مکاچر خوڑٹی سے چک رپا
ہے۔ یل نے ملا مکیا تفر مایاکھے مارک وہ یدن تیوک زندگی ٹل سب سے
پر ہے ٹس نے پوبھا۔' ىہ معائی حضورکی طرف سے سے میا خداکی طرف
سے؟'فرمایا۔' دای طرف سے ''اورق رآ نکی د ہیا سناتمیں جن میس ایس
ق ہک قولیتکازکرے۔
یش نے عو کیا۔ نیا دسول الق می ری تو رٹ بیچھی شال ہ ےک ابنا
سار مال خداکی راہ میں صدقہکردوں فرمایا۔' پچجھور نے دو ریکھوارے لئے
پبتر ہے جس نے اس ارشاد کے مطاِق اپنا خی رکا حصہ رکولیا۔ باقی سب
دق کردیا۔ بچھریس نے دا ےپہلدک اہین بے کے بد لے ہیں اڈ نے بے
معائی دی اس پر تما مع رقائم رہوںگاء چنا نچ نج تک مس نےکوئی بات جان
او ےک رخلاف داقرا لگی۔اورأمی ررکتا ہو ںک ہآ تد دی الد مھ اس سے .
کلیۓگا۔' ۱
مسلم معاشرے کی خصوصیات:۔
اس وا یتقعملات یل سارک را مکی سو سا یکا جوفقتشہ ساس ا ہے اس
کی مایا ں تصوصیات ایی ہیں ج ہکن کے ساھئنےد ہنا حا ٹنیس ان سے
اندازہ ہوا ہ ےکا سلائ یک بک انم بردارو ںکاھزا نکیساہناتیٰ ے۔
ہب ے ٢ بات ت بسائےآلی ےک ہج بکفراوراسلا مک یشک کا
معاملردرنل ہونو یہ مومنوں کے لے انچناکی خت امتفا نکا وت ہوتا ہے۔ انل
وقت اس بات کا ان ایشہہوتا ےک یگ لیف تک وج ےار ق۶ اگیکریا
ارت نہ ہو جا ۔کیونگ ا لے وقت می اگ رکوگی مین اسلا مکا سا تح شرد ےا
چا ہے ا لک بکاتا انا ب کیا داد چاہے سارک مر ایک ایا بار
اک یکوناہی سرزد ہوا جائس جا تکاخطرہ پیدا ہو جانا ےکی ا ںکاییررگل
ا کی سمااری ع کی نو اور عپادتذ لکو بر باد تہکردے۔ مین گے نکی
موق بر اس ام رک یکنک کیل یک وہ اسلام کا بد ن ےک رکا ساتجددے اور
کوئی ا وج ےی خی راسلاب یت ری ککوتقوبیت چپ ب۔ بے
سے ےل 28۔ےس سشسیسشے
صورتحال ا موںح پراورزیادہ ناک ہو اتی ہے جب خی اسلا یت ریکوں کے
متا لے می سکوئی اسلل ٹیپ یک موجودہواورمومنو ںکی لایس الد کے دی نکو
انکر نے کے بد نل ےکی دوسرے می ںتگ رہ ہوں-
دوس رما بات بیو ےکلہ جب مسی فرن کے اد نکر کا وق تآ جائۓ تو ال
وقت من کے لے سی دھان ھی نہیں ۔کبھ یسستی بی ستی میس وقتت ئل
جانا ہےاو لخد وکا میس د یکا ںکاتصور بد مق کی فیادینیل تھا۔
سارک را کی سوس اک کا حال می ےک ایک طرف منانقین ہیں ج بناوٹی عذر
کرد ہے ہیں اورسب جانن ہی کہ یھو فکہر سے ہیںگ رب یکر صلی
ان علیہ ۂلم ا نکی اہر بات کو نکر نکاتصورمعا فکرد نے ہیں ۔ک ول
ان سے م,أمید یک بن یکو ہی امخمانع کے وقت ایمان کے ناو سکاشوت
دی گے۔لیشن دوسری طرف بی جے من ہیں جواپنے یمان اوراخلائ کا
وت ال سے بلق باردے گے ہیں دوجوٹی با خیں نان ہنی کرتے۔
صاف صاف اپ کو مان لیے ہیں لیکن :ان کے ۔اتھاتا خت محائ یا
اتا ہ ےکہ بپادگی سوسا نی سے ا نکابائیکا ٹکرادیا جانا ہے۔اس لی سک
ان کے ایمان اورالائ کے پارے مم لکوئی شیہ پیر گیا تھب رصرف ال
ل ےک ہأھوں نے وہ کا مکیو ںکیا جو منا فقو ںی ک ےکر ن ےکا تھا۔ پچ رطف ب کہ
اس معا لے می ٹرش شان سے سزاد یا ہےاوریرو جن شان سے ائس س زاکو
لیے ہیں اور پوری جماعت جس شان سےلیڈرکی خا کے مطابق لکرتی ہے
15 الک ہربپپلد ظیر ہے لیڑراخچاکی مخت زادےر ہاہے لکن نقصرے اورنہ
نفرت بل ہگبری عبت کے ساتھمزادی جارہی سے بالگ ای طرح یس ےکوئی
مہربان با تصصوروار یی گوس زادے اوراس با ت کا خفیار ہ ےکرک بیٹادرست
بوجاۓ تو برا سے نے سے پچ ھانئے۔ پچ وس زا یت سے اضاکی بے جین
سے کیا ما لی موق پجگی اپ وب یرک ا طاعت کے بد ت ےکی
شی کادم دل می لآ جائے۔ت کی شکایت ہے۔نداپنے ہکا رنا مو ںکی داد
کی طلب راس جماع تکود یھ ےکہاس کے اندر اپے لیر کے اکا مک
اطاعتکاجز یں شزت سےموجودے۔ اد رکم ماکز فلا ننس ےتعاقات
مکردفے اتی تو معلوم ہواکہ پوریا تی میس نایدا تن شک کوگی شا سای
نتھا۔ اوراوظرمعائی کا اعلان ہوانذ پر بس بے جن ہوگیا ہویب ے
پچ جا اکر مارک بادیل ند
اطاحت رو کا ای نے جج رآن اپ ودال یں پدا ۸نا چاہتا
ہے:اورجودی نکی خاط رکا مکرنے والوں می انم برا وکاراودا وی الام رگا
لے موجودر ہنا لا زی ے۔تصوروا رود یئ کرد د یا ے کہا سے یادہ
بڑےتصوروا یف لبپھوٹ او لکرصاف پل گے ؛اورال ںکواس کے بے ہو لے پہ
اتا خت پا جار ہا ہے ۔لنکن اس بات برا کے اندرتقصہ پیراہوتاےاورتہ
تی ناگواریی کا اظہار ہوا ہے۔ مزا لے کے بععداس نے پادے پیا دن
کک انزائ یی کے سات زا یکی لیا نمی ای ککھڑی کے ل بھی اس کے دل
یش برخیالی پان ہواکراس کے ساتھ بڑکی زیادثی کاگئی ہےء اس کے لے
کادناموں پر پالی بچھیبردیاگیا ہے اس کے ایمان اود اخلائ پر شیک یا گیا ہے .
ای سد
3-.. تہ سو سس خث تد جج چ ش72
عالائددہ نہ بدمیت ہے اور نہ ال کے رسو لک محبت سے ا لکاول خالی ے-
نس نے جماعت می لکوئی سازش نمی ںکی ء لوگوں میس بدد ٹینیس پھیلا گی
دوسرو ںکواپنا ھم خیال بڑاکر جماعت کے اندرایک اور تھا تیا رک رن غکیکیشل
خی ںکیء بلہرانچاکی صبروکون کے ساتحس زاکو برداش تکیااور ہرآن اس أُمیر
مر اک کب ال لک کوتایکومحا فکیا جانا ہے۔ می دہ مالی طرزکل سے
کی جفیاد پر ال تھالی نے انی پیا رکھرے الفاظ می ان ہنرگو ںکی کی
قولیتکااعلان فربا اور بی سب سے بڑکیکامیالی ہے۔ ہردوچفل ہے جھای
کوکتا ہے جےاںڈدڑتھالی عطافرماۓ۔
دعویٰ ایمان کی حقیقت:-
مان ادداسلامکاووگی اکس نی ذ مر داریاں عا کرد تا ہے ال لک
وضاحت کے لے اس مو برصاف صاف جاد یگ یاکہدرائ٥ل اس وٹ یکی
یت بہ ےک اللدتھاٹی نے مومنوں سے ا نکیا چان اوران کے بال جن
کے بد لے میں خ بد لے ہیں (سورة تذ بآ یت اا۱) یما نکی نے وضاحت جب
تک ائچھی رب ذہنوں میںٹیٹی ہوئی نہ ہواور ہرموتح پرانمان کےساۓےٹہ
رہد رین کے تھا نے پوداکمر نے یلا ڑ] بی برتے گا۔ الد نتھالی نے
ایما نویک معاہرے ےت رکیا ہے ہوم کن ال تھا لی سےکرتادے-۔وہمعاہرہ
یہ ہےکہ فدہ ااٹس اود اپنا با لگویا خداکے پت پچ دی ہج اوداسس کے
بد لے میں دا کے اس وعر ےکوقبو لک لیا ےک مرنے کے بعد اس پھیشہ
ر نے والی زندگی یل اسے الل تھی جنت عطاف رما گا۔
چہاں کک ال تقیقتکاتتلی سے اس اطقبار سےا انسا نکا چان اور مال
سب پوایڈد یکا ہے اکیانے لن سب چتزو ںکو پیداکیاےاورودی أ نکا ک5
الیک ےامیصورت بیس بن ےکااپنا ہے ا یکیاجودہ ال کے پاتحد یچ ۔ اس
مر تو یپے او ول لی کاکوئی سوال پیداینئیس ہوتا۔ نین ایک یزاس سے
جواللتھالی نے اپنے ہربنرےکوعطائکردی ہے اورأسے پورااخقیاردیا ےک دہ
سے جیسے چا ےکام می لائئ ٠ دہ ہے اس کے اراے اوراخقیا رک یآزادی-
أ_ے اص ا۶گ آزاری د گئ ہس ےکہالل دک دی ہہوکی جان اور اس کے بن
ہوئے ما لکو دہ چا نے ال کی جی لیت صلی مکرتا رہے لی اک ود تقیقت میں
ہے اور چا ےل وہتوداۓ آپ ان پچڑو ںکا اك مین بے عالائکہ وہ ان
پچڑو ںکا ال کی اللتالی نے اأسے میاغقیاردیا ےکہدہ چا ےت غداے
منہ موک ای جن اور اپ ما لکواپٹی خوایش یا اپنے جیے دوسرے انسافو ںکی
خواپش کے مطابقی جس راہ پر چا ہے لگادے او راگ اذ اص٥ل مال ککو الک
ھی سک کے ال کی ہہوکی جان اوراس کے دپئئے ہوئے ما کو ای مان کک
ھی کے مطاب نام میس لا ۓ اوراستقیق ت کول یمر ےک دراصصل اس کے
پاکنا ج یھ ہے دہ ای رکی امانت سے اورودالن چزوں کے استعال می خودمتار
اورما ای ککی س شی تی رکتا تے۔
ارادےاوراخخقیارکی یتھوڑ یک یآ زادی دراص٥ل اس معا ےکی بنیاد ے٠
جے الد تھا ی نے اپ ےکم سے خر یدوفروخت فرمایا ےہ ارتا لی بندے ے
مطالہکرتا ےکہمیریی ہنی ہہوئی اماخت میں اگ رت باوجوداختیار کے خیاج تکا
روب اخقیار نکر ےگا - راس اما تکواسی طط رح ککام می لاۓگا شون رع
می می ہوق سے اس ذن دی کے بعد نے وی دایز ندگی می اتی ا
نت سےموازوںگا جن س کا نام جنت ے۔ اب ونس الند نا ٹی کے اں
مطا لی ےکوقو لک کے بہار ارک رتا ےکہدہا بن اورما لسرف الک مض
کےکا موں میں لگا ت ےگا اورااس کے بد نے وہ1 خر کی نز نلدکی میں الد سفت
نے پر رای سے وہ دراصسل موڑسن ہے اور ال کا ہے معاللہ سے الل تھا ی نے
خر یدوفروشت فر مایا ےا کے ایھا نکا اقرار ہے اور جونس اس مطا لی ےک
قول کی ںکرتا بلکمہاپٹی جان اور ما لیکوائ کی تی کے خلا فکام میں لان ےکا
فیصل۔کرتا ہے دہگو یا الد کے سا تج اس خر یروف روخت کے معا ےکوی سکرتا وی
کافر ہاو را کا می اکارکڈرے_
بک تو کک تیادبی کے لے جن لوکو ںک ون یکری لی او علیہ ےلم نگم
دیاتھادسب وولوک تھے جخھوں نے اپنے م لکن ہون ےکا ات ارکیاتھاکگو ارہ
ا تھے ہنھوں نے الللد کے سا تج اس خر پدوفروخت کے ما کو
کیا تھا جن سکاذکراد پر ہوالجان جب اس دکوکی کے امتما نکا ناک موق بات
ان یش سھ پلک ایی بھی نے جھاس امتان میں پپرے :أڑے اور
أُنھوں نے اپی جائن اود ما لیکو اڈ دکی راہ ٹس لگانے سے روک لیا۔ ان شش
زیادوتر دولوک تھے جو ناف تے۔ جن کے اما نکا دوک ی کھوٹا تما اور جن
مصلحت بادہا کی یج سے اسلائی اعت میکح سآ تھے لیک ن ھا سے
بھی تھے جن سے پیش یک ستی اورحفل کی وجر سے سرزدہو یی پناس
موق پان سب لوگوں پرگھ لکرتقیدکرنے سے بح نی صاف صاف چادیا
کہایھا نگ یہ مان لی کا نا ع یں ےک خداے اوزوہ ایک ہے بگہایمان
دراصل ما کیک ہے اور ال ط رع أسے ما تک مان نے کے بعدر اگ کوگی اپٹی جان
اور ما لیکو ا کی راہ یس لگادنینے سے گی راتا ہے اورا سے اس راہ کے وی
دوسرکی راہ می لگا نا ہے دراصل دہ مہا ب تکرتا ہےکہدہ اپنے اق ار می لھوٹا
ہے ایمان کےتمام مرعیو ںکواپنے ذکوٹ کی بر اص٥ل تقیقت بمیشہ اپنے سان
رھناچا بے اورایشرکی راہیٹ جدوجہدکرنے ےکی موق پگ ن جاناچا کے
عوام کی دینی تربیت:-
ابتراۓ اسلام کے وقت جولوک ا سج ری ککا ساتقھد دی کے لے آمادہ
ہدتے تھے دو دی لوک ہوتے تھے جن کے ولوں میں اسلا مکی سیا یگ رک رلتی
تھی اور ج با تکو پور طرب اک ےکر اسسلا م قب لک۷رتے یلین اب ج بکہ
اسلا مک اث اروں طرف بے لگا آبادیو ںکیآبادیاں فوع دفو ح اعلام
یش داٹل ہہونے گی اہر ےکران می تھوڑے بی لوگ ابی ہوتے تھے جھ
اسلا مکو و دیی رح کجھوکرایمان لاتے تھے زیادہ تر لوک دو ہوتۓے تے جواغیر :
میجوزیادوسو پے جے اسلا مکاساتھد دسینے کے لے تیارہوجاتے تے۔ بظاہرن
بیصورت حعال اسلا مکی تو تکا سب بک یاکیونکہ بزارو ںآ دئی اس میں شال
ہوتے جار ہے تھلنان ج بک ککو کرو اسلام کے تقاضو ںکواکچی ط رخ نہ
کت واورا ن تام الا تی نیو ںکوپوراکھر نے کے لئے تی رض ہوجواسلام اپے
اۓ والوں پر عائدکتا او درتقیققت ایاگ روہ اسلائی نظا مک یکروری کا
مم جھے۔۔- سے
باعث ہوتا ہے۔ کچی صورت حال اس وقت پیدا ہورج یی جن س کاچ نہ بج
انز وغزدہتوک کے موب ہگج یگیا تھا لاس موق پت ریف اسلائیکواں
ارول یکردری سے بچانے کے لئے ایک نہایت ام ہدایت یدگ کآبادە
مس سے پاجولوگ اسلام کے مرکزوں پ میں لا مھ یذ اورک وقبرہ۔اور یہاں
کر اسلائی تحلیمات اورا کی تخعلا کوگھی اوریغ اسلائیا رو نکو اپ
اندر جذ بک میں پھروائچل اکر انی انی بمتیوں میس عوا مک یلیم اورت بی تکا
انا مکر میں اک ملمانو ںکی پور یآ ایی سک اسلائی شعور پیا ہواورالڈد
تھالی کےا ام ےواقیت ہو_
ا موی اسایظیم سے مراددراصصل لوگو ںون لکنا ھن سکھا نی تھا
لگ تد ہق ھاکیلوگوں ٹل دی نک یبکھ پیداہواوران ٹل مہ بات پیا ہوجاۓے
کردوا سلائی اورٹیراسلائی زنرگیوں کےطربیقوں می میک ھی چا بیکام
کدناپڑھناسکھا نے کے بح کیا جا یا بخیراس کےکیاجاے۔ اصل مقصدد ین
کا غور پداکرنا ہونا چا بیے۔ پڑھنالکھناال کے لے ذربعہ ین سکتا ے۔
مقصکیس من سکتا۔ ا
دارالاسلامکی پقیسی کا واضم:اعلان
تو کک یہ مک یکا میالی کے بعدان سب لوکو کی امیروں پر پائی ریا جھ
انج یک یس لگائے ٹیشھے تھےک کسی نی وقت اسلا یت ری ککوکوئی اییادحکا
دوھناپڈھن جس کا مقصداسلا ہی شور پیر اکر نان ہو بلل جن سکا نیہ اسلائیشعور ےبھردئی ہو ود
میس بلہ جباات ے۔
۔ مس نے ٗی یجسے
چیا نہیں ےکا لکا اتی ہو جائگا۔ اب ایام لوگوں کے لے اس کے
سواکوئی ارہ باقی ندد وگ یاکردہاسلام کے داسن مس پا لی .اہ راگ رخوداس
نقی سے ابر ن اٹ میں و مغ سےکم ا نک یآ مد ہیں پا ال اسلام کے رک
یس ریگ ا ین۔
اس وق ت تق رآ تا عر بکی علومت ابل ایمان کے پا می شی اوران
کے مھا بے کے ل ۓےکوقی ایل لیا طاقت بات نین رہ یتھی۔اس لے اب وہ
وق تآ گیا تھا کہ اسلائیعوم تکی دای یا یی کا اتی اغلا عکزدیا جات ٤تَ
چنا نیو ہتسب ذ یل عومت میں پٹ کرد یگئی-
(الف )عرب سے شر ککوقلعمطادیا جا اور برا زامش رکا فظام بلک نت
کر کے عر بکو پمیشہ کے لے الع اسلائی مرک ہنا دیا جا ے ۔ ائ غو کے
لے مشرکن می ییٹقلتقی اختیارکی جاۓ اوران کے ساھذ یت معاہرے
ہیں ا نکٹخمککرنغکااعلا نگردیاجاۓ-
چا چپےووشٌ کےم وع ری ہسلی اط علیہ وملم نے حرت یی رشی ارڈ
نہ کےذر رھ تیوں کے ما ئگ میس اعلا نکرادیا 4+
(ا)جنت میںکوئی ایا 2 دافحل نہ ہوگا جو وین الام قجو لک نے سے
افارآررزے۔
(۴) انس سال کے بحدکوک مرک خاضرکعب کے کے لے دوے۔
(۳) بیت اللد کےگرد گے ہوک رطوا فکم رن ےک ینک یکواجاز تکہیں دی
جا ۓےگیا۔
لت ےت م ہہ رڈ
(۴) من لڑوں کے ساترسول الشکاسعاہرہباقی ہے اذدجنقھوںل نے اپ
معاہر ےکی مت کک غلاف ورز یہی ںی ہان کے ساتھ اس معاہر ےکی
عدتکک وی محامطاتر کے جا یں کے جن کے بارے بی معاہرہ ہوا ے_
لن جن اوکوں نے معاہرے کے باوجودا سلا ٹیپ کیک کےخلافسانشمیں
کی میں ا نک عکیاجا جاے۔
پ٭ یس اب ان کے لے صرف ارم ےکی مبلت باقی ہے اس مجلت کے-
اندر چا ہےتذوہمسلمافوں سےلؤکر ابی قسم تک فیصلاکرلیں با مک ک چو ڈکر چے
وا ٹا چھرسو پگ ےک اڈ کے وی نک وقبو لکر میں اود اسلائی فظام یس شائل
ہوا :-
ٍ٭ کت ےکا انام اوراں کی لی گل طود را ت حید کے چھ یل رے.
گی ۔ہشرکو ںکواس می ںکوکی شل نہ ہوگااورا بس می کوئی مش رکا ضرم ادان
ہونے پا ےگ بابش رک اس پا ککھ رکےقرجب ھت انے پانیں گے۔
++ہ
بالتوال ہاب
اوروفات
حج کے لئے روانگی:۔
بجرت کے دسومیں سا لآنحضرت صلی اور علیہ یلم نے رن کا ارادہفمایا۔
ذیقعدہ زاریش اعلا نکیا گیا ک ہآحضرت صلی اولدعلیہ یلم سی کے لے
ریف لے جار ہے ہیں۔ یف را معرب می کی لکفی ا ور اس مارک موت پہ
آتحضرتیلی اولدعلیہوملم کے سا تر اداكھر ن ےکی ساوت حاص لکر نے کے
شوق میں تام وع رب امن آیا.ذ کی قعد ہیآ جک تارقوں می شآپ مدریے سے
روانہہوۓ اور ذ گی اف ےکی تار کو کے وفقت کش ریف لےآ ےآ نے
کے بعد پیک ےکا طوا فکیااو رھ رمقامابرا ڈیم میں دورکعتنماز اداغرماگی مر
صفا کی پہاڑییا پتشریف لے گئے۔اورواں ےا کرمردہپتش ریف لاے۔
اوراس دوران برابر اٹ تھا ی کیم دا ربق اوردعا تی لکرتے رےطواف
اورصغاومردہک ی سی سے ار ہوک رپ نے جحعرات کےروزآ ٹھو یں مار کو
تاممسلمافوں کےس اتی مس قافربایا۔ دوسرے دن ۹ء کی الھک کی نماز
پڑ ھکرپ خی سے روانہ ہو ئے او رفا تتش ریف لاۓے ۔ بیہا ںآحضر تی
اللرعلیہ ول نے ووتار نی خطب رع پڑ اس شس اسلام اپنے پورے چادوجلال
سے
کےسا تحنمودارہوا۔ ال لے مم لآ بے نے بت سے اعم مور کے پارے میں
ہدااتد یی ۔ان ٹل سے یتسب یل ہیں ۔فرمایا:۔
حج کا خطیة:۔
ننس رن اہی کے تام وستور میرے رونوں پا اکن کے یچچ '
عر کی پراور یکو ری روگ فضیل یں نتم س بآ مکی ولا دجو اور
آنإئی ے بپراموۓ تے۔' ٠
نمسلمان ہمسلما نآ لی میس پھائی پھائی ہیں“
تھا رے غلام ا تھا رے لام !! جو خو دکھ کے ودی ا نکوکھطا و جوخود پووی
نک پہنائ“
”جاہلیت کےےتمام ون با لکردیے گے ۔ل(ا بک یکاہ پان خون
کابدلہ کات یل )اورسب سے پل یس اپنے نماندا نکا شون ء رہہ" پ0
اھر کے یکا خون پع لکرتا ہوں۔'
جاہلیت کے تمام سودیھی با لکردے گے (ا بک یکو کی سےسودکا مطالبہ
کرٹ ے کان کون )ااوزیجب ے پچ میس اپے خمانلدا یکا مود عباس مین
عبدالمطل ب کا سودہ پا لکرجاہوں _'“
عودتں کے مال میں خداسے ڈرو ھارائودتوں پراورکوق کا ین ہے
تھاراخوان اوھ رامال قیاصتکک کے لے ایک دوسرے پترام سے
اکیط رع مع رر مودلنا ء یہید اددیشمرقرام بے-
ال اقرام:
مریىعسمسمصص تھی مرچسسےمیت
”نتم جس ایک ہن زکچھوڑے جا ہوں اگرم نے ا سکو موی پل لیا نو
مگمراو نہد ہو کے اوردہ ہے اید یکتاب۔“
ای کے بعد آپ نے ہت سے أصو احکام شریعت ان فرماے۔ رین
یرف خطا کر کے و بچھا:-
مخ تم اکے یہاں جب یرے بارے میس لو چھاا ےگا وت مک اکہ و گے؟'“
حا نے عون لک یاک ہہ مکیں م ےک آپ نے خداکا پام بچچادیااوراپنا
فرش اداکردیاآ پ نےآحا نکی طرف انی ھی اورین بارش ہا_'' اےالر!
3گوا در ہنا سی مو تی برق رن پا کک یآیات :ازل ول٠
َليَوْم اَکُمَلس لَکُم دنم وَاَنْمَمُٹ عَلیْكُمْ نعمیی وَرَصِیُٔ
لَكُمْ الاسْلامَ دبا ہ*
ترجمهە بت رج یں زن حا رے لے دی کو لکردیا۔ اورآ ح تام
کم ردی او رگا رے لے اسلامکو سیت دن کے ان دکیا۔
ال کے مو پا تحضررتلی ال علیہ یلم نے کے تما مل ری خو وارے
کھاۓہ عطر کناچا ہے ا٣وت ہآ پان بی فرل اکا بج ےب
نے ال یکیو رجش جانا شایداں کے اھر ےئ کات انا
اسیا مو تن بآ پ نے تھا مسلمافوں سے بجی فرمیا:-
رجہ :- جولوگ اس وقتہم جود ہیں دہ( سب باقلا نکک با
دس جولو ج یس ہیں
سمےے جسجستھوو سے سے سے
بیماری:۔
صفااول ۸ ی۹ا رتارںن ت یک راج مارک بگھناساز ہوا۔ ہے پر یکا
دن تھا ۔ چر کے دن من میں شدت ہو ج بک فقوت لد یآ پ سوبر یش
تریف لاکرنخماز پھاتے رہے۔سب ےآ خر نماز جھآپ نے بعالی وہ
مخر بک نمازنیا۔م رش دددتھا۔ رد مال با ند کرش ریف لاۓ اورنماز بش
سور ٗالھرسلا ت۶ذ پڑنیا۔حخخاء کے وق تکنردریی بذ ھگئی اور پ جرتٹریف
ندلا گے اوف رم الو رنماز پڑ یں ۔ چنا نچ ےئی د نک حضرت ابویک ری
ال عنۂ نے نماز پڑعالی-
آخری خطبه اور هدایات:-
درمیان ش کیک دن طویعت چ جح آ پر ےل فیا سیف ااۓے
اور ایک خطبدیا۔ یآ پک زندگ یکا سب سےآخری ختھا۔آپ نے فرمیا:۔
”خدانے اپنے ایک بن ےگوا یا رعطاف رما اک چا ہےذ ودنا ک یتو ںکو
قو لکرے یا خداکے پان( آخرت یل ) جو یھ ہے ا سکوقو لکر نے لیکن
اکی نے حدااتی کے پا لکی زی قجو لکیں۔ بی نکر رت الوب رھ گی ےک
ال بل اشار وص ططرف ہے اورآپ ردپڑ ےآفحضرت نے ریف ایا:-
سن ےزیادہ میں نس کی دوات اور رفا شش کا عمون ہول وہ الوٹھر
ہیں ۔ گر یش دہا می شک یکوانی امت ٹس سےاپنادوست بناسکتا تو کرک نا ا
مین اسلامکارشنددذقی کے ل ےکاقی ے۔
اور پا کنالوقم سے پی یتقو موں نے اپے چتہرول اور بڑ رک ں تب ںکو
عباد تا وبنالیادمھ لق لیا تہکرنا۔ می تمکح سے جا تا ہوں رف ایا:-
”نعلال اورترا مکی بت می ری طرف نک جائے۔ یس نے وی ہن ری علال
کی ہیں جوخدانے علا لکی میں اوردجی یز تا مکی ہیں جوغدانے ھ ام کی ہیں-
ابی مت کی حالت مم ایک دنآپ نے ایل خماندا نکوظاط بک کےفرمیا:-
”اے نم رخداکی بٹی فا اورا ےکن دای پچ یچھی فی ! ےک رلو۔ جھ
خداکے یا ھا ر ےکا مآۓ میں یں خدا ےی اتا
ایک دن مرش کی تلیف زیاد وش یآ پکھی جا درمنہ پرڈال لیت اودکی
لٹ د یی اس حالات شی حضرت عا کیشررشی اڈ نہانے ز بالن مارک ے
بالفاظ سے :- 8
یوراورتصا ری رغدا یامنے ہو_أ نھوں ت اپ منہروں ۶ یروں کو
عحباد تگا دبنالیا“
پ نے حفرت عائشہ کے پا ۂبھی پچ اشرفیان رکھوائی یں اس بے
یٹ یکی حاات یش ایک بارفر مایا ”ھا کشردہاشرفیا ںکہاں ہیں ؟کیا خر اے
بدکمائن ہوک ےگا ؟ جا ئا نکش اکی رای خی را تک رو“
رفیق اعلیٗ کی طرف کوچ:-
مض م ں بھی زیادثی ہوائی وزج گی جس دن وفات ہوئییچنی دوش کے
:
دن۔اس دن بظاہ رید تکوسکو ن نیشن جیسے سے دن گیا آپ پ باربا نشی
طاری :ہو گی ۔ا عالت می ل1کشرز ان مبارک سےپیالفا ادا دتے رے۔
ُع الین اعم الله عَلَيهِمْ
ترجہ:-النلوگوں کے ساتھو جن بر خدانے انعامگیا_
او می فرماۓ :-
اللّهُمَ فی الرَقَیقِ اّغلیٰ
ترجدہ:-خداوند بڑےزنقی یں!
او یھی فرماتے :-
بَلِ الرَفِیٍِّ اّغلیٰ
اب اورکوک یس بن ردوبڈار ٹقی درکارے۔
بجی کے کے عالت غی رہد نےگی اور پاک عالم خرس مہ کٹ جگئی۔
الَّهُمٌ صَلِ غلیٰ مُحَمدِبَارِکَ وَمَلِم
سال دفا ت ن۱۱ھ ے ۔ رق الاو ل کا ید تھا_ دوش کا دن
عام طور پرمشمپور ہ ےک ہت در ۲ انی ۔ لیکن اس میں اختلاف ہے۔
مولا نا سیدر٣لیمان صاحب ندو یکی تن کے مطا یق ىہ رن الا ڈ لکی
بی جار تی۔
:
دوسرے دن ھی ریخی نک کیل ہوگی ادر شا متک جسدمبارک ای تم رے
یس جہا ںآ پ نے انتا ل فرمایا تھا پردخا کل دیاگیا۔
نک مَیّت وَإِنهُمْمَيَمونَ
الله وَاِنَا یه رَاحمُوْنَ
++ہ